غزل
غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

غزل
محمد اکرام قاسمی
جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت
دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت
اِک آنکھ کہ تاریکیءِ منظر کی اَمیں ہے
اِک آنکھ کہ ہے راہروِ خوابِ محبت
اِک حُسن کہ ہے تیرہ شبِ خامہ نوائی
اِک حُسن کہ روشن ہے جہاں تابِ محبت
اِک دل ہے کہ تسکین نہیں جس کی لپک کو
اِک درد کہ جُز اور نہیں خوابِ محبت
اک آس کہ تقدیر فقط جس کی تھکن ہے
اک عزم کہ بنتا ہے گہر تابِ محبت
اِک دیکھی ہوئی آنکھیں مئے ناب ہیں اکرام
اِک چومے ہوئے ہونٹ ہیں زہرابِ محبت





کیا ہی کہنے ۔۔ کیا مرصع و مترنم غزل ہے ۔
ایسے دور میں جہاں سوشل میڈیا نے اظہار کے پیمانوں کو بدل کر رکھ دیا ہے ، آپ کے پلیٹ فارم کا قیام ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین کاوش ہے ۔ خاص طور ہم ایسوں کے لیے جو اپنے ملک سے دور ہیں۔ میری غزل کو اپنی سائیٹ پر جگہ دینے پر”” اُردو ورثہ”” کی انتظامیہ کا دلی شکر گزار ہُوں ، پرودگار آپ سب کو اپنی سایہء عاطفت میں رکھے آمین ، حیاکم اللہ