اُردو ادببلاگ / کالمز

افسانے اور کہانی میں فرق / منیر احمد فردوس

اردو فکشن میں افسانے اور کہانی کے فرق پر اکثر بحث چھڑی رہتی ہے کہ افسانہ کیا ہے، کہانی کیا ہوتی ہے، اور ان دونوں میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ اردو فکشن کی دو الگ الگ اصناف ہیں یا ایک ہی تخلیقی اظہار کے دو مختلف وسیلے؟ عام طور پر افسانے اور کہانی کے فرق کو سمجھنے کی کوشش میں اچھے خاصے قلمکار بھی الجھ جاتے ہیں، اور اسے واضح کرنے کی کوشش میں موضوع کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی موضوع پر میری یہ مختصر سی کاوش بنیادی طور پر نئے لکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ اکثر افسانہ لکھنے والے احباب مجھے اپنے افسانے صلاح مشورہ کے لیے بھیجتے رہتے ہیں تو ان میں نمایاں مسئلہ افسانے اور کہانی کے درمیان فنی فرق کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے یا وہ اس فرق تک پہنچ نہیں پاتے، جس کے باعث وہ اپنی ہر تحریر یا ہر کہانی کو افسانہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے کوشش کی ہے کہ افسانے اور کہانی کے تکنیکی فرق کو سہل اور سادہ انداز میں بیان کیا جائے۔

افسانے اور کہانی کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلی بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اردو فکشن میں اس موضوع پر کوئی ایسا حتمی اصول یا کلیہ موجود نہیں ہے جس پر تمام اہلِ ادب متفق ہوں۔ ہر ادیب اپنے مطالعے، تجربے، مشاہدے، فکری زاویئے، ادبی بصیرت، تخلیقی برتاؤ اور اپنے سکول آف تھاٹ کی بدولت اس تیکنیکی فرق کو اپنے ہی انداز میں سمجھتا اور بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے کی بے شمار تعریفیں سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں جو ایک دوسرے سے کم ہی مماثل ہوتی ہیں، مگر اکثر میں الجھاؤ کی کیفیت زیادہ پائی جاتی ہے، جس کے باعث افسانے اور کہانی کے فرق کی گتھی پوری طرح سے سلجھ نہیں پاتی اور نیا لکھنے والا الجھ کے رہ جاتا ہے۔ میری یہ کوشش اس موضوع پر قطعی کوئی فیصلہ صادر کرنا نہیں، اور نہ ہی ایسا ممکن ہے، بلکہ اپنے ادبی فہم، ذاتی تجربے، مطالعہ اور اپنے تخلیقی برتاؤ کی روشنی میں صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ میں افسانے اور کہانی کے فرق کو کس زاویے سے دیکھتا ہوں۔

کوئی بھی چھوٹا بڑا واقعہ یا حادثہ فکشن کے لیے ہمیشہ ایک طاقت ور محرک کے طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ ہر واقعے کے اندر بے شمار کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں، یعنی ایک واقعہ اور کئی ممکنہ کہانیاں۔ تاہم میری نظر میں اگر کسی واقعہ کو یا اس کے سچ کو، یا پھر کسی فرد کے حالات کو اہم واقعہ گردان کر اسے جوں کا توں لکھ دیا جائے تو وہ ایک سچا واقعہ یا سچی کہانی تو کہلا سکتی ہے، مگر افسانہ ہرگز نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر قلمکار نرے سچ کو افسانہ مان کر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کو، نرے سچ کو یا عام سی سچی کہانی کو افسانے کی مسند پر کیسے بٹھایا جا سکتا ہے؟

اس سلسلے میں میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ کسی واقعہ کی ہیئت بدل کر اسے افسانے میں ڈھالنے کے لیے تخلیق کار کے پاس صرف ایک ہی پیمانہ ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کا اپنا تخلیقی رویہ یا تخلیقی برتاؤ۔ یہی وہ قوت ہے جو کسی بھی معمولی سے واقعہ یا عام سی کہانی کو فکشن کی سطح پر ادب کا حصہ بنا دیتی ہے۔ یقیناً پلاٹ سازی، اسلوب، تکنیک، کردار نگاری اور دیگر فنی عناصر بھی افسانے کے ناگزیر لوازمات ہیں، اور یہ سب بھی تخلیق کار کے تخلیقی رویے، تخلیقی برتاؤ اور فنی ادراک سے ہی جنم لیتے ہیں۔ تاہم یہاں گفتگو کا موضوع صرف افسانے اور کہانی کے بنیادی فرق کو سمجھنا ہے۔

میرے نزدیک کسی بھی تخلیق کار کا کسی رونما ہونے والے عام سے واقعہ کے ساتھ تخلیقی برتاؤ دراصل اس کا تخلیقی تجزیہ کہلاتا ہے۔ یعنی ایک حقیقی تخلیق کار کسی واقعے کو یا اس کے اندر پائی جانی والی بے شمار کہانیوں کو کبھی من و عن بیان نہیں کرتا، بلکہ قلم اٹھانے سے پیشتر وہ اس واقعہ کو سینکڑوں زاویوں سے دیکھتا ہے، اسے ہر پہلو سے جانچتا ہے کہ واقعہ کو کہاں سے لکھنا ہے اور کہاں پر اس کا اختتام کرنا ہے؟ یہاں تک کہ اس واقعہ کو دیکھتے دیکھتے اسے اس کے کچھ گمنام یا پوشیدہ گوشے دکھائی دینے لگتے ہیں جو دراصل اس واقعہ کا تخلیقی علاقہ کہلاتے ہیں جس میں تخلیق کار اتر کر اس عام سے واقعہ کا ادراک کی سطح پر بھرپور تخلیقی تجزیہ کرتا ہے کہ اس واقعہ کو کیسے اور کس انداز میں لکھنا ہے کہ اس کے اندر فسوں بھر جائے اور وہ عام سے واقعہ سے ایک دم خاص واقعہ بن کر افسانے کے منصب پر فائز ہو جائے۔ اس تخلیقی علاقے کی نشاندہی بھی دراصل تخلیق کار کا فنی ادراک اور اس کا اپنا تخلیقی برتاؤ ہی کرتا ہے کہ اسے واقعہ کے کس گوشے سے فکشن حاصل ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ واقعہ کے اندر اتر کر یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کیا کچھ ایسا عام سا ہے جو سب کو دکھائی دے رہا ہے، اور کیا کچھ ایسا خاص ہے جو عام نگاہوں سے اوجھل ہے، جسے سامنے لانا ضروری ہے۔ دراصل فکشن یا افسانے کا سفر یہیں سے شروع ہوتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں عام سا واقعہ یا کہانی ختم ہوتی ہے اور فسوں سازی یا فکشن کی سرحد شروع ہوتی ہے، جبکہ فکشن کی ادراکی سرحدا سے پہلے سارے کا سارا واقعہ نرا سچ ہے، ایک نری حقیقت ہے بلکہ صرف اور صرف سچی کہانی ہے، جبکہ افسانہ اس نری حقیقت یا نرے سچ کا بوجھ نہیں سہار سکتا اور دھڑام سے گر جاتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ واقعہ رونما تو زمین پر ہوتا ہے مگر اس کے تخلیقی علاقے کی جڑیں تخلیق کار کے ذہن سے پھوٹتی ہیں یعنی دکھائی دینے والا ٹھوس سچ بالکل سامنے ہوتا ہے جسے ہر آنکھ دیکھ سکتی ہے مگر اس میں چھپا ہوا باطنی سچ صرف تخلیق کار کے اندر ہی ظہور پاتا ہے۔ کسی بھی واقعہ کا نرا سچ یا نری حقیقت ہر عام سی آنکھ میں موجود ہوتی ہے مگر اس میں چھپی ہوئی باطنی یا تخلیقی حقیقت تخلیق کار کے ذہن میں وجود پاتی ہے جسے کسی بھی واقعہ کا، سچ کا یا نری حقیقت کا تخلیقی علاقہ کہتے ہیں، اور یہی وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں ہر طرف فکشن سانس لے رہا ہوتا ہے۔

اس بات کو دوسرے انداز سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر واقعے کے دو حصے یا دو سچ ہوتے ہیں۔ ایک معلوم حصہ یا معلوم سچ جو سب کے سامنے ہوتا ہے، جسے ہر شخص دیکھتا، سنتا اور جانتا ہے۔ اگر قلمکار صرف اسی معلوم حصے کو یا معلوم سچ کو من و عن بیان کر دے تو وہ ایک سچی کہانی تو ہو سکتی ہے، مگر افسانہ نہیں۔ اور اس کا دوسرا حصہ ایک نامعلوم حصہ یا نامعلوم سچ کہلاتا ہے، اور اسی نامعلوم حصے یا سچ میں ہی فکشن پوشیدہ ہوتا ہے۔ جبکہ اس نامعلوم کو صرف تخلیق کار کا تخلیقی رویہ ہی دریافت کر سکتا ہے جو کسی بھی واقعہ کے بارے میں اس کا تخلیقی تجزیہ کہلاتا ہے، کیونکہ عام نگاہ کے پاس وہ تخلیقی پیمانہ نہیں ہوتا جس سے وہ اس پوشیدہ جہت تک رسائی حاصل کر سکے جہاں سے فکشن کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئلے کی کان کے کسی تاریک حصے میں چھپا ہوا ہیرا دریافت کر لینا، یعنی جب تک وہ کانکن کان کے اس حصے میں نہیں اترتا جہاں ہیرا موجود ہوتا ہے تو تب تک اس کے ہاتھ ہیرا نہیں لگ سکتا۔ اس لیے کسی بھی تخلیق کار کا معلوم واقعہ کے اندر نامعلوم تخلیقی علاقے میں اترنا ناگزیر ہو جاتا ہے، جبکہ اس تخلیقی علاقے کی دریافت بھی تخلیق کار کا تخلیقی برتاؤ ہی طے کرتا ہے۔ اور جب وہ واقعہ کے اس تخلیقی علاقے تک پہنچ کر وہاں سے فکشن کشید کر لیتا ہے تو پھر اسے معلوم واقعے کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ وہی عام سا واقعہ ایک نئے مگر اہم ادبی سچ، ایک نئی حقیقت کے ساتھ ناقابلِ فراموش فکشن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس کی ایک سادہ سی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ ایک سادہ سی لڑکی جب دلہن کا میک اپ کرتی ہے تو اس کا سراپا یکسر بدل جاتا ہے۔ ہوتی تو وہ وہی سادہ سی لڑکی ہے مگر دلہن کا تخلیقی روپ اختیار کرتے ہی اس کی ہیئیت بدل جاتی ہے اور وہ عام سی لڑکی سے دلہن بن جاتی ہے۔ یہاں لڑکی سے مراد عام واقعہ ہے، میک اپ سے مراد میک اپ آرٹسٹ کا تخلیقی برتاؤ اور دلہن سے مراد فکشن (افسانہ) ہے۔ گویا تخلیقی برتاؤ نے عام سے واقعہ کو اہم افسانے میں بدل دیا۔ اگر یہی میک اپ اتار دیا جائے تو دلہن دوبارہ وہی سادہ سی لڑکی بن جائے گی۔ بالکل اسی طرح اگر واقعہ سے تخلیقی برتاؤ کو الگ کر دیا جائے تو وہ بھی محض ایک عام سا واقعہ یا سچی کہانی ہی رہ جائے گا۔

کسی بھی واقعے کے اندر موجود تخلیقی علاقہ ہر تخلیق کار کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی اسے کسی کردار میں تلاش کرتا ہے، کوئی مکالمے میں، کوئی کسی معمولی سی بات میں، کوئی کسی چھوٹی سی حرکت میں، کوئی خاموشی میں، اور کوئی ایک معمولی سے منظر میں پورے انسانی المیے کی جھلک دیکھ لیتا ہے۔ دراصل یہی ایک جینوئن تخلیق کار کا ایک عام سے واقعہ کے ساتھ تخلیقی رویہ ہوتا ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ کسی واقعے سے کیا لینا ہے، کتنا لینا ہے، کیا چھوڑ دینا ہے، اور اس کے گمنام گوشوں یعنی اس کے تخلیقی علاقے میں اتر کر کیا ازسرِ نو تخلیق کرنا ہے؟ اس لئے افسانے کا ایک تیکنیکی معاملہ یہ بھی ہے کہ سب کچھ لکھ دینا افسانہ نہیں ہوتا بلکہ "کیا نہیں لکھنا ” ہی اصل افسانہ کہلاتا ہے۔

میرے نزدیک تخلیق، یا یوں کہیے کہ افسانہ، معلوم سے نامعلوم کا سفر ہے یعنی معلوم سچ سے نامعلوم سچ کی طرف پیش قدمی یا معلوم حقیقت سے نامعلوم حقیقت کی تلاش۔ ایک واقعہ سب کے سامنے وقوع پذیر ہوتا ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ معلوم ہوتا ہے جو کچھ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے اور اس کے لیے وہی سچ ہوتا ہے۔ اب اگر یہی واقعہ یا سچ کوئی مقرر بیان کرتا ہے تو وہ ایک تقریر بن جاتا ہے، کوئی صحافی اسے لکھتا ہے تو وہ خبر کہلاتا ہے، کوئی کالم نگار اسے قلم بند کرتا ہے تو وہ کالم بن جاتا ہے، اور اگر کوئی عام سا لکھنے والا کہانی کار اسے جوں کا توں لکھ دیتا ہے تو وہ سچی کہانی بن جاتا ہے۔ لیکن جب اس واقعہ پر کسی افسانہ نگار کی نظر پڑتی ہے تو اس کے ہاں معاملہ یکسر بدل جاتا ہے۔ افسانہ نگار صرف وہ کچھ نہیں لکھتا جو سب نے دیکھ رکھا ہوتا ہے، بلکہ وہ اس واقعے کے اندر اتر کر اپنے تخلیقی برتاؤ کی بدولت اس کے تخلیقی علاقے تک رسائی حاصل کرتا ہے اور وہاں سے کوئی ایسا منفرد پہلو دریافت کر کے لے آتا ہے جو دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ معلوم حقیقت کے باطن سے اپنے تخلیقی برتاؤ کی مدد سے ایک نئی قابلِ یقین حقیقت کشید کرتا ہے، اور پھر اسے اصل واقعے کے ساتھ اس طرح مربوط کر دیتا ہے کہ وہ ایک نئے تخلیقی سچ کی صورت سامنے آتی ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ "ایسا ہوا تو نہیں مگر ایسا ہو بھی سکتا تھا۔” بس یہی فکشن ہے، یہی افسانہ ہے، اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو افسانے کو محض سچی یا عام کہانی نہیں بننے دیتا۔ یہ تخلیقی سچ کبھی ایک ہی واقعہ سے جنم لیتا ہے اور کبھی کبھار دو یا دو سے زائد واقعات کی پیوندکاری سے بھی اپنا اظہار مکمل کرتا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت میں تخلیق کار کا تخلیقی تجزیہ ہی ہوتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات دو الگ الگ حقیقتیں مل کر ایک نئی حقیقت کو جنم دیتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دو مختلف رنگوں کو ملانے سے تیسرا رنگ وجود میں آتا ہے۔

اگر اردو ادب میں کسی بڑے واقعہ، حادثہ یا سانحہ کی مثال دی جائے تو یقینا تقسیمِ ہند کا واقعہ سب سے بڑا تخلیقی محرک کہلایا جا سکتا ہے۔ اس ایک سانحے نے بے شمار ناولوں، افسانوں، یادداشتوں اور سوانح عمریوں کو جنم دیا ہے۔ واقعہ سب کے لیے ایک ہی تھا مگر منٹو، بیدی، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، بھیشم ساہنی اور ان جیسے دیگر بڑے ادیبوں نے اسی معلوم حقیقت کے اندر سے اپنی اپنی نامعلوم حقیقتوں کے انوکھے زاویے دریافت کیے اور ہمیں فکشن کے ایسے شاہکار عطا کیے جو محض ادبی دستاویز نہیں، بلکہ اردو ادب کا مستقل سرمایہ بن گئے، یہاں پر منٹو کے افسانے گورمکھ سنگھ کی وصیت سب سے بڑی مثال ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بڑا حادثہ ہمیشہ بڑا ادب تخلیق کرتا ہے، عالمی سطح پر جنگِ عظیم اول اور جنگِ عظیم دوم کے پس منظر میں لکھا گیا عالمی ادب بھی اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ اگر ہم اپنے عہد کی بات کریں تو 2005 کا زلزلہ، سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور کرونا جیسے عجیب و غریب حالات بھی ایسے ہی بڑے حادثات ہیں جو اس خطے کے قلمکاروں کے لیے اہم تخلیقی محرک ثابت ہوئے، جن سے ہر ادیب نے اپنی اپنی کہانیاں اور اپنے اپنے منفرد تخلیقی سچ دریافت کیے۔ گویا ہر سانحہ ایک واقعہ تھا مگر اس کے اندر سینکڑوں افسانے پوشیدہ تھے۔ یہ بات شاید اسی لیے کہی جاتی ہے کہ تاریخ یا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیا ہوا تھا، جبکہ افسانہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان پر کیا گزری تھی۔ ارسطو نے اپنی کتاب بوطیقا میں بھی یہی لکھا ہے کہ "تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کیا ہوا، اور شاعری (اس وقت فکشن کا متبادل) یہ بتاتی ہے کہ کیا ہو سکتا تھا۔”

اگر عالمی ادب پر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں بھی اسی طرح کا تخلیقی معاملہ نظر آتا ہے۔ دنیا کے بیشتر بڑے فکشن رائٹر کبھی بھی محض واقعہ نگاری تک محدود نہیں رہے۔ چیخوف کی کہانیوں میں اکثر کوئی بڑا واقعہ سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ بظاہر ایک معمولی سا لمحہ یا روزمرہ کا منظر ہوتا ہے، لیکن وہ اسی معمولی واقعہ کے اندر سے انسانی تنہائی، اداسی، شکست یا کوئی ایسا نفسیاتی پہلو سامنے لاتے ہیں جو عام آدمی کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ موپساں ایک سادہ سے واقعہ کو اس انجام تک لے جاتے ہیں جہاں قاری کو انسانی نفسیات کا نیا رخ دکھائی دینے لگتا ہے۔ مارکیز عام حقیقت کے اندر غیر معمولی حقیقت دریافت کرتے ہیں، جبکہ کافکا ناممکن کو ممکن بنا کر انسان کی داخلی حقیقت خود اسی پر ہی آشکار کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کہانی اور افسانے میں اصل فرق کیا ہے؟

میرے نزدیک افسانہ نہ تو کوئی جامد فارمولا ہے اور نہ ہی ریاضی کا کوئی طے شدہ کلیہ کہ دو جمع دو ہمیشہ چار ہی ہوتے ہیں۔ بلکہ افسانہ اسی طے شدہ نتیجے سے انکار کا نام ہے کہ دو جمع دو چار نہیں بلکہ پانچ بھی ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ تخلیقی منطق اسے قابلِ یقین سچ بنا کر پیش کرے یعنی "ایسا ہوا تو نہیں، مگر ایسا ہو بھی سکتا ہے۔” اسی لیے ہر افسانے کے اندر کہانی تو ضرور ہو سکتی ہے مگر ہر کہانی کے اندر افسانہ بھی ہو، یہ ضروری نہیں۔ کیونکہ عام سی کہانی کی کوئی تیکنیک نہیں ہوتی مگر افسانہ بغیر تیکنیک کے ہوتا ہی نہیں۔

اسی تناظر میں، میں افسانے کو ایک ایسا تخلیقی یا تیکنیکی سانچہ سمجھتا ہوں، جس سے کئی طرح کے افسانے تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ جیسے اینٹیں بنانے کا سانچہ ہوتا ہے، جس کے اندر جب بے ڈھب مٹی ڈالی جاتی ہے تو اس میں سے غیر ضروری مٹی خود بخود بُھر جاتی ہے اور سانچے میں سے ایک متناسب اور خوب صورت سی اینٹ تشکیل پا کر باہر آ جاتی ہے۔ اب یہاں خام مٹی ایک واقعہ ہے، سانچہ تخلیقی رویہ اور اس سانچے سے نکلنے والی اینٹ افسانہ ہے۔ بالکل اسی طرح جب کوئی عام سا واقعہ تخلیقی سانچے میں فٹ کیا جاتا ہے تو اس واقعے کے غیر ضروری حصے الگ ہو جاتے ہیں اور سانچے کے اندر سے ایک خوبصورت سا افسانہ تخلیق ہو کر آ جاتا ہے (یہ تخلیقی سانچہ تخلیق کار کے تخلیقی برتاؤ کے اندر یا اس کے ذہنی رویئے میں ہی موجود ہوتا ہے، جسے وہ خود دریافت کرتا ہے) جوں جوں تیکنیکی سانچہ یعنی تخلیقی رویہ جدید تر ہوتا جاتا ہے، منفرد نوع کے جدید تر افسانے تخلیق ہو تے جاتے ہیں۔ یہ تخلیقی سانچہ سب ادیبوں کے پاس یکساں نہیں ہوتا، بلکہ ہر افسانہ نگار اپنا تخلیقی سانچہ، اپنے تخلیقی برتاؤ، فنی ادراک اور اپنے سکول آف تھاٹ (ذہنی رویہ) کی بدولت ہی تشکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر افسانہ نگار کے افسانوں کی ساخت، اسلوب، تکنیک، فضا اور دیگر فنی لوازمات ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔

اگر اس پوری گفتگو کو مختصراً سمیٹا جائے تو میری نظر میں افسانہ تین بنیادی عناصر سے تشکیل پاتا ہے:

اول: ایک واقعہ یا حادثہ جو افسانے کے لیے خام مال کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوم: اس واقعے کے اندر پوشیدہ اس کے تخلیقی علاقہ کی دریافت۔

سوم: تخلیق کار کا وہ تخلیقی برتاؤ یا تخلیقی و ذہنی تجزیہ، جو اس سچے واقعہ کو یا اس کے اندر پائی جانے والی سچی کہانیوں کو افسانے میں ڈھال دیتا ہے۔

گویا واقعہ بنیاد ہے، کہانی اس کی باطنی صورت، اور افسانہ اس کی تخلیقی تکمیل۔

میری رائے میں ہر واقعہ کے اندر بے شمار سچی کہانیاں موجود ہوتی ہیں، مگر وہ اس وقت تک محض سچی کہانیاں ہی رہتی ہیں، جب تک تخلیق کار انہیں اپنے تخلیقی برتاؤ کے تیکنیکی و تخلیقی سانچے سے گزار کر انہیں افسانے کی صورت نہیں دے دیتا۔ اس اعتبار سے افسانہ کسی عام سے واقعہ یا سچی کہانی کی محض نقل نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی اور ادبی تفہیم ہے۔ اسی لیے نرا واقعہ کبھی بھی افسانہ نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ فکشن کا ٹکڑا نہ جوڑ دیا جائے۔ جیسے خالص سونے سے زیور نہیں بنائے جا سکتے، اس میں کچھ کھوٹ، کچھ ملاوٹ ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی طرح نرے آٹے سے بنائی گئی روٹی کا ایک نوالہ حلق میں نہیں اتارا جا سکتا، جب تک کہ اس میں نمک نہیں ملایا جاتا۔ بالکل اسی طرح واقعہ خام مواد ہے، تخلیقی رویہ اس کی فنی آمیزش اور افسانہ اس آمیزش سے جنم لینے والا مکمل ادبی اظہار یا تیکنیکی فن پارہ۔

اسی بنیاد پر میری نظر میں افسانے اور کہانی کے فرق کو ایک جامع تعریف سے یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

"افسانہ کسی واقعہ کی ہو بہو لفظی نقل نہیں، بلکہ اس واقعہ کے ٹھوس سچ کے اندر پائے جانے والے ایک نئے انداز کے تخلیقی سچ کی دریافت اور اس کا ادبی اظہار ہے۔ تخلیق کار معلوم شدہ حقیقت (واقعہ) کے اندر سے کوئی نامعلوم انسانی، نفسیاتی، علامتی یا نئی طرح کی وجودی حقیقت (فکشن) کو دریافت کرتا ہے، پھر وہ اسے ایسی تخلیقی صورت گری عطا کرتا ہے کہ وہ تخلیق شدہ نئی حقیقت، اس نری ٹھوس حقیقت سے بھی زیادہ سچی معلوم ہونے لگتی ہے، جس کا تخلیقی سطح پر صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ "ایسا ہوا تو نہیں، مگر ایسا ہو بھی سکتا ہے۔” بس یہی فکشن ہے، یہی افسانہ ہے، اور یہی افسانے اور کہانی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔”

Author

Related Articles

Back to top button