اُردو ادبافسانہ

مٹی کے وارث / رانا سرفراز احمد

شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت کے آگے سر نیہوڑ گئے۔ اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے آہستہ آہستہ بلند و بالا عمارتوں کی چوٹیوں پر سر اٹھاۓ کھڑے ہوۓ نظر آنے لگے۔ اس کی مہارتِ فن کا یہ عالم ہو گیا کہ وہ مجسمے زندہ انسانوں کی سی شباہت دینے لگے۔ اس پر سب سے زیادہ اعتراض ان رات کے بوڑھے چوکیداروں کو تھا۔ لیکن اس کے مجسموں میں ایک خرابی آہستہ آہستہ نظر آنے لگی۔ وہ جونہی بلندی پر ٹکتے، سورج کی شعاعوں کے آگے ان کے چہرے پھٹنے لگتے ان میں دراڑیں واضح ہونے لگتیں۔ اور وہ بد صورت لگنے لگتے۔ تاہم کاریگر کی مہارتِ فن انہیں پھر بھی قائم رکھتی۔ ان کے تاثرات زندہ لگتے، گویا وہ کچھ کہنا چاہتے تھے۔۔۔

آہستہ آہستہ شہر کے دوسرے مجسمہ ساز مشینوں سے ڈھلے ہوۓ مجسموں کے ساتھ آگے آنے لگے۔ ان کے مجسموں میں احساسات و جذبات کا زیر و بم نظر نہیں آتا تھا، وہ تیز دھوپ میں گرم ہو جاتے اور شدید سردی میں یخ بستہ ہو جاتے جبکہ معتدل موسم میں معتدل رہتے۔ مشینوں میں ڈھالے ہوۓ یہ مجسمے لوگوں کی سجاوٹ کی ضرورت تو پوری کرتے لیکن ان میں مردہ چہروں سی کرختگی اور مشینی یکسانیت موجود ہوتی۔ اور وہ مٹی کے مجسمہ ساز کے فن پاروں جیسی زندگی کی رمق سے کوسوں دور ہوتے۔
لیکن شہر والوں کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ فطرت سے قریب، زندگی کی رمق سے بھرپور اور مہارتِ فن کی گرمی سے زندہ مجسمے ان دھاتی یخ بستہ بے جان بتوں سے کس قدر بڑے اور زندہ فن پارے تھے۔

مجسمہ ساز اب بوڑھا ہو گیا، اس کے ہاتھ بھی بوڑھے ہو گئے اور کانپنے لگے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے فن میں اس قدر طاق ہو چکا تھا کہ اب اس کی کانپتی انگلیاں بنا اوزاروں کے ہی شاہکار تخلیق کر دیتیں۔ لیکن اب وہ تنہا ہو چکا تھا، اس کے مجسمے اب اپنے چہروں کے احساسات بدلتے جا رہے تھے۔ وہ پہلے سوالیہ بنے پھر تاسف زدہ لگنے لگے اور آخر کار سپاٹ ہو گئے۔ اب مٹی کے بے شکل تودے کبھی کبھی خود ہی کوئی روپ دھارتے نظر آنے لگتے۔ گویا ایک روح تھی جو ہر مجسمے اور ہر تودے میں پھرنے لگی تھی۔

تبھی شہر کے قبرستانوں کی ابدی خاموشی نے بھی احتجاج شروع کر دیا۔ مجسمہ ساز اب انہیں مزید انکار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x