بلاگ / کالمز

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

سماویہ اعظم

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

میں ہر کام کرنے میں

( منیر نیازی )

ہم میں سے اکثر لوگ ہر کام کرنے میں دیر کر دیتے ہیں۔ یہ تاخیر ہمارے فیصلوں، رشتوں اور زندگی میں ایسی تبدیلی لاتی ہے جو بعد میں صرف پچھتاوا بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس بہت وقت ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے اور جب ہمیں ہوش آتا ہے تب تک سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ جو کام آج کرنا ہو اسے ہم کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہم محبت کا اظہار کرنے، کسی کا شکریہ ادا کرنے یا اپنی غلطی پر معافی مانگنے میں دیر کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ وہ احساسات اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ رشتوں میں پڑنے والی دراڑیں اتنی گہری ہو جاتی ہیں کہ پھر کوئی رشتہ مضبوط نہیں رہتا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔

اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو وقت کی رفتار کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ بعض طالب علم پورا سال پڑھائی نہیں کرتے اور جب امتحانات سر پر آتے ہیں تو وہ پچھتاتے ہیں کہ کاش ہم نے پہلے تیاری کر لی ہوتی۔ ایک کاروباری شخص صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے سے گھبراتا ہے اور اس کا مدِمقابل اس سے آگے نکل جاتا ہے۔ اولاد والدین کی خدمت کرنے میں تاخیر کر دیتی ہے اور جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو وہی اولاد ان کی قبروں پر بیٹھ کر روتی ہے۔ یہ وہی تاخیر ہے جو ہم روزمرہ کی زندگی میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی بھی کام وقت پر نہیں ہوتا۔ سرکاری دفاتر میں ایک فائل پر دستخط کرنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ بطورِ قوم ہم وقت کی قدر کرنا بھول چکے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وقت ہمارا غلام ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو قومیں اپنا کام وقت پر نہیں کرتی، انہیں ہمیشہ ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ عادت ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر کمزور کر رہی ہے۔
بہت سے نوجوان اپنی منزل اس لیے حاصل نہیں کر پاتے کیوں کہ وہ کسی ایسے موقع کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں جو کبھی نہیں آتا۔ جو لوگ حالات کے سازگار ہونے کا انتظار کرتے ہیں، وہ کبھی کام یاب نہیں ہوتے۔ جب وقت گزر جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ قسمت میں یہی لکھا تھا، حالاں کہ قصور قسمت کا نہیں بل کہ ان کی اپنی تاخیر کا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے رشتہ داروں سے ناراض ہو جاتے ہیں اور اپنی انا کی خاطر سب سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ سامنے والا پہلے پہل کرے گا، لیکن دوسرا شخص بھی اسی گمان میں رہتا ہے۔ یوں کئی سال بیت جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ دوریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ انسان دوبارہ ملنا بھی چاہے تو راستے بند ملتے ہیں۔
منیر نیازی نے ٹھیک کہا ہے
ضروری بات کہنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو
اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
آج کل کے نوجوان سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اہم کاموں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اپنوں کے پاس بیٹھ کر بھی ہم ان سے دور رہتے ہیں کیوں کہ ہماری توجہ موبائل فون پر ہوتی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے اور اس میں پچھتاوے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ وقت کی قدر کرنا سیکھیں، اپنے رویے بدلیں اور رشتوں کو وقت دیں۔ وقت پر کام کرنے سے زندگی کی الجھنیں خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔ وقت کو اپنا دوست بنائیں، اس سے پہلے کہ وہ آپ کا دشمن بن جائے۔

Author

Related Articles

Back to top button