
نثری و شعری مکالمہ
"آم اور اشعار میں اک نسبت ہے۔
ایک زبان پر رس گھولتا ہے،
دوسرا دل میں۔
اور اگر کہیں تم بھی ساتھ ہوتے،
تو مزہ گویا مکمل ہو جاتا۔”
جون کی تپتی دوپہر ہو، پنکھا آہستہ آہستہ ہانپ رہا ہو، اور باورچی خانے سے آم کے چھلنے کی مہک آتی ہو — تو سمجھ لو، موسم صرف گرم نہیں ہوتا، "غالب زدہ” ہو جاتا ہے۔
یہ وہ مہک ہے جو وقت کو چند لمحوں کے لیے روک لیتی ہے۔ آم کی مٹھاس جیسے زبان پر نہیں، یاد میں گھلتی ہے۔
اور جب یاد آتی ہے تو تم یاد آتے ہو…
تم — جو آم کے ساتھ غالب کے عاشق بھی ہو، اور شوخی میں غالب کو مات دینے کی نادان خواہش بھی رکھتے ہو۔
سچ کہوں؟
آم اور غالب، دونوں فقط ذائقہ نہیں… مزاج ہیں۔
آم کھانے کے بعد چپ رہنے والے لوگ، غالب کی غزل کو خامشی سے پڑھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ دونوں کا مزہ تبھی آتا ہے جب کچھ بولا جائے، کچھ چھیڑا جائے، کچھ مزہ لیا جائے۔
غالب کو آموں سے کیسا عشق تھا، یہ ان کے خطوط سے جھلکتا ہے۔
دوستوں سے آم منگوانے کی ضد، ان کے معیار پر بحث، اور دشمن کی طرف سے بھیجے گئے آم پر فقط "آم اچھے ہوں تو دشمنی معاف” جیسے فقرے — یہ سب شوخی نہیں، فن ہے۔
کیا خوب کہا تھا انہوں نے:
"ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے”
ہم بھی جانتے ہیں، آم صرف پھل نہیں…
یہ ان لمحوں کی نشانی ہے جب تم تھے، اور تمہارے ساتھ ہر آم پہلی بار جیسا لگتا تھا۔
اب جب تم نہیں… آم بھی وہ آم نہیں رہے۔
(نظم)
"تم ہوتے تو…”
تم ہوتے
تو آموں میں کچھ اور ہی بات ہوتی،
جادوئی دن ہوتا، طلسمی رات ہوتی۔
رس بولتا، باتوں میں گھلتی ہنسی،
اور شاعری تمہاری یاد کی سوغات ہوتی۔
اب آم تو ہیں،
مگر ذائقہ کہاں؟
تم بن یہ موسم
بس ایک ادھوری سی داستاں ہے۔
ہم چپ چاپ گٹھلی چباتے ہیں،
اور دل کی زباں پر
اب بھی تمہارا بیاں ہے۔
تم ہوتے
تو آنکھوں میں شوخی بھی رہتی،
اک غزل آم کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی۔
آؤ نا…
کہ موسم بھی گانا چاہتا ہے،
ورنہ یہ گرمی
خاموشی میں پگھلتی رہتی ہے۔
یقین جانیے، آم کا اصل لطف تب ہی تھا جب تم ساتھ تھے۔
اب جو آم آتے ہیں، تو ذائقہ تو ہوتا ہے — پر وہ بےساختہ ہنسی؟
وہ ایک دوسرے کو چمچ سے آم کھلانے کی بچگانہ ضد؟
وہ "بس ایک اور آخری!” کہنے کے بعد تین آم مزید کھانے کی معصومیت؟
وہ نہیں۔
اب صرف غالب رہ گئے ہیں…..
اور وہی کہتے ہیں:
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے”
اے تم —
جن کے ساتھ آم کھانا غزل سننے جیسا ہوتا تھا،
اور جن کی ہنسی آم کی مٹھاس میں گوندھی ہوئی تھی…..
تم لوٹ آؤ۔
آم تو ہر سال آتے ہیں،
پر غالب کا موسم….. صرف تمہارے ساتھ جچتا ہے۔




