بلاگ

بچوں کی تربیت کس کی ذمہ داری ؟ / ارم سرور

 

بچوں کی پرورش اور ان کی اچھی تربیت آج کے دور کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جیسے ہی ہم کسی بچے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں جو بات سب سے پہلے آتی ہے، وہ اس کا ہمارے ساتھ رویہ اور اس کی تربیت کے بارے میں آتی ہے۔ بچے کی اچھی تربیت، جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے میں جو سب سے اہم کردار ہے وہ اس کے والدین ہیں، نہ کہ اس کے اساتذہ۔ لیکن استاد کا بھی اس معاشرے میں بہت اونچا مقام ہے۔ لیکن بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ استاد کا جو مقام ہے وہ اسے صحیح طریقے سے نہیں مل رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور کے جو والدین ہیں، ان کی نظر میں استاد ایک معمولی سی ہستی ہے جو ان کے بچوں پر اور ان پر احسان کرتی ہے انہیں پڑھا کر۔

اس کے پیچھے بھی ایک وجہ یہ ہے کہ استاد ان کے بچوں کو تمیز نہیں سکھا پاتا۔ اسکولوں میں والدین اتنی زیادہ فیسیں دیتے ہیں اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے، بڑے بڑے اسکولوں میں ڈالتے ہیں تاکہ ان کی اچھی تربیت ہو سکے، بات کرنے کا طریقہ آ سکے، صحیح غلط کی تمیز سیکھ سکیں۔

مگر یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ استاد اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرتا ہے۔ بچے ان کی بات سنتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں، ایک اچھا انسان بننے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی بچے اسکول سے گھر روانہ ہونے لگتے ہیں، استاد کی سب باتیں وہیں اسکول چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اور صرف چند ایک بچے ہی استاد کی باتوں کو گھر لے کر جاتے ہیں، اپنے پلے سے باندھ لیتے ہیں۔

اس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ درحقیقت زندگی کے ابتدائی چند سال بچوں کے والدین کے ساتھ اچھے گزرے ہوتے ہیں۔ والدین انہیں لاڈ پیار کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی تربیت کرتے ہیں اور ان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتے ہیں، بات کرنے کا ڈھنگ اور زندگی کے بنیادی اصول بھی سکھا دیتے ہیں۔ اور وہ بچے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ بچے جو والدین کا کہا نہیں مانتے، اس کی بڑی وجہ ان کے خود کے والدین ہوتے ہیں اور ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے۔ جو بچپن میں انہیں لاڈ پیار سے اتنا بگاڑ دیتے ہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز ہی بھول جاتے ہیں۔ اور والدین اور اس کے خاندان کا ایک ہی ڈائیلاگ ہوتا ہے "بچہ ہے، بڑا ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گا، سب کچھ سیکھ لے گا”۔ اور جیسے ہی بچہ اسکول جانے لگتا ہے، مگر وہ بچہ بڑا نہیں ہوتا، محض تین سال کا ہی ہوتا ہے اور اچھے اور مہنگے اسکول میں جانے کے باوجود اس کو تمیز نہیں آتی، اور سدھار تو کوئی دور کی بات ہے۔ اور پھر یہ ہوتا ہے کہ والدین سارا الزام اسکول انتظامیہ اور ساتھ ساتھ اساتذہ پر لگا دیتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کیا سکھایا ہے؟ ہم کس چیز کی فیس دیتے ہیں؟

والدین کو یہ بات سمجھائے کون؟ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں، اس کا اپنا گھر ہے۔ اس کے اپنے گھر کا ماحول ہے جہاں وہ پرورش پاتا ہے۔ بچے کے ابتدائی تین ساڑھے تین سال جو وہ اپنے گھر میں گزارتا ہے، اس کی پوری زندگی کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

اگر آج ہم کسی کامیاب انسان کی تاریخ پڑھیں (جیسے کہ قائداعظم، حضرت عبد القادر جیلانی، عبدالستار ایدھی وغیرہ) تو ہمیں پتا چلے گا کہ وہ کامیاب ہونے سے پہلے ایک اچھے انسان تھے۔ انہیں اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ان کے والدین کا تھا۔ پھر وہ ایک اچھے انسان سے کامیاب انسان بن گئے۔ اور انہیں کامیاب کس نے بنایا؟ ایک استاد نے۔

ایک سروے کے مطابق:
والدین کا اسکول انتظامیہ کے ساتھ رویہ:
والدین کا ایک جوڑا اسکول اپنے بچے کو ایڈمیشن کروانے آتا ہے، پلے گروپ کا بچہ محض تین ساڑھے تین سال کا ہوتا ہے، اور بچے کو ایڈمیشن کروا دیتے ہیں۔ جس بچے کو صحیح سے بولنا بھی نہیں آتا، لیکن ان کے والدین بڑھ چڑھ کر اسکول انتظامیہ کو بتاتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہت زیادہ تیز ہے، گالیاں بہت اچھی دیتا ہے اور گالیاں دیتے ہوئے بہت ہی کیوٹ لگتا ہے۔ ہم نے اسے کبھی منع نہیں کیا۔

ایڈمیشن کروایا، اپنے بچے کی تعریفوں کے پل باندھے اور والدین چلے گئے۔ وہی والدین دو تین ہفتوں بعد دوبارہ سے اسکول آتے ہیں اور اسکول انتظامیہ سے شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہت گالیاں دیتا ہے، بدتمیزی کرتا ہے، بات نہیں مانتا۔

اب قارئین آپ بتائیں یہاں کون ذمہ دار ہے؟

ایک اور واقعہ آپ لوگوں کی نظر کرنا چاہوں گی۔ ایک والدہ آتی ہیں اسکول میں، اپنے بچے کی منتھلی رپورٹ لیتی ہیں، رپورٹ دیکھتی ہیں، سب کچھ اچھا ہوتا ہے۔ اور پھر باتوں باتوں میں وہ ٹیچر سے پوچھتی ہیں کہ "کیا میڈم آپ نماز پڑھتی ہیں؟” میڈم وہاں پہ پریشان: یہ کیسا سوال ہے؟ اور یہ کون ہوتی ہیں ایسا سوال کرنے والی؟ لیکن ٹیچر کو نہ چاہتے ہوئے بھی جواب دینا پڑتا ہے: "جی میں پڑھتی ہوں”۔ تو پھر بھی اسی ٹیچر کی شامت آئی کہ "ہمارے بچے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ آپ ان کو نہیں کہتیں کہ نماز پڑھا کریں؟”

اب سوال یہاں پہ یہ اٹھتا ہے کہ آپ کا بچہ نماز نہیں پڑھتا تو تمیز کے دائرے میں رہ کر ٹیچر سے درخواست کرے کہ بچہ نماز نہیں پڑھتا، تھوڑا سا اس کو موٹیویشن دیں۔ لیکن نہیں، ٹیچر کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

ایک سوال یہاں پہ یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا وہ ماں خود نماز پڑھتی تھی؟

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ بچوں کی پرورش میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ بچے وہی کریں گے جو انہوں نے والدین اور گھر کے ماحول سے سیکھا ہے۔

Author

Related Articles

Back to top button