منتخب کالم

جب سکول محفوظ نہیں ہوتے: کاہنہ کے سانحے سے پاکستان کے تعلیمی نظام، قیادت اور قومی ضمیر کے نام ایک کھلا خط

تحریر: شعیب طاہر

پاکستان میں تعلیمی تحفظ اور اسکول سیفٹی کا منظر

جب سکول محفوظ نہیں ہوتے: کاہنہ کے سانحے سے پاکستان کے تعلیمی نظام، قیادت اور قومی ضمیر کے نام ایک کھلا خط

تحریر: شعیب طاہر
|
زمرہ: تعلیمی اصلاحات، قومی امور

"تعلیم کی پہلی شرط نصاب نہیں، تحفظ ہے۔ جو ریاست اپنے بچوں کو کمرہ جماعت میں زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتی، وہ انہیں مستقبل کے خواب دیکھنے کا حق بھی نہیں دے سکتی۔”

لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ، جس میں ایک مقامی ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد طالب علم شدید زخمی ہوئے، صرف ایک افسوسناک خبر نہیں ہے؛ یہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس نے پورے ملک کے اجتماعی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ ان ہزاروں والدین کے دلوں میں خوف، اضطراب اور بے یقینی کی ایک گہری لہر پیدا کر گیا ہے جو ہر صبح اپنے معصوم بچوں کو علم کی پیاس بجھانے کے لیے گھروں سے الوداع کرتے ہیں اور شام کو ان کی محفوظ واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔

جب ایک عام شہری اپنے بچے کو کسی تعلیمی ادارے کے سپرد کرتا ہے، تو وہ درحقیقت ریاست اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ایک غیر تحریری سماجی معاہدہ (Social Contract) کر رہا ہوتا ہے کہ اس کا بچہ وہاں جسمانی اور ذہنی طور پر محفوظ رہے گا۔ کاہنہ کے اس ہولناک حادثے نے اس معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور ہمارے پورے تعلیمی انفراسٹرکچر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

جب ایک بچہ مرتا ہے تو صرف ایک جان نہیں جاتی

ہمارا معاشرہ اب بدقسمتی سے حادثات کو صرف اعداد و شمار اور گنتی کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ جب میڈیا پر خبر چلتی ہے کہ "کاہنہ حادثے میں اتنے بچے جاں بحق ہو گئے”، تو ہم ایک عدد سنتے ہیں، تھوڑی دیر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عدد، ہر ہندسے کے پیچھے ایک دھڑکتا ہوا دل، ایک ہنستا کھیلتا خاندان اور امکانات سے بھری ایک پوری کائنات ہوتی ہے جو ہمیشہ کے لیے مٹی میں مل جاتی ہے۔


  • وہ بچہ جو مستقبل کا مسیحا بننا چاہتا تھا: وہ بچہ جو راتوں کو جاگ کر اس لیے پڑھتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے غریب والدین کا سہارا بنے گا اور اپنے پسماندہ علاقے میں مفت کلینک کھولے گا۔ اس کے ساتھ اس علاقے کا ایک متوقع مسیحا بھی ملبے تلے دم توڑ گیا۔

  • وہ بچی جو اپنی کلاس میں ہمیشہ اول آتی تھی: وہ ننھی پری جس کے خواب علم کی روشنی پھیلانا اور معاشرے میں خواتین کی خود مختاری کے لیے کام کرنا تھا۔ اس کے ہاتھ سے لکھی ڈائری اور اس کے نامکمل خواب اب کچی مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

  • وہ طالب علم جو والدین کی امیدوں کا واحد مرکز تھا: وہ اکلوتا بیٹا جس کے اچھے مستقبل کی خاطر باپ نے اپنی ادویات کا خرچ بچایا اور ماں نے راتوں کی نیندیں حرام کیں۔ اس کے رخصت ہوتے ہی اس بوڑھے خاندان کی پوری دنیا اندھیر ہو گئی۔

  • وہ بچہ جس نے ابھی زندگی کے خوبصورت خواب بننا شروع کیے تھے: وہ معصوم ذہن جس نے ابھی اچھے اور برے کا فرق بھی نہیں سیکھا تھا، جسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کچی چھتوں کے نیچے بیٹھنا کتنا بڑا جرم بن سکتا ہے۔

جب ایسے معصوم بچے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو صرف انسانوں کی موت نہیں ہوتی، بلکہ ملک کے متوقع سائنسدانوں، انجینئرز، ادیبوں، اور رہنماؤں کی موت ہوتی ہے۔ ہم بحیثیت قوم ہر روز اپنے مستقبل کا ایک حصہ اس غفلت کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

تعلیم کی پہلی شرط: تحفظ اور امن

پاکستان میں جب بھی تعلیمی اصلاحات کی بات کی جاتی ہے، تو ہماری تمام تر توانائیاں اور طویل گفتگو صرف چند روایتی دائروں کے گرد گھومتی ہے: نصاب تعلیم، امتحانی نظام میں تبدیلیاں، شرح خواندگی کا بڑھانا، اور نجی و سرکاری اسکولوں کا موازنہ۔ لیکن ہم ایک انتہائی بنیادی حقیقت کو مسلسل نظر انداز کر دیتے ہیں کہ "تعلیم کی پہلی شرط تحفظ ہے”۔

نفسیاتی تحقیق اور تدریسی علوم (Pedagogy) یہ ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی بچہ اس وقت تک مؤثر انداز میں کچھ نہیں سیکھ سکتا جب تک وہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر مکمل طور پر محفوظ محسوس نہ کرے۔ اگر ایک بچہ خستہ حال کلاس روم میں بیٹھا ہے، جہاں بارش کا پانی چھت سے ٹپک رہا ہو، جہاں بجلی کی تاریں کھلی لٹک رہی ہوں، یا جہاں کسی بھی لمحے چھت گرنے کا خوف ہو، وہاں کوئی عظیم دماغ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ خوف کی فضا میں پیدا ہونے والے ذہن کبھی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل نہیں ہو سکتے۔

کاہنہ کا سانحہ: ایک معاشرتی اور انتظامی علامت

ابتدائی تحقیقات اور مقامی اطلاعات کے مطابق، کاہنہ کے اس ٹیوشن سنٹر میں جس وقت یہ دردناک حادثہ پیش آیا، اس وقت عمارت کی چھت پر بارشوں کے موسم کے پیشِ نظر مٹی اور سیمنٹ کی بھرائی اور لیپائی کا کام جاری تھا۔ چھت پر بھاری ملبہ موجود تھا اور متعدد مزدور وہاں کام کر رہے تھے۔ اسی دوران، خستہ حال اور کمزور ساختی ڈھانچے پر اضافی بوجھ پڑنے کی وجہ سے پوری چھت یکدم نیچے بیٹھے معصوم بچوں پر گر گئی۔

حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا، لیکن یہ سانحہ ایک بنیادی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے: پاکستان کے تعلیمی اداروں، خصوصاً نجی ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں میں خطرات کے پیشگی جائزے (Risk Assessment) اور سیفٹی کلچر کی شدید ترین کمی ہے۔ جب چھت پر اتنا بڑا تعمیری کام ہو رہا تھا، تو نیچے بچوں کی کلاسز کیوں جاری رکھی گئیں؟ کیا انتظامیہ کے پاس اتنی عقل بھی نہیں تھی کہ تعمیراتی بوجھ بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے؟

پاکستان میں تعلیمی عمارتوں اور انفراسٹرکچر کا بھیانک سچ

ملک بھر میں، خصوصاً گنجان آباد شہری علاقوں اور غریب بستیوں میں ہزاروں اسکول، اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹر ایسی عمارتوں میں قائم ہیں جو کبھی تعلیمی مقاصد کے لیے تعمیر ہی نہیں کی گئیں۔ یہ ادارے رہائشی گھروں کی تنگ گلیوں میں واقع ہیں اور ان میں درج ذیل سنگین مسائل پائے جاتے ہیں:

🚨 تعلیمی اداروں کے پوشیدہ خطرات

  • رہائشی گھروں کی کمرشلائزیشن: 3 سے 5 مرلے کے چھوٹے رہائشی مکانات کو کلاس رومز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جہاں ہوا اور روشنی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا۔
  • غیر قانونی توسیعات: مالکان زیادہ منافع کے لالچ میں پرانی اور کمزور بنیادوں پر تیسری اور چوتھی منزل بھی تعمیر کر دیتے ہیں۔
  • گنجائش سے زیادہ بچے: ایک چھوٹے سے کمرے میں 40 سے 50 بچوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں دم گھٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔
  • ناقص برقی نظام: بجلی کی تاریں کھلے عام لٹک رہی ہوتی ہیں اور گیلے موسم میں دیواروں میں کرنٹ آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
  • ہنگامی راستوں کا فقدان: آگ لگنے یا زلزلہ آنے کی صورت میں باہر نکلنے کا صرف ایک ہی تنگ راستہ ہوتا ہے، جس سے بھگدڑ مچنے کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

ہم سانحات سے کیوں نہیں سیکھتے؟ (Reactiveness vs. Preventiveness)

پاکستان کی اجتماعی تاریخ میں ایسے بیسیوں واقعات موجود ہیں جنہوں نے ہمارے حفاظتی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم حادثات کے بعد ردعمل (Reactive Approach) دیتے ہیں، حادثات سے پہلے حفاظتی تدابیر (Preventive Approach) اختیار نہیں کرتے۔

ہماری روایتی انتظامیہ کا دائرہ کار:

1. سانحہ ہونا

2. میڈیا اور عوامی غصہ

3. کمیٹی کا قیام

4. چند دن بعد خاموشی

جب تک ہم اپنے حکومتی اور ادارہ جاتی رویے کو "ری ایکٹو” سے بدل کر "پریوینٹو” (روک تھام پر مبنی) نہیں کریں گے، تب تک ہم اپنے معصوم بچوں کو ایسے ہی ہولناک سانحات کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔ جدید انتظامی فلسفہ کسی خطرے کے آنے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ خطرے کے پیش آنے سے پہلے ہی اس کا مستقل سدِباب کرتا ہے۔

تعلیمی قیادت کا اصل امتحان اور ذمہ داریاں

کسی بھی تعلیمی ادارے کا سربراہ، پرنسپل یا مالک صرف ایک بزنس مین یا منتظم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ادارے کی حدود کے اندر موجود ہر ایک بچے کی زندگی اور صحت کا امانت دار ہوتا ہے۔ ایک کامیاب اور حقیقی پرنسپل صرف اچھے نتائج نہیں دیتا، وہ اپنے بچوں کو سو فیصد محفوظ ماحول بھی دیتا ہے۔

ہر اسکول، کالج اور اکیڈمی کے سربراہ کو روزانہ کی بنیاد پر خود سے یہ سوالات پوچھنے چاہئیں اور ان کے عملی حل تلاش کرنے چاہئیں:

نمبر بنیادی سوال عملی اور فوری حل
1 کیا میری عمارت ساختی طور پر محفوظ ہے؟ کسی مستند سول انجینئر سے بلڈنگ فٹنس کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
2 کیا میرے پاس خطرات کی فہرست (Risk Register) ہے؟ روزانہ کی بنیاد پر کھلی تاروں، پھسلتے ہوئے فرشوں اور خستہ چھتوں کا معائنہ کریں۔
3 کیا عملہ ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت رکھتا ہے؟ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے لیے ریسکیو 1122 سے فرسٹ ایڈ کی تربیت لازمی کروائیں۔
4 کیا طلبہ ہنگامی انخلاء کا طریقہ کار جانتے ہیں؟ ہر ماہ زلزلے اور آگ سے بچاؤ کی عملی مشقیں (Mock Drills) کروائیں۔

یونیسکو اور یونیسیف کا نقطۂ نظر (CSS Framework)

عالمی سطح پر بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محفوظ تعلیمی ماحول ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ Safe Schools Framework کے مطابق، کسی بھی محفوظ تعلیمی ادارے کے تین بنیادی ستون ہوتے ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا:

➊ محفوظ عمارتیں

ایسی عمارتیں جن کی بنیادیں مضبوط ہوں، جو زلزلے اور شدید طوفانی بارشوں کے بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور جہاں ہنگامی اخراج کے راستے کھلے ہوں۔

➋ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ

اسکول کی سطح پر آفات سے نمٹنے کی ایک فعال کمیٹی کا قیام، جو ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں کے ساتھ مل کر فوری طور پر بچوں کا انخلاء یقینی بنا سکے۔

➌ حفاظتی تعلیم اور تربیت

اسکول کے نصاب اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بنیادی فرسٹ ایڈ، فائر فائٹنگ اور ہنگامی بچاؤ کے طریقوں کی تعلیم کو مستقل بنیادوں پر شامل کرنا۔

والدین: خاموش اسٹیک ہولڈر — اب بولنا ہوگا

پاکستان میں والدین عام طور پر صرف اسکول کے نتائج، فیس، دوری اور اسکول کی ظاہری شہرت کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن کاہنہ کے سانحے نے ثابت کیا ہے کہ یہ چمک دمک بالکل بے معنی ہے اگر عمارت کا ڈھانچہ ہی کمزور ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ والدین ایک "خاموش تماشائی” کا کردار چھوڑیں اور اپنے بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔

📋 داخلے سے پہلے والدین کے لیے لازمی چیک لسٹ:

  • کیا عمارت کا سٹرکچرل سیفٹی سرٹیفکیٹ آویزاں ہے؟
  • کیا اسکول کے ہر فلور پر آگ بجھانے والے آلات (Fire Extinguishers) فعال حالت میں موجود ہیں؟
  • کیا ہنگامی اخراج کا راستہ (Emergency Exit) بالکل صاف اور کھلا ہے؟
  • کیا اسکول میں فرسٹ ایڈ اور ایک تربیت یافتہ طبی نرس موجود ہے؟
  • بجلی کے میٹر اور مین سوئچ بورڈز بچوں کی پہنچ سے کتنے دور اور کس حد تک محفوظ ہیں؟

حکومت کے لیے 10 اہم اور فوری پالیسی سفارشات

کاہنہ جیسے دل دہلا دینے والے حادثات کا مستقل تدارک صرف بیانات یا معطلیوں سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے طویل مدتی اور ٹھوس قانون سازی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو فوری طور پر درج ذیل 10 سفارشات پر عملدرآمد کرنا چاہیے:

  1. قومی سکول سیفٹی ایکٹ کا نفاذ: پارلیمنٹ کے ذریعے ایک ایسا جامع قانون پاس کیا جائے جس کے تحت ہر نجی اور سرکاری اسکول کے لیے حفاظتی معیارات کا نفاذ قانونی طور پر لازم ہو۔
  2. لازمی سالانہ تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ: کسی آزاد انجینئرنگ فرم سے ہر سال اسکول کی عمارت، بجلی اور فائر سیفٹی کا معائنہ کرایا جائے اور اس کی رپورٹ پبلک کی جائے۔
  3. رہائشی عمارتوں پر پابندی: رہائشی گھروں میں چلنے والے اسکولوں کو 3 سال کی مہلت دی جائے کہ وہ اپنے انفراسٹرکچر کو جدید تجارتی اور تعلیمی معیار کے مطابق ڈھالیں۔
  4. ایمرجنسی رسپانس ہاٹ لائن: اسکولوں کے لیے ہنگامی ہیلپ لائن بنائی جائے جو براہ راست ریسکیو 1122 اور قریبی اسپتالوں کے ساتھ منسلک ہو۔
  5. غیر تدریسی عملے کی تربیت: ہر اسکول کے چوکیدار، خاکروب اور انتظامی عملے کے لیے ہنگامی انخلاء اور فرسٹ ایڈ کی تربیت لازمی کی جائے۔
  6. رجسٹریشن کا مشروط ہونا: صوبائی تعلیمی اتھارٹیز اسکولوں کی رجسٹریشن کو بلڈنگ فٹنس اور سکیورٹی کلیرنس کے ساتھ سو فیصد مشروط کریں۔
  7. ڈیجیٹل نگرانی کا نظام: ہر اسکول کے لیے ایک آن لائن سیفٹی پورٹل بنایا جائے جہاں والدین اسکول کی حفاظتی کوتاہیوں کے بارے میں خفیہ شکایت درج کرا سکیں۔
  8. سکول سیفٹی فنڈ: سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی فوری مرمت کے لیے سالانہ بجٹ میں خصوصی فنڈ مختص کیا جائے۔
  9. والدین کی حقیقی نمائندگی: ہر اسکول میں پیرنٹ-ٹیچر کونسل (PTC) کو قانونی اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ اسکول کے فنڈز اور حفاظتی امور کا خود جائزہ لے سکیں۔
  10. مجرمانہ غفلت پر فوجداری قوانین: غفلت برتنے والے اسکول مالکان اور منظوری دینے والے سرکاری افسران کے خلاف اقدامِ قتل کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

پاکستان کے تعلیمی نیٹ ورکس کے لیے ایکشن پلان (اگلے 30 دن کی اصلاحات)

ملک کے بڑے پرائیویٹ اسکول سسٹمز، فاؤنڈیشنز، اور تعلیمی تنظیمیں چاہیں تو اس سانحے کو ایک قومی اصلاحاتی تحریک میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اگلے 30 دنوں میں درج ذیل فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:

پہلا ہفتہ: فوری تعلیمی آڈٹ

اپنی تمام برانچز اور اسکولوں کے کیمپس کا ایک تفصیلی اندرونی سیفٹی آڈٹ مکمل کریں اور خستہ حصوں کی نشاندہی کریں۔

دوسرا ہفتہ: ہنگامی ریسکیو مشقیں

ریسکیو 1122 کے تعاون سے تمام اساتذہ، عملے اور طلبہ کے لیے زلزلے اور آگ سے بچاؤ کی لائیو ٹریننگ ڈرلز منعقد کریں۔

تیسرا ہفتہ: رسک رجسٹر کی فائنلائزیشن

ہر برانچ میں نظر آنے والے تمام خطرات (جیسے ننگی تاریں، پھسلتے ہوئے فرش) کو فوری مرمت کر کے مکمل کلیئر کریں۔

چوتھا ہفتہ: پیرنٹ بریفنگ سیشنز

تمام والدین کو بلوا کر اسکول کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں اور ان کا فیڈ بیک لیں۔

ایک قوم کے نام پیغام: یاد رکھیں اور عہد کریں

کاہنہ کے وہ معصوم بچے جو ملبے تلے دب کر ابدی نیند سو گئے، وہ اب کبھی لوٹ کر واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے بوڑھے والدین کی خالی گود کبھی نہیں بھر سکے گی۔ لیکن ان معصوموں کی یاد ہمیں ایک بہت بڑی اور سنگین قومی ذمہ داری سونپتی ہے۔

وہ ذمہ داری یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی اور غریب یا امیر بچے کو اب ایسی انتظامی مجرمانہ غفلت اور ہوسِ زر کی قیمت اپنی معصوم جان سے ادا نہ کرنی پڑے۔ اگر ہم واقعی اپنے ملک کے مستقبل کو تابناک بنانا چاہتے ہیں، تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کو بچوں کے لیے قلعہ نما پناہ گاہوں میں تبدیل کریں۔

حاصل کلام (Conclusion)

قوموں کی ترقی اور ان کا وقار بلند و بالا عمارتوں، میگا پراجیکٹس یا زبانی جمع خرچ پر مبنی نعروں سے نہیں ہوتا۔ قوموں کی اصل عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سب سے قیمتی اور معصوم اثاثے، یعنی اپنے بچوں کی حفاظت کس حد تک کرتی ہیں۔

اگر ہم واقعی تعلیمی میدان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، تو اس کا نقطہ آغاز نصابی کتب سے نہیں، بلکہ اسکولوں کے سیفٹی انفراسٹرکچر سے ہونا چاہیے۔ کاہنہ کے ان معصوم شہید بچوں کی روح کے لیے سب سے بڑی دعا، ان کے خاندانوں کے لیے سب سے بڑا انصاف، اور ہماری طرف سے سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ہم دوبارہ ایسا کوئی بھی حادثہ رونما نہ ہونے دیں۔


SEO Keywords: کاہنہ سانحہ، لاہور ٹیوشن سنٹر حادثہ، سکول سیفٹی پاکستان، تعلیمی اداروں کی حفاظت، سکول پرنسپل کی ذمہ داریاں، Safe Schools Pakistan، تعلیمی قیادت، سکول انفراسٹرکچر، پاکستان ایجوکیشن سسٹم، بچوں کی حفاظت۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x