اُردو ادببچوں کا ادبکہانی

قلم سے محبت / حمیرا جمیل

اقبال ریسرچ انسٹیٹیوٹ، لاہور

آفاق کی قلم سے محبت قابلِ دید تھی. وہ اپنے نازک ہاتھوں میں قلم پکڑ کر جاذبِ نظردکھائی دیتا تھا. اُس کی عمر صرف پندرہ سال تھی. وہ اپنے ہم عمر بچوں سے بہت مختلف تھا. اُس میں خلوص اور اپنائیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا وہ ہمیشہ ایسی دلچسپ اور مضحکہ خیز باتیں سناتا کہ سننے والے حیران رہ جاتے تھے.اُس کی باتوں میں ایک الگ چاشنی بھری ہوئی تھی.اُس کو اللہ تعالیٰ نے ذہین، دردِ دل رکھنے والا بنا کر دنیا میں بھیجا تھا. دلشاد احمد بیٹے کی قلم سے محبت اور عقیدت کو مذاق میں ٹال دیتے تھے. وہ ہمیشہ گھر والوں سے یہی کہتا تھا.

"یہ قلم نہیں بلکہ میری پہلی اور آخری محبت ہے”
آپ انسانوں سے محبت کی بات سمجھاتے ہیں. میں تو چیزوں سے بھی محبت کرنے کا قائل ہوں. ہر چیز کے احساسات اور جذبات ہوتے ہیں. محض سمجھنے کے لیے دل چاہیے. ایک ایسا دل جو احساس کرنے والا ہو.
ہمیشہ کی طرح آفاق نےاسکول سے گھر آکر معمول کے مطابق ہوم ورک کرنے کے لیے قلم ہاتھ میں تھاما.ایک عجیب سی روشنی کمرے میں نمودار ہورہی تھی.
 "آفاق کاچہرہ کمرے میں چراغ کی مانند روشنی بکھیر رہا تھا.”
 یہ قلم عام نہیں تھا بلکہ چچا نے خاص طور پر اچھی اور پائیدار لکڑی سے بنوایا تھا. قلم پر بنے نقش و نگار خوبصورتی میں اضافہ کررہے تھے. چچا نے یہ قلم سالگرہ کے موقعہ پر پیش کیا تھا.وہ بطور تحفہ قلم وصول کرنے پر بے حد خوش تھا.
آفاق کئی دنوں سے سوچ رہا تھا. چچا سے ملاقات کی جائے. چچا اور بھتیجے کی محبت بھی لاجواب تھی. وہ چچا کو اپنا بہترین دوست کہتا تھا. ملاقات کے بہانے اکثر بغیر بتائے گھر سے نکل جاتا تھا. آج بھی ایسا ہی ہوا…… اسکول سے چھٹی ہوتے ہی فوراً چچا کے گھر کی جانب نکل پڑا. چچا کے گھر کا فاصلہ زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدل ہی چل پڑتا تھا. چند قدم دور جا کر خیال آیا کہ میرا قلم کہیں کمرہ جماعت میں تو نہیں رہ گیا. وہ ابھی خیال میں ہی تھا کہ اس نے کندھے سے بستہ اتارا اور سڑک کنارے بیٹھ گیا.
"تپتی دوپہر اور چہرے سے پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا.”
 جلدی میں بستہ کھولا اور کتابیں، کاپیاں اور ضرورت کی چیزوں کو بار بار دیکھنا شروع کیا. لیکن ہر دفعہ افسردگی کا سامنا کرنا پڑتا. تقریباً گھنٹے سے زائد وقت ہو چکا تھا. تکلیف دہ مشقت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھی.
آفاق نے مدہوشی کے عالم میں واپسی کا فیصلہ کیا. اُس کو یقین تھا کہ قلم اسکول میں ہی کہیں گرا ہوگا. اس لیے اسکول کے راستے کی طرف دوبارہ چلاپڑا .ممکن ہے میرا قلم مل جائے.
"پانچ منٹ کا فاصلہ پانچ گھنٹے کا لگ رہا تھا.”
وہ جب اسکول کے دروازے تک پہنچا….. دروازہ بند دیکھ کر مزید پریشان ہوا.
” آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل رہے تھے. وہ سرد آہیں بھر رہا تھا. جسم بالکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا.”
آفاق اسکول کے دروازے کو ٹیک لگا کر اونچی اونچی آواز میں روتا رہا. والدین انتظار میں گھڑی کی سوئیاں دیکھ رہے تھے. آخر کار خود اسکول کی طرف لپکے. اسکول کے باہر دیکھتے ہیں کہ بیٹا بے ہوش پڑا ہے. اردگرد لوگوں کا ہجوم جمع ہے. وہاں موجود تمام لوگ ہوش میں لانے کی کوشش میں مصروف ہیں. اچانک دلشاد احمد دیکھتے ہیں.
"آفاق نے نہایت مضبوطی سے قلم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہاتھ میں دبا رکھے ہیں.”
حالانکہ قلم تو ٹوٹ چکا تھا. لیکن قوی امکانات موجود تھے کہ قلم دوبارہ ٹھیک ہوجائے گا. اسی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے. اُس نے قلم پھینک دینے کے بجائے ہاتھ میں پکڑے رکھنا مناسب سمجھا. بیٹے کی قلم سے لازوال محبت کو دیکھ کر دلشاد احمد اپنے آنسو نہ روک سکا.

Author

Related Articles

Back to top button