
“ابے چاۓ تو لے آ…”
“لا رہا ہوں، صبر کر ذرا…”
عبدالرحمٰن نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔ چولہے پر رکھی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور وہ ساتھ ساتھ صبح کی کلاس کے نوٹس دہرا رہا تھا۔
“تیرا یہ شروع دن سے مسئلہ ہے…” فیصل نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا، “ہر وقت کتابیں۔۔۔ ابے کسی اور کام پر بھی دھیان دیا کر۔”
عبدالرحمٰن ہنس دیا۔ “اور تیرا مسئلہ یہ ہے کہ کتاب کھولتے ہی نیند آ جاتی ہے۔۔۔ گویا کتابیں تیرے لئے ماں باپ کی نصیحتیں ہیں۔”
فیصل نے سگریٹ سلگایا اور ذرا سینہ تان کر بولا، “ہمیں نوکری کی اتنی ٹینشن نہیں، اپنا گزارہ ہو ہی جاتا ہے۔” ویسے جس طرح تو چاۓ بناتا ہے، اگر تو عورت ہوتا نا تو اپنے میاں کی بڑی اچھی بیوی ہوتا۔۔۔ہاہاہاہاہا” فیصل اپنی ہی بات پہ زور سے ہنسا۔ عبدالرحمٰن نے اس کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے کپ میں چاۓ انڈیلنے لگا۔
یونیورسٹی کے سامنے مین روڈ پر واقع عبدالرحمٰن کا چھوٹا سا کھوکھا شام ڈھلتے ہی آباد ہو جاتا تھا۔ چولہے پر ابلتی چائے کی بھاپ میں الائچی کی خوشبو گھل جاتی اور سڑک سے گزرتی گاڑیوں کا شور کپوں کی کھنک اور گاہکوں کی باتوں میں مدھم پڑ جاتا۔ طلبہ، رکشہ ڈرائیور، دکاندار اور راہ گیر چند لمحوں کی راحت کی خاطر وہاں آ بیٹھتے۔ جبکہ خود عبدالرحمٰن صبح یونیورسٹی میں کلاسیں اٹینڈ کرتا اور دوپہر کے بعد اسی کھوکھے پر بیٹھ کر اپنے خوابوں اور خوابوں کی قیمت دونوں کو ساتھ ساتھ سنبھالتا رہتا۔
کئی دفعہ پروفیسرز اس کے کھوکھے پہ آ جاتے اور اس کی چاۓ کے رسیا بن کر رہ جاتے۔ ایک دن پروفیسر فضل الدین نے ہنستے ہوۓ اسے کہا “تم ذہین اور محنتی ہو۔۔۔ بس گاؤں واپس مت جانا۔ ورنہ ساری عمر چوہدریوں کی غلامی میں گزرے گی۔۔۔” فیصل نے پروفیسر فضل الدین کے الفاظ سن لئے لیکن کچھ کہہ نہ سکا۔
یونہی دن رات گزرتے رہے حتیٰ کہ تین ماہ بعد سمسٹر ختم ہو گیا اور فیصل اور عبد الرحمان اپنے اپنے گاؤں چلے آۓ۔
عبدالرحمٰن نے اپنا اچھا خاصا چلتا ہوا چاۓ کا کھوکھا انویسٹمنٹ سے ڈبل پرافٹ میں بیچا۔ اپنا سامان باندھا اور لے کر بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔ فیصل نے واپس آتے ہوۓ عبدالرحمٰن کو سامان اٹھاۓ گاڑی کی تلاش میں دیکھا تو ذرا آگے جا کر واپس لوٹا اور اسے کہا، "چل آ تو بھی آج ویگو ڈالے کی سواری کر لے، میرے ساتھ ہی آ جا، کہاں گاڑیوں میں کراۓ بھرتا پھرے گا۔ اور ہاں دو ماہ بعد بھائی کی شادی ہے تیاری کر لینا۔۔۔” باقی سفر ایک دوسرے سے تعلق نبھانے اور ملتے جلتے رہنے اور آگے کی پڑھائی کی باتوں میں کٹ گیا۔
گاؤں کے قریب پہنچتے پہنچتے سورج مغرب کی طرف جھک چکا تھا۔ سنہری روشنی نہر کے پانی پر بکھری ہوئی تھی اور کناروں پر کھڑے کیکر اور بابول کے درخت لمبے سائے ڈال رہے تھے۔ فیصل نے پل کے درمیان گاڑی روک کر عبدالرحمٰن کو اترنے کا اشارہ کیا اور سائیڈ مرر صاف کرنے کو کہا۔ عبدالرحمٰن نے خاموشی سے رومال نکالا اور مرر پر جمی گرد صاف کرنے لگا۔ پھر اپنا سامان اٹھائے نہر کے اِس طرف اپنے گاؤں کی جانب چل پڑا، جبکہ فیصل کی ویگو دھول اڑاتی ہوئی نہر کے اُس پار واقع اپنے گاؤں کی طرف بڑھ گئی۔
"بیٹا عبدالرحمٰن اٹھ ذرا۔۔۔ معلوم کر کہ یہ آدھی رات کو فائرنگ کی آواز کیسی ہے؟ پورا گاؤں لرز رہا ہے۔”
"اماں کہیں گاؤں میں ڈاکو نہ آئے ہوں میں ابھی پولیس کو فون کرتا ہوں۔” عبدالرحمٰن نے فون پر پولیس کو فائرنگ سے آگاہ کیا۔
کچھ دیر میں پولیس آ گئی لیکن اس سے کچھ دیر قبل ہی فائرنگ رک گئی۔ گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا۔ اے ایس آئی نے چند ایک سے گواہی لی۔ بشیر موچی، اسلم قصائی، لقمان نائی اور کافی لوگوں نے فائرنگ کی آوازیں سننے کی تردید کی اور کہا کہ ہم نے کچھ نہیں سنا۔ پولیس نے غلط اطلاع پر عبدالرحمٰن کو گرفتار کر لیا۔ عبدالرحمٰن نے ایک نظر گاؤں والوں پر ڈالی۔ چند لوگ نظریں چرا رہے تھے، چند خاموش کھڑے تھے اور کچھ ایسے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ رات کی ٹھنڈی ہوا میں بارود کی ہلکی سی بو اب بھی تیر رہی تھی، مگر سچ بولنے والی ہر زبان جیسے اچانک گونگی ہو چکی تھی۔ عبدالرحمٰن نے تحیر و افسردگی سے ان سب کو دیکھا۔ اور پولیس کے ساتھ چل دیا۔
"صاحب جی مجھے لگا تھا کہ شاید ڈاکو آ گئے ہیں۔ اس لئے میں نے کال کر دی۔ مجھے تو علم ہی نہ تھا کہ یہ فائرنگ کیوں ہو رہی ہے۔” عبدالرحمٰن نے کانپتے ہوۓ اے ایس آئی کو بتایا۔
"اوۓ اتنا معصوم نہ بن، اب خاموش ہوتا ہے کہ جھوٹی اطلاع دینے کا پرچہ دوں تجھ پر؟” اے ایس آئی دھاڑا۔ اور عبدالرحمٰن مزید پھنسنے کے ڈر سے دل مسوس کر رہ گیا۔
آج عبدالرحمٰن کو حوالات میں تیسرا دن تھا۔
حوالات کی سیلن زدہ دیواروں سے نمی اور پسینے کی ملی جلی بو اٹھتی رہتی تھی۔ زنگ آلود سلاخوں کے پار تھانے کے صحن میں آنے جانے والوں کے قدموں اور پولیس والوں کی بلند آوازوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ دن اور رات ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہو گئے تھے کہ وقت کا احساس تک ماند پڑ گیا تھا۔ عبدالرحمٰن تین دن سے اسی تنگ و تاریک کمرے میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ آخر اس کا قصور کیا تھا۔
اسے حیرت تھی کہ اس کی گرفتاری کی خبر پر فیصل کو آنا چاہئیے تھا۔ حالانکہ اسے فون پر اطلاع بھی دے دی تھی۔
"اوۓ، یہ لے تیرا کھانا آیا ہے چوہدری صاحب کے ڈیرے سے، چوہدری فیصل صاحب نے بھیجا ہے۔ وہ کہتے ہیں تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔” ایک کانسٹیبل نے عبدالرحمٰن کو آ کر کہا۔
اسے کچھ دن قبل ہی ایک لیٹر موصول ہوا جس میں اس کے یونیورسٹی کانووکیشن کی اطلاع تھی جو چند دن بعد ہونا تھا۔ اس کے دل کی بے چینی اور کہیں اندر ہی اندر چھپی ہوئی مایوسی اور خدشات اور بھی بڑھ گئے۔ اسے حوالات کی دیواریں اپنے قریب آتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ گویا وہ اس کا دم گھونٹ دیں گی۔ اس نے اس اندھے کنویں سے باہر چھلانگ لگائی اور اپنے باپ سے کہا، ۔”ابا آج میرا یونیورسٹی کانووکیشن ہے۔ مجھے پہلی پوزیشن پر انعام ملنا ہے۔ فیصل جا رہا ہو گا یونیورسٹی۔۔۔ ابا ایک بار فیصل کو تو فون کر، وہ چوہدری کا بیٹا بھی ہے اور میرا دوست بھی ہے۔ وہ ایک منٹ میں مسئلہ حل کر دے گا۔ ہو سکتا ہے میں اس کے ساتھ کانووکیشن میں بھی چلا جاؤں۔۔۔”عبدالرحمٰن نے اپنے ابا کو تجویز دی۔ "او پترا چپ ہی بھلی ہے۔۔۔”
اس کے باپ نے ہنس کر جواب دیا۔
عبدالرحمٰن کی آنکھوں کے سامنے بار بار یونیورسٹی کا وسیع ہال گھوم جاتا۔ اسے محسوس ہوتا جیسے اسی لمحے اسٹیج کے سامنے طلبہ اور اساتذہ کی قطاریں لگی ہوں، تالیاں بج رہی ہوں اور کسی مائیک سے اس کا نام پکارا جا رہا ہو۔ شاید اس کی نشست خالی پڑی ہو گی اور پروفیسر فضل الدین حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوں گے۔ مگر وہ یہاں، سلاخوں کے پیچھے بیٹھا اپنی زندگی کے سب سے اہم دن کو بے بسی سے گزرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے اس کی محنت، اس کی راتیں، اس کے خواب سب ایک خالی نشست پر رکھے رہ گئے ہوں، اور وہ خود زندگی کے سب سے روشن دن سے بہت دور، اندھیرے میں بیٹھا ہو۔
"ابا اس نے کھانا بھیجا تھا اور کہا تھا کہ تو نے ہمیں کیوں نہیں بتایا؟۔ اس نے کل تھانے بندے بھی بھیجے تھے۔” عبدالرحمٰن نے کہا۔
"چل پھر ابا تم خالد کو کال کرو وہ سی ایم ہاؤس میں سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ میں ہے۔ اس کے فون پہ ہی کوئی بات بنے گی۔” عبدالرحمٰن نے اپنے باپ کو ایک اور مشورہ دیا۔ "پتر وہ فون ہی نہیں اٹھا رہا، ایک بار بات ہوئی تو کہہ رہا تھا آواز نہیں آ رہی۔ پھر اس نے فون ہی نہیں اٹھایا۔۔۔ وہ اب بہت بڑا چوہدری بن گیا ہے۔”
صاحب چوہدری فیصل صاحب آۓ ہیں، عبدالرحمٰن کی ضمانت لے کر۔ اے ایس آئی نے تھانیدار کو بتایا۔
"لے بھائی تیری ضمانت ہو گئی آئندہ کسی کی شکایت نہ لگانا۔۔۔ اور جلدی چلا جا۔ اب ان کتوں کے منہ نہ لگنا، سمجھا کہ پھر سے سمجھاؤں؟” تھانیدار اسے رہائی کی خبر خود دینے آیا تھا۔ عبدالرحمٰن کو ابھی بھی سمجھ نہ آئی کہ اس کی گرفتاری کیوں ہوئی اور کس نے کروائی۔۔۔
"اٹھ پتر، آپنا سامان پکڑ تیری ماں تین دن سے رو رو کر ہلکان ہو گئی ہے۔ اور ہاں چوہدری فیصل شادی کا کارڈ دینے خود آیا تھا۔ اور وہ تیری سندیں بھی دے گیا ہے اور تجھے اپنی زمینوں کا منشی بھی رکھ لیا ہے۔ "عبدالرحمٰن کے باپ نے نہایت خوشی سے خبر سنا کر اپنے پتر کے خیالات کی رو کو توڑا۔
ابھی وہ باپ بیٹا ایس ایچ او کے دفتر سے نکل ہی رہے تھے۔ عبدالرحمٰن ابھی رہائی کی خوشی اور ذہنی الجھن کے درمیان جھول ہی رہا تھا۔ راہداری میں نمی اور گرد کی باسی بو پھیلی ہوئی تھی۔ ایس ایچ او کے کمرے کا دروازہ نیم وا تھا اور اندر سے چائے کے کپوں کی ہلکی سی کھنک اور دھیمی گفتگو کی آوازیں آ رہی تھیں۔ "چلیں سر دفعہ کریں کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی۔۔۔ چوہدری صاب شادی آپ کے بچے کی نہیں ہمارے بچے کی ہے، جو مرضی توپ تفنگ چلائیں کوئی پریشانی نہیں۔۔۔” جواب میں ایک مانوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو اس کے قدم بے اختیار وہیں رک گئے۔ "تھانیدار صاحب ان کمی کمینوں کو ایک فاصلے تک رکھنا ہی عقلمندی ہوتی ہے۔۔۔ ایس ایچ او کی آواز ابھری۔ اس مانوس آواز کو وہ باپ بیٹا ہزاروں میں بھی پہچان سکتے تھے۔
18-05-2026




