عمران خان کو سزا سنانے والے جج ٹرولنگ کی زد میں
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو گذشتہ ہفتے توشہ خانہ کیس میں سزا سنانے والے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ سیشن جج ہمایوں دلاور اس وقت سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔
ٹوئٹر پر چلنے والے ٹرینڈ میں ان کے حق میں تو گنی چنی آرا ہی سامنے آئی ہیں البتہ ان کے خلاف باقائدہ ایک مہم کا آغاز نظر آ رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنو سے تعلق رکھنے والے جج اس وقت ایک تربیتی کورس میں حصہ لینے کی غرض سے برطانیہ کی ہل یونیورسٹی میں موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی بہت سی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ حامی کس طرح انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔
کچھ ویڈیوز میں ان کے لیے انتہائی غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کی گئی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جج ہمایوں دلاور کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔
اس حوالے سے برطانیہ کے ہل ڈیلی میل نے بھی ایک خبر لگائی جس میں یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: ’یونیورسٹی آف ہل 2014 سے پاکستانی ججوں کے لیے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی تربیت چلا رہی ہے۔ اس کے تربیتی کورس کے لیے آںے والے ججوں کا انتخاب
اسلام آباد ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیا ہے۔ ججوں کے انتخاب میں یونیورسٹی کا کوئی کردار نہیں ہے۔‘
ہل ڈیلی میں یہ بھی لکھا گیا کہ جج ہمایوں دلاور یونیورسٹی میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تربیتی کورس میں شرکت کر رہے ہیں۔ عمران خان کو بدعنوانی کے الزامات میں سزا سنائے جانے کے چند ہی دن بعد وہ برطانیہ چلے گئے تھے۔
ہل ٰڈیلی میل کی خبر کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل بھیجنے والے جج کے دورے کے خلاف منگل کو یونیورسٹی آف ہل کے باہر مظاہرین جمع ہوئے۔
’عمران خان کے حامیوں نے جھنڈے لہرائے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس میں جج دلاور کی میزبانی پر یونیورسٹی پر تنقید کی گئی۔
’مظاہرین نے اس تقریب کو منافقانہ قرار دیا اور ملک کے سابق وزیراعظم کی رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں 2022 میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس سال مارچ میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔‘
آں لائن اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر لکھے تحریروں میں جج کو ’انصاف کا قاتل‘ قرار دیا گیا تھا، جبکہ مظاہرین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مظاہرین میں سے ایک نے کہا: ’جج دلاور کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر برطانیہ میں چھٹیاں گزارنے کا انعام دیا گیا ہے۔ آپ کو شرم آںا چاہیے، واپس جاؤ۔‘
جج ہمایوں دلاور کو جاننے والوں کی رائے
سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ ارشد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جج ہمایوں دلاور اپنے حلقے میں ایک ایماندار اور مضبوط عدالتی افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ہمایوں 2015 سے مختلف عدالتی امور انجام دے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور سابق جج سپریم کورٹ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کے عزیز ہیں۔
راجہ ارشد نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مضبوط اعصاب کا جج ہی دے سکتا تھا اگرچہ ہمایوں دلاور سے پروسیجرل غلطیاں ہوئیں لیکن ان کا فیصلہ اپنی جگہ پر شفاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آج کل وکلا ججوں پر دباؤ ڈالتے ہیں ایسی صورت حال میں ججوں کے لیے عام سے مقدمے کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
’ہمایوں دلاور نے انتہائی مشکل صورت حال میں فیصلہ دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایک مضبوط انسان ہیں۔‘
جج ہمایوں دلاور کے ساتھ یہ سلوک جائز ہے؟
اس حوالے سے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اور رکن پاکستان بار کونسل سید امجد شاہ نے انڈپینڈٹ اردو سے اپنے خیالات ژیئر کرتے ہوئے کہا: ’یہ انارکی ہے، یہاں ہزاروں مقدموں کے روز فیصلے ہوتے ہیں کیا جس کے خلاف فیصلہ ہو وہ جلوس نکالے، اس کامطلب تو یہ ہے کہ ہم سب قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمایوں دلاور نے ایک فیصلہ دیا جس کے خلاف آپ کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔ آپ اپیل کریں فیصلہ غلط ہو گا تو ختم ہو جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے معاشرے پر جو ظلم کیا وہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس دماغ نام کی چیز نہیں ہے وہ ہر معاملے پر شور کرنے نکل جاتے ہیں۔ ’نہ انہیں قانون کا علم ہے نہ عدالتوں کے تقدس کا ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔‘
ایڈوکیٹ سپریم کورٹ سابق جج ہائی کورٹ اور سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’کوئی بھی جج کسی بھی لیول کا ہو آپ ان کے فیصلے پر تو تنقید کر سکتے ہیں لیکن ان کے اس فیصلے کے حوالے سے ان کی ذات پر تنقید نہیں کر سکتے۔ آپ کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔
’اگر ہائی کورٹ واقعی یہ دیکھے کہ انہیں ڈیو پراسیس اور ڈیفنس کا پورا موقع نہیں دیا گیا تو ایسی صورت میں وہ فیصلے کو کالعدم کر کے جج کو ریمانڈ بھی کر سکتے ہیں کہ آپ اس کیس کو دوبارہ دیکھیں یا کوئی اور جج اس کیس کی سماعت کرے۔‘
ان کے مطابق مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا کہ اگر آپ کی پسند کا فیصلہ نہ آئے تو آپ سوشل میڈٰیا پر ان کی ٹرولنگ شروع کر دیں یا گالیاں دینا شروع کر دیں۔
’وہ اگر کسی دوسرے ملک میں ٹریننگ لینے گئے ہیں تو آپ وہاں ان کی گاڑیاں روکیں اور ان کی بے عزتی کریں۔
’جس ملک میں آپ یہ سب کر رہے ہیں وہاں لوگ کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم اپنے ججوں کے لیے کس طرح کا رویہ رکھتے ہیں؟ یہ آپ کے اپنے ملک کی بدنامی ہے۔‘
کیا ماضی میں ایسی مثال ملتی ہے؟
اس حوالے سے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اور رکن پاکستان بار کونسل سید امجد شاہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں میاں نواز شریف کی نااہلیکے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ایک مہم چلی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سانئے جانے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ظلم ہو گیا کہ انہیں غدار قرار دے دیا گیا۔‘
اس کے علاوہ اس وقت کے وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔
سید امجد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھی ججوں کو گالیاں نہیں دی گئیں۔ ’ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے ججوں کو امیونٹی حاصل ہے وہ غلط فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیل داخل کر دیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ سے عمران خان کی بریت کی صورت میں کیا نون لیگ والے اس جج کے خلاف شروع ہو جائیں گے۔ ’ان کے دروازے پر نعرے ماریں، ان کے بچوں کو سکول نہ جانے دیں اور انہیں باہر نہ نکلنے دیں۔ یہ تو معاشرے کی تباہی کی طرف ہم چلے جائیں گے۔‘
ایڈوکیٹ سپریم کورٹ شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ماضی میں بہت سے ایسے فیصلے ہوئے جو ہمیں بھی معلوم تھا کہ غلط ہوئے، ہم ان پر تنقید کرتے ہیں لیکن ایک جائز حد تک۔
’جب تنقید تضحیک میں تبدیل ہو جائے تو پھر آپ لائن کراس کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے بھی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’بھٹو صاحب نے کبھی گالی نہیں دی وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ آپ جانبدار ہیں۔
’یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا تو کیا پیپلز پارٹی نے حملے کرنے شروع کر دیے یا ان ججوں کے خلاف ٹرینڈز چلانے شروع کر دیے تھے، یہ خطرناک ٹرینڈ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایک غیر منظم معاشرہ بنتے جارہے ہیں جہاں جس کے منہ میں جو بات آتی ہے وہ کر دیتا ہے۔
’اب سوشل میڈیا پر جو ٹرینڈ چلا ہے اس میں کسی ٹویٹ پر آپ اپنی رائے کا اظہار کر دیں تو وہ آپ کا کیا حشر کریں گے یہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ‘




