حدود ، روایات،تخلیق اور گل ارباب کی علمی مزاحمت/ انٹرویوور:سیدہ عطرت بتول نقوی

گل ارباب اردو ادب کی ایک ممتاز اور باوقار تخلیق کار ہیں جنہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، ناول نویسی اور ادبِ اطفال جیسے متنوع اصناف میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی گل ارباب نہ صرف خیبر پختونخوا کی ادبی فضا میں ایک خوشگوار اضافہ ہیں بلکہ اردو زبان کے قارئین کے لیے بھی ایک اہم تخلیقی آواز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
وہ اب تک تیرہ (13) کتب کی مصنفہ ہیں، جن میں افسانوی مجموعے، ناول، شعری مجموعے اور بچوں کے ادب پر مشتمل تحریریں شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف فکری پختگی اور جذباتی گہرائی دکھائی دیتی ہے بلکہ زبان و بیان کی نفاست بھی نمایاں ہے۔
ادبِ اطفال کے لیے ان کی تحریریں بچوں کے ذہن اور تخیل کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ تربیتی پہلو بھی رکھتی ہیں، جو اُن کی ہمہ گیر ادبی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
گل ارباب کی ادبی خدمات کو مختلف ادبی حلقوں، رسائل، اور قارئین نے سراہا ہے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، پراثر اور قاری کو متاثر کرنے والا ہے۔ وہ اردو ادب میں ایک متحرک، فعال اور مخلص ادیبہ کے طور پر جانی جاتی ہیں
1. السلام علیکم! گل صاحبہ کیسی ہیں،؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔ الحمدللہ میں ٹھیک ہوں اور آپ کی شکر گزار کہ کہ یہ موقع دیا کہ اپنے بارے میں کچھ لکھ کر خود سے ملاقات کر سکوں زندگی اس قدر بھاگ دوڑ میں بیتی جا رہی ہے کہ خود سے ملاقات کا وقت بھی خود سے لینا پڑتا ہے اور خواتین کی ترجیحات میں عموماً اپنے سوا سب رہتے ہیں گھر ٬ بچے٬ خاندان لکھنا لکھانا ۔۔۔ پڑھنا اور پھر زیادہ وقت سوشل میڈیا پہ خرچ ہوجاتا ہے اور تو گل سے ملنے کے لیے جو وزیٹنگ کارڈ بھیجتی ہوں وہ دیکھتی ہی نہیں بنا پڑھے وہ کارڈ واپس کردیتی ہے ۔
2. سب سے پہلے اپنے بچپن، خاندانی پس منظر اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب : 2
آپ کو یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ گل آپ کیوں پیدا ہوئیں اس طرح مجھے اپنی تھوڑی سی تعریف کرنے کا موقع ہی مل جاتا ہے خیر ضروری تو نہیں جو آپ پوچھیں تو صرف اس کا ہی جواب ملے ۔۔۔ یونہی فرض کرلیتے ہیں کہ آپ نے پوچھ ہی لیا یہ سوال بھی ۔
میں پیدا ہوئی کہ گاؤں کے سادہ سے اس دو کمروں والے گھر میں کھنکتے قہقہے گونجیں لیکن ایسا نہ ہوا قہقہوں کو سسکیوں نے دبا دیا
میں اس لیے پیدا ہوئی کہ کوئی ایسی بھی اس ماحول سے اٹھے جو سہتی ہے وہ لکھ کر کہتی رہے کیونکہ مجھ سے پہلی سہتی تو تھیں کہتی نہیں تھیں
تاکہ اپنے دائرے میں رہ کر دائرے کے اندر کے دکھ بھی لکھ سکے
اپنی حدود میں رہ کر کوشش کر سکے کہ اس دائرے کو ذرا سا بڑا کیا جا سکے کیونکہ ایک حد سے آگے زندگی جتنی بھی پرکشش لگتی گناہ سمجھی جاتی بغاوت یہ نہیں کہ آپ اپنی حدوں سے باہر نکل جائیں بغاوت تو یہ ہے کہ آپ گنجائش بڑھاتے رہیں دھیرے دھیرے غیر محسوس انداز میں ۔۔۔ اور اگر میں پیدا نہ ہوتی تویہ کوشش کرنے والی کوئی نہ ہوتی سو میری آمد دوسروں کے لیے اچھا شگون ہے میرے بعد والیوں کی حدیں بڑھ چکی ہیں
اب آتی ہوں سوال کی طرف تو جناب میں پشاور کے ایک چھوٹے سے گاؤں لالہ کلے میں پیدا ہوئی ۔۔۔ بچپن ملا جلا گزرا متوسط طبقے کی ایک کم عمر ماں کی پہلی اولاد تھی سو بچپن سے ذمہ داریاں سر پر پڑیں ۔۔۔ جبکہ میری فطرت میں ذمہ داری کی مقدار بہت ہی کم تھی
اس لیے کبھی اپنی مرضی سے اور کبھی امی کی مار سے گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالا ۔۔ گھر میں
روایتی پختون ماحول تھا
پڑھائی چچا کی خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئی
سکول سے اٹھا دیا گیا کہ چچا کے دشمن کہیں بھتیجی کو اٹھا کر نہ لے جائیں
پرائیوٹ پڑھائی جاری رکھی اور سکول جانے والی سہیلیاں جو سبق ایک دفعہ پڑھ کر سیکھ لیتی تھیں وہ مجھے دس بار یاد کرنا پڑتا تھا کہ نہ استاد نہ ہی مل جل کر پڑھنے کا ماحول ۔۔۔ سو بچپن کی یادیں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہیں آج بھی یاد ہے جب دروازے کی ہلکی سی مسکراہٹ جھری سے اپنی ہم عمر سہیلیوں کو سکول یونیفارم میں سکول جاتے دیکھتی اور حسرت بھری آہ بھر کر دعا کرتی کہ دنیا سے لفظ دشمنی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔۔۔ افسوس کہ آج تک یہ دعا قبول نہیں ہوئی
تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول میں ہی دوسری کلاس سے بند کردی گئی
لیکن میں نے پرائیویٹ پڑھائی جاری رکھ کر ریگولر کلاس فیلوز کے ساتھ ہی بورڈ کے پیپر دے کر پرائمری پاس کی پھر پرائیوٹ ہی میٹرک بھی پشاور سے ہی کیا اور پھر ایف اے سے پہلے شادی ۔۔۔ آگے کی تعلیم شادی کے بعد حاصل کی
اساتذہ میں سے کوئی کیسے متاثر کرتا جبکہ کسی سے پڑھا ہی نہیں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں خود ہی اپنی استاد رہی ہوں میں نے خود کو پڑھایا بھی ہے اور خود کو ڈانٹا بھی سزا بھی دی اور کبھی کبھی جب تھک جاتی تو خود کو جادو کی جپھی اور تھپکی بھی دی ہے
2. ادب سے شغف کب اور کیسے پیدا ہوا؟ شاعری، افسانے یا کالم,کون سا اظہار سب سے پہلے شروع کیا؟
شروعات یقیناً سبھی کی مطالعے سے ہوتی ہے میری بھی پڑھنے سے ہوئی
میں نے ابتدا ابو کے کہنے پہ بہشتی زیور سے کی
بقول ابو کے یہ کتاب پر بیٹی کو ضرور پڑھنی چاہیے لیکن شائد ابو نے خود یہ کتاب نہیں پڑھی تھی کیونکہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ نو سال کی بچی اتنے بڑے بڑے مسائل سے سیکھے گی نہیں بلکہ ڈرے گی چند دن تو ابو کی خوشی کے لیے کتاب پڑھتی رہی لیکن پھر جب خوابوں میں سانپ اور بچھو قبر کے عذاب کی صورت میں ڈرانے لگے تو ابو کی خوشی کو اپنے ڈر پر قربان کرنے کے بارے میں سوچ لیا
سو بہشتی زیور میں چھپا کر عمرو کی کہانیاں پڑھا کرتی تھی ۔۔۔ پھر وہی جنوں پریوں کی کہانیوں کے بعد عمران سیریز شروع کی اور پھر پڑھتی ہی گئی یوں ادب اطفال سے شروعات کی اور پڑھتے پڑھتے مجھے لگنے لگا کہ میں ان کہانیوں سے اچھی کہانیاں بنا سکتی ہوں
پہلے پہل تو کاپیوں میں کہانیاں لکھتی اور سہیلیوں کو پڑھ کر سناتی اور ساتھ قسمیں بھی کھانا پڑتیں کہ یہ میں نے لکھی ہیں لیکن کہانی سن کر سب کی آنکھوں میں یہ بات لکھی ہوتی ” چل جھوٹی “ مجھے ان کو یقین دلانے کے لیے کہانیاں اخبارات میں بھیجنی پڑیں لیکن ابو کی ناراضگی کے ڈر سے اپنا قلمی نام اختیار کرنا پڑا
جب ایک مقامی اخبار میں بچوں کے صفحے پر کہانی چھپی تو پھر بھی قسمیں کھا کر یقین دلانا پڑا کیونکہ اس میں فوزیہ آمنہ نہیں بلکہ گل ارباب تھی ۔۔۔ ماحول بہت الگ تھا گاؤں کا پڑھنے لکھنے کا رواج آج تک نہیں ہے وہاں ۔
پھر نظمیں لکھتی اور سہیلیوں کو سناتی اس کے بعد سلسلہ چل نکلا کالمز وغیرہ بھی لکھتی رہی اور ڈائجسٹ میں بھی بہت لکھا یوں جو سلسلہ چل پڑا تو اب تک جاری ہے ۔
3. آپ کی تخلیقات میں پشاور اور اس کے تہذیبی رنگوں کی جھلک نمایاں ہے، اس شہر نے آپ کے ادبی سفر پر کیا اثر ڈالا؟
ہم جس ماحول جن موسموں اور جس زمین کے باسی ہوتے ہیں وہیں بہتر نمو پاتے ہیں ۔۔ میں بھی ایک ایسی ہی روح ہوں جو اپنے ماحول میں خوش رہتی ہے میرے لیے میرا شہر میرا گاوں ہی سب کچھ ہے میرے ادبی مزاج میں میرے شہر کے تاریخی رنگ نمایاں ہیں شائد کہیں قصہ خوانی بازار کے قصوں سے بھرپور ماحول میرے اندر بھی سلامت ہے پشاور کی تنگ گلیوں میں کھیلتے کودتے بچوں میں مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے
کہیں سفید ٹوپی والے برقعے میں لپٹی کسی ادھیڑ عمر کی خاتون کو دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں بھی اندر سے بالکل ایسی ہوں اپنی روایات سے جڑی ہوئی اپنی حدوں سے باہر نہ نکلنے والی اور پھونک پھونک کر قدم اٹھانے والی ۔۔۔۔ میری کہانیاں بیک وقت گاؤں کی مٹی کی خوشبو سے اور شہر کی سڑکوں پہ دھواں اڑاتے رکشوں کے شور سے مزین ہوتی ہیں اس خوشبو اور اس شور کو قلم قرطاس تک لانا کبھی مشکل نہیں لگا ۔۔۔ یہ شہر مجھ میں بستا ہے اور میں اس شہر میں بستی ہوں ۔
4. شاعری، افسانہ نگاری اور کالم نگاری—ان میں سے آپ خود کو کس صنف سے سب سے زیادہ جڑا محسوس کرتی ہیں؟
مجھے تینوں اصناف پسند ہیں ۔۔۔ غزل اور نظم لکھتے ہوئے جو کیفیت ہوتی ہے وہی کیفیت افسانہ لکھتے ہوئے بھی رہتی ہے ہاں کالم لکھنا ذرا سا خشک کام لگتا ہے لیکن جب لکھنے بیٹھوں تو میں یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ کیا لکھوں گی بلکہ یہ فیصلہ قلم کا ہوتا ہے ۔۔۔ ایک غزل مکمل کرکے جو سرشاری حاصل ہوتی ہے وہی افسانے ناول اور کالم میں بھی ملتی ہے ۔۔۔ ویسے آپ کے سوال میں ناول نہیں ہے لیکن میں ناول نگاری میں بہت آسانی محسوس کرتی ہوں چونکہ ناول میں آپ طویل وقت گزارتے ہیں تو اس میں کرداروں سے آپ کی واقفیت زیادہ ہوتی رہتی ہے اور یہ واقفیت بڑھتے بڑھتے انسیت میں تبدیل ہو جاتی ہے
جب ناول کو احتتام تک پہنچانا ہوتا ہے تو تب جدائی کا درد محسوس ہوتا ہے
اور یوں لگتا ہے کہ کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے ۔
5. اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟ کون سی کتاب دل کے سب سے قریب ہے اور کیوں؟
اب تک الحمدللہ الحمدللہ 13 کتابیں پبلش ہوچکی ہیں اور مجھے اپنی ہر کتاب پسند ہے کیونکہ یہ صرف کتابیں ہی نہیں یہ میری راتوں کی نیندیں بھی ہیں ۔۔۔ یہ میرے اندر کے دھوئیں کی چمنیاں بھی ہیں یہ میرے وہ لفظ ہیں جو زباں پہ نہیں آسکے لیکن میں نے ان کا دم گھٹنے نہیں دیا اور انہیں ہوبہو ویسا ہی جیسا میں بولنا چاہتی تھی صفحہ قرطاس پہ سجا دیا ہے ۔۔۔ میری کتابیں میرا اپنا آپ ہیں میں ان سے اور یہ مجھ سے ہیں جیسا کہ میری اولاد ہے میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں ۔۔۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب میرے لیے امتحان ہے اور امتحان میں کبھی بھی اس ڈر سے نہیں بیٹھتی کہ میں کامیاب ہوگئی تو ناکام لوگ مجھے کیسی حسرت بھری نظر سے دیکھیں گے ۔
6. خواتین لکھاریوں کو آج کے دور میں کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ کیا مواقع بہتر ہو رہے ہیں؟
خواتین لکھاریوں کو پر جگہ ایک جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہے ہر علاقے کی روایات رواج اور تعلیمی حالات اس جگہ کی خواتین کے لیے مشکل یا آسانی کی پیدا کرتے ہیں ۔۔۔ میرا تعلق جس خطے سے ہے وہاں خواتین کے لکھنے لکھانے کو وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا اور یہ تھا کبھی تھا نہ بن سکا بلکہ اب بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔ اسی طرح مجھے لگتا ہے کہ دوسرے علاقوں کی خواتین کے لیے اتنے بڑے حالات نہیں ہوں گے ۔۔۔ اس کے علاؤہ اپنی بات کروں یا پھر اجتماعی بات کروں تو خواتین کے لیے عام طور پہ اپنی جگہ بنانی مشکل ہوتی ہے ایک تو ہر خاتون عصمت چغتائی نہیں بن سکتی ۔۔۔ حالانکہ ہم سب کے معاشرے میں وہ سب ہو رہا ہے جو کہ عصمت کے دور میں تھا اور جس پہ وہ لکھتی رہی ہیں بلکہ اب تو بہت بڑھ چکا ہے یہ سب ۔۔۔ لیکن خواتین کھل کر ان موضوعات پہ نہیں لکھ سکتیں ان کے لیے کینوس وسیع نہیں ۔۔۔ خواتین کو کئی ایسی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں مردانہ وار ان کے کریکٹر پہ ہوتا ہے ۔۔۔ کئی شاعرات جو کہ بہت اچھا لکھتی ہیں ان پہ سرعام انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ یہ اپنے حسن کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پہ ہیں ۔۔۔ یہ چیزیں دوسری خواتین کو محتاط کر دیتی ہیں ۔۔۔ اور مردانہ معاشرے میں تو عورت کو بغیر کسی ثبوت کے بد کردار کہہ دیا جاتا ہے اور بلا تحقیق لوگ یقین بھی کر لیتے ہیں ۔۔۔ اس ڈر یا خدشے کے پیش نظر کئی خواتین باوجود اس کے کہ وہ باصلاحیت ہیں آگے نہیں آتیں کہ دو چار مشاعروں میں شامل ہوتے ہی مشہور کر دیا جاتا ہے کہ فلاں کی منظور نظر ہیں ۔۔۔ اور اس سوچ کی عکاسی سوشل میڈیا پہ بہت کی جاتی ہے ۔۔۔ خواتین کو چیلنجز کا سامنا تو ہمیشہ سے ہے اور شائد بدلاؤ جلدی نہیں آئے گا ۔۔۔ کیونکہ سوچ انسانوں کے بچوں کو وراثت میں ملتی ہے جینز میں ملتی ہے تربیت سے چلتی رہتی ہے یہ نسل درنسل چلے گی ۔۔۔ شائد کہیں یہ وقت بھی آئے کہ کوئی نوجوان خاتون شاعرہ مصنفہ اس قسم کے بیہودہ الزامات سے بچ سکے ۔
اس معاملے میں صرف مرد حضرات ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملوث ہے جس میں خواتین بھی خواتین کی کردار کشی کرتی نظر آتی ہیں
۔۔۔ خواتین کو ایک اور چیلنج کا سامنا گھر میں بھی رہتا ہے کیونکہ جب لکھنے لکھانے کو ہی معیوب سمجھا جائے گا تو انہیں یکسوئی کہاں سے میسر آسکتی ہے ۔۔۔ اکثر مرد شاعر و ادیب مکمل پروٹوکول میں لکھتے ہیں جبکہ خواتین کو کوئی ایسا ماحول نہیں دیتا
یہ سب تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے ۔۔۔ آج سے دو تین دہائیوں پہلے والے حالات نہ سہی لیکن اس سے ملتے جلتے ضرور ہیں ۔
7. آپ کے کالمز عام طور پر کن موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں؟ کوئی ایسا کالم جسے غیر معمولی پذیرائی ملی ہو؟
میری تحاریر میں عام اور سادہ و سہل انداز میں معاشرتی مسائل پہ بات ہوتی ہے ۔۔۔ میں افسانہ ناول لکھتی ہوں تو اس میں آفاقی موضوعات کا احاطہ بھی ہوتا ہے اور جبکہ شاعری میں بھی ایسا ہی عشق ومحبت اور معاشی نظام اور طبقاتی اونچ نیچ پہ بھی لکھتی ہوں
خاص طور پہ آفاقی موضوعات میں جنگ میرا پسندیدہ موضوع ہے ۔۔۔۔ اور الحمدللہ رب العالمین کا کرم رہتا ہے کہ ہر تحریر پر انداز کو پذیرائی ملتی ہے میں مزاح لکھوں تو بھی پسند کیا جاتا ہے اور سنجیدہ لکھوں تو بھی ۔۔۔ نثر لکھوں یا شاعری ہمیشہ اچھا رسپانس ملا ہے ۔
8. افسانے لکھتے وقت موضوع یا کردار کیسے منتخب کرتی ہیں؟
میں کچھ کردار اپنے اس پاس سے لیتی ہوں اور ایک محصوص مقدار میں ان کرداروں میں اپنا آپ بھی شامل کرتی ہوں تو کردار دلچسپ یا پھر عوامی بن جاتا ہے ۔۔۔آس پاس کے کردار بہت اہم ہیں ۔۔۔ لیکن اگر ہوبہو وہی لکھوں جو دیکھتی ہوں تو اتنی تلخی قارئین سے نگلی نہیں جائے گی اس لیے ہاتھ ہولا رکھ کر لکھنا پڑتا ہے
ایک واقعہ ایک کردار حقیقی زندگی میں ایسا دیکھا جو کہ ایک دائی کا تھا جس کے سینے میں ایسے ہولناک راز چھپے ہوئے تھے کہ جن پہ بات کرنی ہی مشکل تھی لیکن میں نے تھوڑی حقیقت لے کر اس میں فسانے کی مٹھاس ملائی تو قابل ہضم چیز نکلی ۔۔۔ پھر ایک نرس سے ملاقات ہوئی جو کہ بالکل اجنبی تھی ۔۔۔ اور دیکھا جائے تو ہم اجنبیوں یا پھر غیروں کے سامنے کھل جاتے ہیں کیونکہ ان سے آپ کو خطرہ نہیں ہوتا کہ وہ کہیں روز افشا نہ کردیں یا آپ کے بارے میں جو بھی رائے رکھیں آپ کو فرق نہیں پڑتا ۔۔ تو ایسے لوگوں سے ہی مجھے کردار نگاری میں مدد ملتی رہی ہے ۔۔۔ میں کہانیوں کی تہہ تک پہنچ کر اس بھنور سے کرداروں کو تخلیق کے ساحل تک لاتی ہوں اور پھر یہ میرا کام ہوتا ہے کہ اسے جب تک اور کہاں تک لے جاؤں کچھ کردار تو آمر ہوجاتے ہیں اور کچھ واپس تہہ آب تک پہنچا دیے جاتے ہیں ۔
9. ایک کامیاب ادیب یا ادیبہ کے لیے آپ کے نزدیک کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے؟
ادیب ہونا بذات خود ایک وصف ہے ۔۔۔ ہاں اس کو مزید بہتر کرنا بندے کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔۔۔ ادب کی دنیا میں آکر مجھے احساس ہوا کہ یہاں بھی بے ادبی ہے اور اسی لیے بڑے بڑے بت میری نظر میں ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں قد آور شخصیتوں کو میں نے پل میں بونا ہوتے دیکھا ہے ۔۔۔ آپ کہیں گی کہ ابھی تو آپ نے لکھا ہے ادیب ہونا بذات خود صفت ہے وصف ہے تو پھر اوصاف والا شخص کیسے بے ادب یا بونا ہو سکتا ہے ۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بہت سے لوگ ادیب نہیں ہیں لیکن بننے کی اداکاری کر رہے ہیں شاعر نہیں ہیں لیکن خود کو ایسا ہی سمجھ رہے ہیں اس کی وجہ کہیں سوشل میڈیا بھی ہے اور کہیں ستائش باہمی بھی ہے
اگر میں ان اوصاف کا ذکر کروں جو کہ ضرور ہوں تو ان میں ایک ہے کہ جو لکھ رہے ہو اس پہ یقین بھی رکھو اس کو خود پہ لاگو بھی کر کے دکھاؤ ۔۔۔ میں نے بہترین لکھنے والوں کو بدترین دیکھا ہے ۔۔۔ دین ودنیا کی اصلاح اور انسانی ہمدردی کے ساتھ کرداروں کی عظمت و شان لکھ لکھ کر بندہ خود کو بھی اس کے مطابق بنانے کی کوشش کرے ۔۔۔ مجھے تو یہ منافقت لگتی ہے کہ ہم لکھ رہے ہیں کہ امانت داری بہترین وصف ہے اور خود خائین ہوں ۔۔۔ ہم تحاریر میں اصلاح معاشرہ کا ٹھیکہ لے کر خود کو اسی معاشرے کے بگاڑنے کی وجہ بننے سے نہ روک کر منافقت ہی کرتے ہیں
رایٹر کو صرف تحریر کی اچھائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ باقی لکھنے کے لیے خداداد صلاحیتوں کا مالک ہونا ضروری ہے آپ صلاحیت کو نکھارنے کے لیے سیکھ سکتے ہیں لیکن سب کچھ سیکھنے سے نہیں سیکھ سکتے
جیسے کہ ندرت خیال تو ہو لیکن علم عروض نہ سیکھا ہو تو کام نہیں بنتا کہ آپ بحر قافیہ ردیف سیکھ کر شاعری کریں گے تو تسلیم کیے جائیں گے جبکہ ہوا میں خیال کی ندرت چھوڑتے رہیں گے تو اچھے شاعر نہیں بن سکتے اسی طرح دونوں چیزوں کی آمیزش سے یا مناسب مقدار میں سب چیزوں کو شامل کرکے ہی تخلیق کی ہنڈیا پکا سکتے ہیں کیونکہ چکھنے والے کمی بیشی نوٹ کر لیتے ہیں ۔
10. کیا آج کا ادب معاشرتی شعور اور اصلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے؟
جی بالکل ادب آج کل کے مقابلے میں زیادہ موثر اس لیے ہے اس کی پہنچ ہزاروں گنا بڑھ چکی ہے
پہلے پانچ سو کتابیں چھپتی تھیں تو سو لوگوں تک پہنچتیں جبکہ سو میں سے پچاس ہی پڑھتے تھے اب تو سوشل میڈیا پہ کچھ لکھ کر پوسٹ کرو تو لمحوں میں ہزاروں لاکھوں لوگوں تک بات پہنچ جاتی ہے کتابیں پی ڈی ایف میں ہزاروں کی تعداد میں تقسیم ہوجاتی ہیں
اب صرف لکھنے والے پہ منحصر ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کس طرح اصلاح معاشرہ کے لیے استعمال کرسکتا ہے بات پہنچ جاتی ہے بس بات میں دم ہو تو بدلاؤ بھی ممکن ہے ۔
11. کیا آپ نے ادبِ اطفال کے لیے کچھ لکھا ہے یا مستقبل
میں ارادہ رکھتی ہیں؟
جی بالکل ادبی سفر کی شروعات بچوں کی کہانیوں سے کی مختلف اخبارات کے بچوں کے صفحات کے لیے کہانیاں بھیجتی رہی ا ور کچھ غائب اور کچھ چھپ جاتیں
اپنی کاپیوں میں کہانیاں لکھ رکھی تھیں اور دوستوں کو نانی دادی بن کر وہ کہانیاں سنایا کرتی تھی
دس سال کی عمر میں پلاسٹک کی کھیلنے والی عینک لگا کر سب سہیلیوں اور بہن بھائیوں کو اپنی لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ کر سناتی اس طرح گل داودی کی طرح گل دادی بن جاتی گلِ داؤدی بھی ایسا پھول ہے جو کہ خزاں میں اس وقت کھلتا ہے جس موسم میں دیگر بہاری پھول نہیں ہوتے اور مجھے لگتا ہے میں بھی ایسے ماحول میں لکھنے لگی تھی جب آس پاس میرے جیسا کوئی نہیں تھا بلکہ ابھی تک میں خزاں کا پھول گل داؤدی ہی ہوں اور مجھے آج تک لکھنے کی کوشش نہیں کرنی پڑی ۔۔۔ کہیں بھی کسی بھی جگہ میں کہانی لکھ لیا کرتی ہوں
میں بچپن میں بچوں کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر سوچتی تھی ان سے اچھا تو میں لکھ سکتی ہوں
کہانیاں گھڑنے کا شوق بالکل بچپن سے تھا کوئی پوچھتا بڑی ہوکر کیا بنو گی تو میں آگے سے لمبی کہانی سنا دیتی اگلا بھی حیران ہوجاتا کہ بچی ہے یا کہانیوں کی کتاب ہے
پھر میری مادری زبان ہندکو میں بچوں کی کوئی کتاب نہیں تھی تو میں نے ٹیٹارے کے عنوان سے بچوں کی کہانیوں کی کتاب لکھی
اب اُردو میں بچوں کی کہانیوں کی دوسری کتاب آئی ہے چلبلی وادی کے عنوان سے ۔
اور مختلف اخبارات و رسائل میں بھی لکھتی رہی ہوں
ہندکو زبان میں میری کتاب بچوں کی کہانیوں کی پہلی کتاب ہے
12. کچھ اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں بتائیے؟
ہمارے ہاں بچپن کی منگنی کا رواج ہے تو ابھی میں ماں کے پیٹ میں ہی تھی کہ ان کی پھوپھی نے کہا اگر بیٹی ہوئی تو یہ میرے بیٹے کی ہوگی بیٹے صاحب اس وقت سکول جاتے تھے ۔۔۔ ہوش سنبھالا تو یہ ہی سنا کہ یہ آپ کے منگیتر ہیں سو میری بچپن کی محبت ہیں ہمارے صاحب ۔۔۔امی کے پھوپھی زاد ہیں تو میرے سبھی بہن بھائی انہیں ماموں کہتے تھے اور میرے صاحب بن گئے ۔۔۔ میٹرک کے بعد شادی ہوگئی اور الحمدللہ کریم رب نے کرم کیا ۔۔۔ تین بیٹے اور دو بیٹیاں میری زندگی بھر کی کمائی ہیں ۔۔۔ میرے بچے میرا فخر ہیں الحمدللہ ان کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کیونکہ شوہر ایک پولیس آفیسر ہیں تو انہیں گھر اور بچوں کے لیے کبھی وقت ملا ہی نہیں ۔۔۔ وہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ یہ سب میری بیوی کا کمال ہے رب کا احسان تو ہے ہی کہ میرے بچے اتنے اچھے ہیں ۔
الحمدللہ ایک اچھی اور خوش باش زندگی گزر رہی ہے اور کریم رب سے یہ ہی دعا ہے رب ہمیشہ مہربان رہے۔
13. . پشاور میں ادبی سرگرمیوں کا ماحول کیسا ہے؟
نئے لکھنے والوں کے لیے کتنے امکانات ہیں؟
ابھی کچھ بہتری آئی ہے لیکن ویسا نہیں جیسا ہونا چاہیے ۔۔۔ خواتین ویسے بھی کم ہیں اور پھر خواتین کے لیے آسانیاں بھی نہیں ہیں کہ ادبی ماحول ہو تو گھر سے نکلیں ۔۔۔ ہاں مرد حضرات کے لیے اچھا ہے ہر فورم پر ان کی نمائندگی ہوتی ہے
یہ نہیں کہ جو چند گنتی کی خواتین لکھ رہی ہیں ان کی کتابیں آ رہی ہیں انہیں سامنے لایا جائے بلکہ الٹا انہیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔۔۔ بلکہ ادبی محافل میں ان کی شمولیت بھی معیوب سمجھی جاتی ہے حوصلہ افزائی بالکل نہیں کی جاتی ۔۔۔ ایسے ماحول میں لکھنا اور اپنی شناخت بنانا دل گردے کا کام ہے ۔۔۔ لیکن چند دھائیوں پہلے تو یہ سب بھی نہیں تھا شائد وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہیں ۔
نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی مثبت چیز نظر نہیں آتی ۔۔۔ میں اس ماحول اور اس نظام سے مایوس نہیں ہوئی تو یہ میرا یا پھر میری ساتھی خواتین رایٹرز کا حوصلہ اور ثابت قدمی ہے ورنہ تو یہ جگہ بھی نہ ملتی جس پہ ہوں ۔۔۔ بس زخم گہرا ہے نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے ۔۔۔ لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن افسوس کہ اگر لکھا تو جو ہے اس سے بھی محروم کردیا جائے گا شائد گروپ بندیاں یا پھر جس کی پہنچ جہاں تک ہے یہ کہانی وہاں تک ہی ہے ۔
14. پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ ؟
گلے تو بہت سارے ہیں لیکن ایک گلہ یہاں لکھوں گی کہ عورت کو انسان بھی سمجھا جائے ۔۔۔ میں نے تین نظمیں لکھی تھیں دل چاہتا ہے کہ یہاں لکھ دوں اگر طوالت لگے تو کاٹ دیں لیکن یہ گلہ اس معاشرے کے مردوں سے ضرور کروں گی تین نظموں کی صورت میں آپ بھی پڑھیں اور بتائیں کہ میں ٹھیک گلہ مند ہوں نا۔
نظم : 1
نکاح
_____
ہر لڑکی کی طرح
محبت میرے لیے بھی
باد صبا کے نرم جھونکے
جیسی ہے
مجھے بھی عشق و عاشقی کی کہانیاں اچھی لگتی ہیں
لیلی مجنوں سسی پنوں اور ہیر رانجھا
کی عشق میں ہوئی نادانیاں اچھی لگتی ہیں
میرا بھی من مچلتا ہے کہ کوئی میرے لیے پہروں کسی گلی کسی چوک پر تپتی دھوپ میں جلتا رہے
صبحِ شام میرے کمرے کی بند کھڑکی کو تکتا رہے
کوئی ساحل کی ریت پر میرا نام لکھ کر ہوا کا رستہ روکتا رہے
کبھی پھولوں کی خوشبوؤں میں کبھی تتلیوں کے رنگوں میں
مجھے ہی ڈھونڈتا رہے مجھے ہی کھوجتا رہے
مجھے پانے کی تمنا میں
خود سے ملنے کے لیے ترس جائے
دل کے صحرا پر بارش بن کر برس جائے
میرے خوابوں کے
سرابوں میں گم ہو جائے
کوئی ایسا بھی ہو جو خود میں ٬ میں نہ رہے
مجھ میں ٬ تم ہو جائے
میں پاؤں رکھوں جس جگہ
وہ اس خاک کو شفا کہے
میں سامنے سے گزر بھی جاؤں
تو اس پل کو وہ عطا کہے
سن کر وہ نام میرا
سر جھکا کر کہتا رہے
جھرنا یہ شھد کا
کاش یونہی بہتا رہے
لیکن میں خواہشوں کو
لگام دے کر
اپنے خدا کے اک
حکم پر چل رہی ہوں
نفس کی طلب کو میں
بار بار کچل رہی ہوں
وہ حکم الٰہی ہے
کہ
نامحرم کی چاہت
محبت نہیں بلکہ گناہ ہے
ان خواہشوں کی
تکمیل کا ایک ہی راستہ ہے
اور وہ راستہ نکاح ہے۔
نظم : 2
ادلی بدلی
_______
چلو ادلی بدلی کا
اک کھیل کھیلتے ہیں
ایسا کرتے ہیں
میں تم ہو جاتی ہوں
اور تم میں ہو جاؤ
تم میرے لیے سجو سنورو
گھر میں ہی شیشے کے سامنے
دھاگہ لے کر ہاتھوں میں
آئی برو بناؤ
اپر لپ صاف کرو
پارلر کے پیسے بچانے کے لیے
سخت سردی میں
فیشل ویکسنگ اور
بھاپ کے بعد برف کا
مساج بھی کرو
ساتھ ہی وقفے وقفے سے
گھر کے
کام کاج بھی کرو
میرے آنے سے پہلے
روکھے سوکھے بالوں کی
بہتری کا کوئی حل نکالو
سٹیٹنر کی مدد سے
زلفوں کے سب کرل نکالو
لگا کر لیموں اور ٹماٹر کا ماسک
آنکھوں پر رکھو
کھیرے کے قتلے ۔
کپڑے ایسے ڈھونڈ کر پہنو
لگو تم جس میں خوب پتلے
پھر سے ٹھگنے قد کا
نہ ملے تمہیں خطاب
اس ڈر سے
اونچی ہیل کا جوتا پہن کر
ریڑھ کی ہڈی
کر لو خراب ۔
نہا دھو کر خوشبو لگاؤ
پھر ہونٹوں پر لپ سٹک کی تہہ
گالوں پر بلش ان کی لالی
جلدی گھر آنے کے لیے
دن بھر بنے رہو سوالی
آنکھوں میں کاجل لگا کر
سج سنور کر
گھر کو سجا کر
پہروں میری راہ دیکھو
یہ خواہش دل میں چھپائے
دو نینوں میں اپنی چاہ دیکھو
یہ بچہ روتا کیوں ہے ؟
گھر آتے ہی میں یہ شور کروں
ساری کی ساری تیاری
دیکھ کر بھی اگنور کروں
تم چائے کی پیالی لاؤ تو
میں منہ بنا کر پی لوں یوں
تم پر یہ احسان ہو جیسے
ماتھے پر میرے لکھا ہو
دن بھر تم جو کرتے رہے
وہ تو بہت آسان ہو جیسے ۔
تم باتوں باتوں میں پوچھو
میں کیسی لگ رہی ہوں آج
میں نظر اٹھا کر دیکھے بنا
موبائل میں آنکھیں گاڑے
سرسری سے لہجے میں
کہہ دوں دل کی بات
نہ بالوں میں کنگھی کرتی ہو
نہ صابن سے منہ دھوتی ہو
جیسا چھوڑ کر دفتر جاتا ہوں تو
شام تک ویسی ہوتی ہو
تم مایوسی سے دیکھو مجھ کو
بنا کچھ کہے اٹھ جاؤ
کیک جو بیک کرنا تھا
ادھورا اس کو چھوڑ دو
سوچوں کا رخ موڑ دو
تم جنم دن کی اک وش کے لیے
جھاڑو کلینڈر کی دھول کو
اور دیکھ کر آہیں بھرتے رہو
گلدان میں سجے اک پھول کو
دو میٹھے بولوں کے لیے
میں تم کو تو ترساتا رہوں
میسج کرکے محبوبہ کو
مسکراتا رہوں گدگداتا رہوں
تم دل ہی دل میں کرو گلہ
وفاؤں کا میری یہ کیسا صلہ ؟
بار بار کہتی رہے
مجھ سے
تیری آنکھوں کی نمی
کس چیز کی ہے مجھ میں کمی ؟
میں کروٹ بدل کر سو جاؤں
تم لمس کو میرے ترسا کرو
تکیے پر خوب برسا کرو
لیکن سنو اک بات کہوں ؟
ادلی بدلی کے اس کھیل میں
میں تم گر ہوجاوں
پھر بھی ” تم “ ہو نہیں سکتی
میرے بستر پہ کوئی سسک رہا ہو
تو میں چین سے سو نہیں سکتی
نظم : 3
اے رقیب!
یہ خلوت بھی لے لو
یہ جلوت بھی لے لو!
یہ چھایا یہ ٹھنڈک!
یہ دھوپ کی شدت
بھی لے لو
گر میرے پاس ہوتی تو میں یہ کہتی
لو یہ تم مجھ سے
محبت بھی لے لو
یہ محفل بھی لے لو!
یہ تنہائی بھی لے لو
لو عمر بھر کی ساری
کمائی بھی لے لو
مجھ سے یہ ساری خدائی
بھی لے لو!
یہ درد یہ مرہم
یہ مسیحائی بھی لے لو
یہ رنگ روپ کا سونا بھی لے لو
یہ ہنسنا بھی لے لو یہ رونا بھی لے لو
میری ذات میری پہچان
میرا ہونا بھی لے لو!
لوگ کھیل کر توڑ دیتے ہیں جسے
دل نام کا یہ کھلونا بھی لے لو
لو یہ عشق ہے جو میرا
وہ اوڑھنا بچھونا بھی لے لو,
اور اے میرے رقیب
ذرا سی جگہ پہلوئے حبیب
کے قریب دے دو
اور یہ سب کچھ لے کر
مجھے فقط اپنا نصیب دے دو
فقط اپنا نصیب دے دو
گل ارباب




