مستونگ: مسجد کے قریب دھماکہ، ڈی ایس پی سمیت 10 افراد جان سے گئے

بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بتایا ہے کہ ضلع مستونگ میں جمعے کو قاضی کوڑہ روڈ پر ایک مسجد کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سمیت کم از کم 10 افراد جان سے گئے جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
جان اچکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے جان سے جانے والے ڈی ایس پی کے حوالے سے کہا: ’وہ نہایت بہادر جوان تھے اور حکومت بلوچستان ان کے خاندان کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں کھڑی ہے۔‘
نگران وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
آج ملک بھر میں عید میلاد النبی منایا جا رہا ہے اور اس موقعے پر مختلف علاقوں کی طرح بلوچستان میں موبائل فون سگنلز بند ہیں۔
جان اچکزئی کے مطابق: ’بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی بلوچ یا مسلمان اس مقدس دن اس طرح کی کارروائی کا نہیں سوچ سکتا۔ اس میں غیر ملکی عناصرملوث ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کردیا گیا ہے، شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے اور کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے بھی مستونگ میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے کہا کہ وہ عید میلاد النبی کے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہیں اور ملزمان سے حکومت ’آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔‘
مستونگ میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے نکالے گئے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بحیثیت ایک قوم یکجا ہونا پڑے گا نگران صوبائی حکومت ایسے تخریب کار عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے…
— Mir Ali Mardan Domki (@MirAliMardan) September 29, 2023
نگران وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا: ’بلوچستان کے عوام بہادر اور نڈر ہیں، بزدلانہ حملے انہیں مرعوب نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب علی مردان ڈومکی نے اپنے بیان میں کہا: ’بلوچستان میں غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر امن اور مذہبی ہم آہنگی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
مستونگ میں یہ رواں ماہ ہونے والا دوسرا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل 14 ستمبر کو کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔




