خبریں

افسانہ : مقام / افسانہ نگار : بنت قمر مفتی

جلدی بات ختم کرو یار، تھک کر دفتر سے آتا ہوں۔ اب یہ وقت ملتا ہے آرام و سکون کا اور تم اپنی فضول باتیں کرنے لگ جاتی ہوں” میاں صاحب کااکتاہٹ بھرا لہجہ سن کر ردا کا دل اداس ہوگیا۔
"احمر آپ کو کیوں ہر وقت میری بات ختم ہونے کی جلدی رہتی ہے۔ فارغ ہی تو بیٹھے ہیں لیکن میری بات نہیں سن سکتے۔ دفتر سے آتے ہی کمرے میں گھس جاتے ہیں۔ ہمیں بھی تو آپ کاوقت چاہئے ۔ میں بھی تو دن بھر گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہوں۔ یہ ہی وقت تو ملتا ہے مل بیٹھنے کا، توکیااب آپ سے بات بھی نہ کروں۔”
"ہاں تو یار کوئی بہت ضروری بات ہو تو کرو۔ میں بھی تھکا ہوا آیا ہوں اب سارے دن کی روداد اور اپنی بے تکی باتیں سنا کر میرا ذہن مذید نہ تھکاو۔” احمر نے الجھتے ہوئے کہا
"آپ نے موبائل پر گیم کھیلنی یا مووی ہی دیکھنی ہے۔ اسی لئے آپ کو میری باتیں فضول لگتی ہیں” ” ردا روہانسی ہوکر کمرے سے نکل کر لاونج میں جابیٹھی.
آج اسے ابا بری طرح یاد آنے لگے. وہ ماضی میں کھو گئ، شام میں ابا افس سے تھکے ہارے آتے تھے اور کھانا کھانے لگتے توان کے کھانا کھاتے ساتھ ہی وہ اپنے سکول کی باتیں اور پڑھائی کے مسائل بتانے لگتی تھی۔ کبھی کوئی ریاضی کا سوال نہیں حل ہورہا تو کبھی انگریزی سبق کی پڑھائی کرنی ہوتی تھی۔ ابا ہمیشہ بہت صبر اور حوصلے سے سب سنتے تھے۔ پھر اپنے سکول کی ساری روداد سناتی تھی ۔ ردا اور اس کے چھوٹی بہنوں کی بھی یہ ہی عادت تھی۔ ماں جی تو بس ڈانٹ ڈپٹ کرتی تھیں۔ لیکن ابا نے کبھی کچھ نہ کہا ۔
ردا ابا کو یاد کرتے کرتے بچپن میں چلی گئی ۔ جب ابا چھوٹی بہن کے لئے بلا خرید لائے تھے اسے کرکٹ کاشوق تھا اور پھر سب بہنوں نے مل کر صحن میں کرکٹ کھیلنی شروع کردی۔ ماں جی غصہ کرتی رہتی تھیں کہ لو بھلا اب لڑکیاں کرکٹ کھیلیں گی۔
ابا کے دو بیٹے شیر خوارگی میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ لیکن کبھی بیٹا نہ ہونے پر کوئی شکوہ ان کی زبان سے نہ سنا تھا۔ پانچ بیٹیاں تھیں کبھی کبھار اماں کے جملوں میں بیٹا نہ ہونے کی حسرت چھلکتی تھی۔ ابا نے کبھی کوئی احساس نہیں دلایا تھا کہ انہیں بیٹا نہ ہونے کا ملال ہو۔
ایک دن ابا چھوٹی بہن کی فرمائش پر سائیکل خرید لائے ۔ گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوگئی تھیں بس سارا دن بہنیں سائیکل کے ساتھ کشتی کرتی رہتی تھیں۔ پائنچہ چین میں پھنس جاتا تھا اس پر گریس لگ جاتی تھی لیکن سائیکل سیکھنے کا جنون کم نہ ہوا نہ ہی ماں جی کی ڈانٹ کم ہوئی۔ نیند کے جھونکے نے ردا کو ماضی کی یادوں سے نکالا۔
وہ کمرے میں آئی تو میاں صاحب ہینڈز فری لگائے موبائل میں مصروف تھے۔ ردا کو پھر سے خفگی نے گھیر لیا۔ویسے ابا کی بھی ہمت تھی کبھی ہمیں ٹوکا نہیں کہ میں تھکا ہوا ہوں خاموش ہو جاؤ۔۔وہ ابا کو یاد کرتے کرتے سو گئی۔
دن بھر گھر کے کام کرتے کرتے دوپہر تک ردا بری طرح تھک گئی تھی۔ بچے سکول سے آئے، انہیں کھانا کھلایا اور کچھ دیر سونے لگی ۔ بڑی بیٹی ہما یونیفارم بدل کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی۔” ماما پتا ہے آج سکول میں کیا ہوا ” بارہ سالہ ہما نے سکول کا قصہ سنانا شروع کیا ۔
ردا کچھ دیر ہوں ہاں کرتی رہی نیند سے اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ اسے ہما کاقصہ انتہائی بے تکا لگ رہا تھا۔ آخر وہ بول پڑی ” بیٹا یہ فضول باتیں ہم کسی اور وقت کرلیں کچھ دیر خاموش نہیں ہو سکتی” ردا نے یہ کہ کر کروٹ بدل لی۔ ہما منہ بسور کر کمرے سے نکل گئی۔ اچانک ہی ردا کو رات کی بات یاد آگئی ایسے ہی احمر نے کہا تھا اور اس کا دل ٹوٹ گیا تھا اور اب اس نے بھی اپنی بیٹی کا دل توڑ دیا ہے۔
اف یہ کیا کردیا میں نے، ابا سے جڑی سہانی یادیں ہیں میرے پاس، لیکن اپنی بچی کو میں تلخ یادیں دے رہی ہوں ۔
ہم نہیں سنیں گے بچوں کو تو بچے ہم سے دور ہو جائیں گے۔احمر سے میں بھی بلاوجہ ناراض ہوگئی، میری غلطی تھی کہ وہ باہر سے تھکے ہوئے آتے ہیں اور میں ادھر ادھر کی باتیں کرکے ان کو بلاوجہ تنگ کرتی ہوں۔
مجھے بھی موقع دیکھ کر بات کرنی چاہئے۔ ابا جیسا ظرف کہاں سے لاؤں سوچ کے در وا ہوئے اور بہت سی گتھیاں سلجھنے لگیں۔
پھر سے ابا کی یاد نے آنکھیں نم کردیں۔ مجھے اپنی اولاد کے لئے ابا جیسا دوست بننا ہے ۔ ردا فورا آٹھ کر لاونج میں آئی تو ہما منہ بسورے اداس بیٹھی تھی۔
اس نے بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے پیار سے اپنے کمرے میں لے جاتے ہوئے کہنے لگی ” چلو آؤ ، مجھے بتاؤ پوری بات آج پھر سکول میں کیا ہوا تھا۔” ہما کے چہرے پر رونق دیکھ کر ردا کو محسوس ہوا اس نے اپنا مقام صحیح معنوں میں پا لیا۔ شام میں احمر کے آنے پر اس نے مسکرا کر استقبال کیا تواحمر بھی مسکرادیا۔
"چلو شکر ہے تم اب ناراض نہیں ہو ورنہ صبح تمہارے منہ پر بارہ بج رہے تھے میں سوچ رہا تھا اب گھر جاتے ہی بیگم کی ناراضگی کا سامنا ہوگا” احمر نے ہنستے ہوئے کہا
"دراصل ابا کے ساتھ ہمارا روز کا معمول تھا سب باتیں کرنا وہ نہ سنتےتو شاید زندگی میں کسی کے ساتھ کی کمی محسوس ہوتی۔اماں تو گھر کے کاموں میں الجھی رہتی تھیں ۔مجھے احساس ہوا آپ تھکے ہوئے آتے ہیں اور میں ایسے ہی آپ کو پریشان کرتی ہوں آپ فریش ہو جائیں میں چائے لے کر اتی ہوں۔” ردا کمرے سے جانے لگی
"اچھی بات ہے تمہیں احساس ہوگیا۔” احمر نے پرسکون اندازمیں کہا ۔
"کس بات کا "ردا نے مصنوعی لا پرواہی سے کہا
"کہ میں تمہارا ابا نہیں یوں "احمر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
” کاش آپ کو بھی احساس ہو جائے کہ آپ اپنے بچوں کے تو ابا ہیں نا” یہ کہہ کر ردا چائے بنانے چلی گئی اور احمر اس کے جملے میں کہیں کھو گیا۔
ردا چائے لے کر لاونج سے گزری تو احمر کو بچوں کے ساتھ باتوں میں مصروف بیٹھا دیکھ کر حیرت سے مسکرا دی۔
وہ بھی دور کہیں اپنے بچپن میں لوٹ گئی جہاں ابا اسکی باتیں سن کر مسکرا رہے تھے۔

Author

Related Articles

Back to top button