اعتراف
اب کی بار لوٹوں تو
تم گلہ نہیں کرنا
مجھ کو یوں بدلنے میں
صرف ہاتھ ہے تیرا
یار میرے لہجے میں
تلخیاں جو آئی ہیں
اس کا سارا خمیازہ
اب زمانہ بھکتے گا
اعتراف
اب کی بار لوٹوں تو
تم گلہ نہیں کرنا
مجھ کو یوں بدلنے میں
صرف ہاتھ ہے تیرا
یار میرے لہجے میں
تلخیاں جو آئی ہیں
اس کا سارا خمیازہ
اب زمانہ بھکتے گا