پاکستان: گلیشیائی جھیل پھنٹے کا خطرہ، بارشوں سے بھی سیلاب کا انتباہ/ اردو ورثہ

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے (GLOF) کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کئی علاقوں میں سیلاب آ سکتے ہیں۔
این ڈی ڈی ایم نے بدھ کی شام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’شدید گرمی اور مغربی موسمی سلسلے کے باعث شمالی علاقوں کے گلیشیئرز ریشن، بریپ، بونی، سردار گول، تھلو 1، تھلو 2، بدسوات، ہنارچی، درکوٹ، ہنڈر) میں برف پگھلنے کی وجہ سے ان علاقوں میں گلیشیائی سیلاب اور رابطہ سڑکیں بندش کا شکار ہو سکتی ہیں۔‘
احتیاطی تدابیر:
گلیشیرز اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ سیلابی ریلوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع دیں۔مزید رہنمائی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) June 25, 2025
اس صوت حال میں لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ ’گلیشیئرز اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ سیلابی ریلوں کو عبور کرنے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی ایڈوائزری کے مطابق 25 جون سے یکم جولائی تک ملک کے مختلف شہروں بشمول اسلام آباد، لاہور، راول پنڈی، مظفرآباد، کراچی، حیدرآباد، تھرپارکر، پشاور، سوات، گلگت، سکردو، ہنزہ سمیت ملک کے کئی علاقوں میں آندھی، طوفان اور بارش کا امکان ہے۔
پاکستان مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جس سے ملک کو غیر معمولی طور پر شدید بارشوں، خشک سالی اور گرمی کی لہر کا سامنا ہے۔
2022 میں مون سون بارشوں اور ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے کے بعد آنے والے سیلابوں کے سبب 1700 سے زائد افراد کی جان گئی تھی جب کہ تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔
حکومت پاکستان کے تخمینے کے مطابق اس دوران ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔




