انٹرویو

انٹرویو : ڈاکٹر شاہدہ دلاور / انٹرویوور: سیدہ عطرت بتول نقوی

تعارفی خاکہ

ڈاکٹر شاہدہ دلاور ایک ممتاز ادیبہ، شاعرہ، محققہ اور درس و تدریس سے وابستہ علمی شخصیت ہیں جن کی ادبی شناخت اردو شاعری، ناول نگاری، تنقید اور تحقیق کے متنوع میدانوں پر محیط ہے۔ انہوں نے مختلف تعلیمی مراحل میں متعدد مضامین میں ایم اے کی اسناد حاصل کیں اور بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی سطح پر معروف شاعر منیر نیازی کی شخصیت اور فن کو موضوعِ تحقیق بنایا۔

ان کا ادبی سفر محض تخلیق تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری اور تحقیقی تسلسل کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس میں شاعری کو داخلی اظہار، ناول کو تہذیبی شعور اور تحقیق کو فکری جستجو کے طور پر برتا گیا ہے۔ تدریس کے شعبے سے وابستگی نے ان کے علمی و ادبی کام کو مزید وسعت دی ہے اور وہ نئی نسل کی فکری و ادبی تربیت میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ڈاکٹر شاہدہ دلاور کی شخصیت میں تخلیقی حساسیت، علمی سنجیدگی اور فکری خودمختاری کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو انہیں معاصر اردو ادب میں ایک منفرد اور باوقار مقام عطا کرتا ہے

انٹرویو

سوال نمبر 1: ڈاکٹر صاحبہ! آپ اپنے بچپن پر روشنی ڈالتے ہوئے بتائیے کہ خاندانی ماحول اور ابتدائی تربیت کیسی تھی؟

جواب:بچپن محبت، احترام اور خاندانی اقدار کی ایسی پُرسکون فضا میں گزرا جہاں تربیت کو محض نصیحت نہیں بلکہ کردار سازی سمجھا جاتا تھا۔ والدین نے شفقت، علم دوستی اور تہذیبی شعور کے ساتھ ہماری ایسی آبیاری کی کہ مطالعہ، وقت کی قدر، بزرگوں کا احترام اور خوش اخلاقی ہماری شخصیت کا مستقل حوالہ بن گئے۔ آج بھی زندگی میں جو وقار، توازن اور فکری سنجیدگی محسوس ہوتی ہے، وہ اُسی تربیت یافتہ بچپن کی دین ہے۔

سوال: کیا آپ کو لکھنے پڑھنے کا بچپن سے شوق تھا؟ تخلیقی رجحان کس عمر میں پروان چڑھا؟

جواب:لکھنے پڑھنے کا شروع سے ہی شوق تھا۔ بچوں کے رسالوں اور جنگ کے بچوں والے صفحے میں چھوٹی چھوٹی نظمیں اور کہانیاں لکھتی تھی۔ غالباً میں اُس وقت چوتھی یا پانچویں جماعت میں تھی۔ اُس صفحے پر بچوں کی تصاویر بھی لگتی تھیں اور میری تصویر بھی کسی زمانے میں شائع ہوئی تھی۔ میں اُسے ہر وقت پاس رکھتی اور دیکھتی رہتی تھی، یہاں تک کہ وہ تصویر پھٹ گئی۔ بچپن سے ہی لکھتی رہی اور بعد ازاں کالج اور یونیورسٹی کے رسالوں کی ایڈیٹر بھی رہی۔

سوال نمبر 2: لاہور جیسے شہر نے، جو علمی اور ادبی مرکز سمجھا جاتا ہے، آپ کی شخصیت اور فکر میں کیا کردار ادا کیا؟

جواب:لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب، علم اور تخلیقی شعور کی زندہ علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بجا طور پر “سٹی آف لٹریچر” کہا جاتا ہے۔ یہاں ادب صرف لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ زندگی، سماج اور انسان کے باطن کی تفہیم ہے۔ لاہور اپنے دامن میں اُنہی اذہان کو جگہ دیتا ہے جن کے اندر فکر کی تازگی، وژن کی وسعت اور تخلیق کی حرارت موجود ہو۔اس شہر کی ادبی فضا نے مجھے یہ شعور دیا کہ سچا ادب وہی ہے جو اپنی مٹی، اپنے عہد اور انسان کے دکھ سکھ سے جڑا ہو۔ میرے نزدیک لاہور نے میری فکر کو وسعت، لہجے کو وقار اور تخلیق کو ایک نئی معنویت عطا کی۔

سوال نمبر 3: بچپن میں کون سی شخصیت آپ کی آئیڈیل رہی؟

جواب:بچپن دراصل شعور کی ابتدائی تشکیل کا زمانہ ہوتا ہے، اس لیے اُس عہد کی آئیڈیل شخصیات بھی عموماً گھر کے بزرگ ہی ہوتے ہیں۔ ہماری مشرقی تہذیب میں والدین، دادا دادی، نانا نانی، اساتذہ اور خاندان کے باوقار افراد محض رشتے نہیں بلکہ اخلاق، تہذیب اور تربیت کے اولین استعارے سمجھے جاتے ہیں۔ انسان ابتدا میں انہی کے طرزِ عمل، شفقت اور وقار سے متاثر ہو کر زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔

وقت، تجربات اور مطالعہ انسان کے زاویۂ فکر کو مسلسل وسعت دیتے رہتے ہیں، اس لیے عمر کے ہر مرحلے میں انسان کے فکری مراکز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ادبی دنیا میں میر و غالب جیسے عظیم تخلیق کاروں نے میرے شعور کو جِلا بخشی، جبکہ زندگی نے یہ سکھایا کہ سماج خود ایک بڑی درسگاہ ہے، جہاں ہر تجربہ انسان کا معلم بن جاتا ہے۔

تاہم اگر کامل آئیڈیل کی بات کی جائے تو میرے نزدیک وہ ذات صرف حضور نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار کی ہے، کیونکہ باقی تمام شخصیات سے انسان کچھ اوصاف ضرور اخذ کرتا ہے، مگر کمالِ انسانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ وہی مقدس ہستیاں ہیں۔

سوال نمبر 4: گریجویشن کے بعد آپ نے مختلف مضامین میں ایم اے کیے، حالاں کہ بالعموم ایک ایم اے کافی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟

جواب:درحقیقت انسانی زندگی کا ہر مرحلہ اپنی ایک منفرد نفسیاتی کیفیت اور تہذیبی معنویت رکھتا ہے۔ بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے انسان کے باطن میں توانائی، خود اعتمادی اور امکانات کی ایک نئی دنیا آباد ہونے لگتی ہے۔ اُس عمر میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات اُس کے ارادوں کی منتظر ہو اور خواب حقیقت کا روپ دھارنے کے لیے بے تاب ہوں۔ یہی وہ عہد ہوتا ہے جب انسان صرف خواب نہیں دیکھتا بلکہ انھیں تعبیر دینے کا حوصلہ بھی اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

جوانی کا ذہن ایک شفاف آئینے کی مانند ہوتا ہے؛ تازہ، متجسس، جستجو سے معمور اور سیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت سے آراستہ۔ شاید اسی فطری اشتیاق نے مجھے خود کو کسی ایک علمی دائرے تک محدود رکھنے نہیں دیا۔ چنانچہ ایم اے اردو، ایم اے پنجابی، ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایم اے اسلامیات اور ایم اے ایجوکیشن کے میدانوں سے بھی رشتہ استوار ہوتا چلا گیا۔

میرے نزدیک علم محض ڈگریوں کا حصول نہیں بلکہ شعور کے نئے دریچوں کی دریافت کا نام ہے۔ ہر نیا مضمون زندگی کو سمجھنے کا ایک تازہ زاویہ عطا کرتا رہا اور فکر و آگہی کے نئے امکانات وا کرتا گیا۔ میں ہمیشہ یہ محسوس کرتی رہی کہ جب انسان کے اندر جستجو کی پیاس زندہ ہو تو وہ کسی ایک ساحل پر ٹھہر نہیں سکتا۔ قدرت ہر انسان کے اندر ایک خاص استعداد ودیعت کرتی ہے، مگر اس استعداد کو بیدار کرنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے شوقِ علم، مسلسل سیکھنے کی لگن اور فکری توانائی عطا کی، جبکہ گھر والوں کی طرف سے سازگار ماحول اور حوصلہ افزائی نے اس سفر کو مزید آسان بنا دیا۔ اُس وقت زندگی کی بھاری ذمہ داریاں بھی اس شدت سے حائل نہ تھیں، اس لیے میں پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی علمی و فکری پیاس بجھانے میں مصروف رہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سفر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی سے زیادہ ایک باطنی کشش، فکری جستجو اور ربّانی توفیق کا حاصل تھا، جو مجھے ایک علم سے دوسرے علم کی سمت رہنمائی کرتا رہا۔

سوال نمبر 5: آپ نے اپنی ڈاکٹریٹ کے لیے منیر نیازی کو ہی کیوں منتخب کیا؟

جواب:میری بنیادی شناخت ایک شاعرہ کی ہے؛ میں شاعرہ تھی، ہوں اور رہوں گی۔ شاعری میرے لیے محض اظہار نہیں بلکہ ایک داخلی، روحانی اور فکری واردات ہے۔ شاید اسی لیے جب میں نے ڈاکٹریٹ کا سفر شروع کیا تو ابتدا میں میرا موضوع کچھ اور تھا، مگر پھر ایک ایسا لمحہ آیا جس نے میری فکری سمت بدل دی۔

منیر نیازی کے انتقال نے میرے اندر ایک گہری خلش پیدا کی۔ بحیثیت شاعرہ میں نے اُن کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت کی، جبکہ طالب علمی کے زمانے میں لاہور کے متعدد ادبی اعزازات بھی اُنہی کے ہاتھوں وصول کیے۔ یوں اُن کی شخصیت اور فن سے ایک خاموش مگر گہرا تعلق پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔

اُن کے انتقال کے بعد میرے اندر یہ احساس شدت اختیار کر گیا کہ میری تحقیقی کاوش کا محور بھی وہی ہونے چاہییں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹریٹ کا موضوع منیر نیازی کی شخصیت اور فن ہوگا۔ اگرچہ یونیورسٹی کی سطح پر اس فیصلے کی مزاحمت ہوئی اور یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ منیر نیازی پر پی ایچ ڈی کے درجے کا کیا کام ہو سکتا ہے، مگر میرے اندر ایک تخلیقی ضد جاگ چکی تھی۔ میں نے واضح کر دیا کہ اگر تحقیق کروں گی تو اسی موضوع پر، وگرنہ نہیں۔ بالآخر میری استقامت رنگ لائی اور اجازت مل گئی۔

دراصل منیر نیازی کی شخصیت اور میری فکری ساخت میں ایک داخلی مماثلت تھی۔ وہ آزاد فکر، خوددار اور دنیاوی حرص سے بے نیاز انسان تھے۔ اُن کی شاعری میں معاشرے کی روشنی بھی ہے اور اس کی تاریکیاں بھی، انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں بھی ہیں اور عہدِ حاضر کی بے سمتی بھی۔ اُن کے اسلوب کی انجانی اداسی، فکری تنہائی اور تخلیقی وقار مجھے ہمیشہ مسحور کرتے رہے۔ اُن کی شاعری محض شعر نہیں، ایک داخلی سفر محسوس ہوتی ہے، اور شاید یہی سبب ہے کہ میں نے اُنہیں اپنے تحقیقی سفر کا مرکز بنایا؛ کیونکہ بعض فنکار صرف پڑھے نہیں جاتے، انسان کے باطن میں اتر جاتے ہیں۔

سوال نمبر 6: درس و تدریس کے شعبے کے انتخاب کی کیا وجہ تھی؟

جواب:تدریس کا شعبہ میرے لیے محض ایک پیشہ کبھی نہیں رہا بلکہ یہ ایک روحانی، فکری اور تہذیبی ذمہ داری کا استعارہ رہا ہے۔ شاید میرے لاشعور میں ابتدا ہی سے یہ احساس راسخ تھا کہ معلمی ایک مقدس منصب ہے؛ یہ وہ شعبہ ہے جسے انبیا سے نسبت حاصل ہے، کیونکہ علم دراصل انبیا کی میراث ہے۔ اسی لیے میرے اندر ہمیشہ یہ عقیدہ موجود رہا کہ اگر دنیا میں کوئی شخصیت انسان کو حقیقی معنوں میں “انسان” بنا سکتی ہے تو وہ استاد کی شخصیت ہے۔

استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ کردار، شعور، تہذیب اور فکر کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ وہ ذہنوں کو روشنی دیتا ہے اور شخصیتوں کو سمت عطا کرتا ہے۔ شاید یہی احساسِ ذمہ داری میرے لاشعور میں کہیں بہت گہرائی سے موجود تھا کہ جو کچھ میں نے سیکھا، جو تجربات اور شعور مجھے میسر آئے، انھیں اگلی نسلوں تک منتقل کرنا میرا فرض ہے۔

میرے نزدیک علم اگر سینوں میں مقید رہ جائے تو اس کی تاثیر محدود ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے تو تہذیبوں کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ معاشرے میں جو فکری، اخلاقی یا شعوری خلا دکھائی دیتا ہے، اپنی بساط کے مطابق اس کے تدارک میں کوئی کردار ادا کر سکوں۔

تدریس دراصل حرف اور شعور کا سفر ہے۔ جب انسان اچھا لفظ سیکھتا ہے، اس کی معنویت کو سمجھتا ہے، اسے تخلیق کرتا ہے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے تو ایک داخلی سکون، ایک روحانی آسودگی اور ذہنی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ میرے لیے کلاس روم محض چار دیواری نہیں بلکہ ایک فکری کائنات ہے، جہاں لفظ صرف ادا نہیں ہوتے بلکہ شخصیتوں کی تشکیل کرتے ہیں۔اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ معلمی اُن چند شعبوں میں سے ایک ہے جہاں انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر نسلوں کی تعمیر میں شریک ہوتا ہے، اور شاید یہی احساس کسی بھی استاد کے لیے سب سے بڑی تسکین بن جاتا ہے۔

سوال نمبر 7: پہلی نظم، غزل یا کتاب کون سی تھی؟

جواب:اگرچہ مجھے یہ دقیق طور پر یاد نہیں کہ میری اولین نظم، پہلی غزل، ابتدائی افسانہ یا اوّلین تنقیدی تحریر کون سی تھی، کیونکہ لکھنے کا عمل میری زندگی میں کسی باقاعدہ اعلان کے ساتھ نہیں آیا بلکہ یہ ایک تدریجی اور فطری بہاؤ کی صورت میں میرے شعور کا حصہ بنتا چلا گیا۔ میں ادبی حلقوں، بالخصوص حلقۂ اربابِ ذوق کی نشستوں میں بھی ابتدا ہی سے شریک رہی، لکھتی بھی رہی اور سناتی بھی رہی۔ بعد ازاں اپنی ایک تحریر حلقے میں پیش کرنے کے بعد باقاعدہ رکنیت حاصل کی، مگر تخلیق کا سفر اس سے کہیں پہلے خاموشی سے میرے اندر جاری ہو چکا تھا۔

البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ میری پہلی باقاعدہ تصنیف سنہ 2005ء میں منظرِ عام پر آئی۔ یہ شاعری کا مجموعہ تھا، اور شاید میرے داخلی احساسات، خوابوں اور فکری ارتعاشات کا پہلا باضابطہ اظہاریہ بھی۔ اُس کتاب کے بعد پھر اردو، پنجابی اور گورمکھی میں یکے بعد دیگرے کئی کتب شائع ہوتی چلی گئیں، اور یوں تخلیق کا یہ سفر وسعت اختیار کرتا گیا۔

درحقیقت اُس زمانے میں، جب میری پہلی کتاب شائع ہوئی، میں جامعہ کی طالبہ تھی۔ میرے احباب، اساتذہ اور کلاس فیلوز اکثر میری شاعری سن کر یہ سوال کرتے کہ “جب آپ اتنا لکھتی ہیں تو آپ کی کتاب کیوں نہیں آتی؟” شاید اُن کی حوصلہ افزائی، محبت اور مسلسل اصرار ہی وہ محرک بنا جس نے میرے اندر پوشیدہ تخلیقی اعتماد کو بیدار کیا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا، مگر اس کے گرد موجود لوگ اُس کے باطن میں چھپی روشنی کو پہلے پہچان لیتے ہیں۔ میری پہلی کتاب بھی دراصل اسی اجتماعی اعتماد، رفاقت اور علمی ماحول کی عطا تھی، جس نے ایک طالبہ کو باقاعدہ شاعرہ بننے کا حوصلہ دیا۔

سوال نمبر 8: اب تک آپ کی کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور کن اصناف پر کام کیا؟

جواب:اگر میرے ادبی سفر کے منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ سفر محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ احساس، فکر، تجربے اور تخلیقی ریاضت کی ایک مسلسل داستان محسوس ہوتا ہے۔ الحمدللہ، اب تک میری سترہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں شاعری، تنقید، تحقیق، ناول، افسانہ اور اخباری کالم اپنے اپنے فکری اور تخلیقی حوالوں کے ساتھ شامل ہیں۔

میرے لیے ادب کسی ایک صنف تک محدود نہیں رہا۔ شاعری میرے باطن کی آواز ہے، افسانہ میرے مشاہدے کی تعبیر، تحقیق میرے شعور کی جستجو اور ناول میرے عہد کے انسان کی داخلی کہانی۔ اسی لیے میں نے کسی ایک جہت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر صنفِ ادب میں اپنے احساس اور فکر کو اظہار دینے کی کوشش کی۔

خصوصاً ناول نگاری نے حالیہ برسوں میں میرے ادبی سفر کو ایک نئی وسعت عطا کی ہے۔ میرے کئی ناول پاکستان اور بھارت سے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ بھارت سے میرے چار ناول باقاعدہ منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں “زندگی ایک ناراض متن”، “سمے کا ساحل”، “غیر مطبوعہ جیون” اور “مضرابِ خاک” شامل ہیں۔

یہ میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ معتبر ادارے “میٹر لنک” نے نہ صرف میرے ناولوں کو شائع کیا بلکہ بے حد احترام اور ادبی وقار کے ساتھ انھیں قارئین تک پہنچایا۔ انھوں نے میرے ناول “زندگی ایک ناراض متن” کا انگریزی ترجمہ “Life is an Anguish Text” کے عنوان سے شائع کیا، جو گزشتہ برس منظرِ عام پر آیا، اور اب دیگر ناول بھی اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں شائع کیے جا رہے ہیں۔

ادب کی یہ خوشبو صرف اردو یا پنجابی تک محدود نہیں رہی بلکہ میرے ناول “زندگی ایک ناراض متن” کا فارسی ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے، جسے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج سے وابستہ علمی حلقوں نے ممکن بنایا۔ اسی ناول پر ڈاکٹر شوکت حیات کی نگرانی میں ایم فل سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا گیا، جو میرے لیے بطور تخلیق کار ایک خوشگوار اور حوصلہ افزا تجربہ تھا۔

میں اس تمام ادبی سفر کو اپنی زندگی کی ایک خاموش کمائی سمجھتی ہوں؛ ایسی کمائی جو زر و مال سے نہیں بلکہ لفظ، احساس اور قاری کے اعتماد سے وجود میں آتی ہے۔ ابھی بھی کئی کتابیں زیرِ ترتیب ہیں، کئی مسودے وقت کے دریچوں میں سانس لے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت انھیں کب اور کس صورت میں منظرِ عام پر لاتا ہے۔

بہرحال مجھے اپنی یادگار کتاب نعتیہ مجموعہ “وسیلہ” لگتا ہے۔ اس کے بعد “زندگی ایک ناراض متن” اور “آہنگیا” ہیں۔

سوال نمبر 9: آپ کے ناولوں پر معروف ادیبوں کی طرح بہت تحقیق ہو چکی ہے اور اس وقت چالیس کے قریب تھیسز لکھے جا چکے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب:جی ہاں، میرے ناولوں پر جس سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ تحقیقی کام ہو رہا ہے، وہ میرے لیے محض ایک ادبی اعزاز نہیں بلکہ تخلیق کے اثرپذیر ہونے کی ایک خوش آئند علامت ہے۔بھارت میں میرے ناولوں کی اشاعت کا اہتمام “میٹر لنک” ادارہ کر رہا ہے، جبکہ “عکس پبلی کیشن” سے میرے چاروں ناول شائع ہو چکے ہیں اور میرا قاری وہاں سے میری کتب حاصل کرتا ہے۔

پاکستان میں تو مختلف جامعات میں میرے ناولوں پر مسلسل علمی و تنقیدی مکالمہ جاری ہے، مگر میرے لیے یہ امر خاص طور پر باعثِ مسرت ہے کہ میرے تخلیقی سفر کی بازگشت سرحدوں سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔ “میٹر لنک” نے میری کتب کے مجموعے نہ صرف مختلف علمی مراکز تک پہنچائے بلکہ انھیں British Library، American Library اور Iran National Library جیسے اہم کتب خانوں میں بھی رکھوایا۔

اسی طرح میرے ناول “زندگی ایک ناراض متن” کے فارسی ترجمے کی اشاعت کے بعد اس کے متعدد نسخے ایران اور دیگر ممالک کو بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ “میٹر لنک” کے دہلی اور لکھنؤ میں قائم ادبی مراکز میں بھی میری کتابوں کے سیٹ موجود ہیں، جہاں قارئین اور علمی حلقے ان پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ خود ادارہ بھی وقتاً فوقتاً مجھے اس امر سے آگاہ کرتا رہتا ہے کہ قارئین میرے ناولوں کو گہری دلچسپی اور فکری وابستگی کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

میرے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ میری تحریریں محض پڑھی نہیں جا رہیں بلکہ ان پر سنجیدہ علمی گفتگو بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان کی مختلف جامعات—خصوصاً لاہور اور پنجاب کی دیگر یونیورسٹیوں—میں میرے ناول تحقیق، تنقید اور ادبی مباحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے ناولوں نے قاری اور محقق دونوں کو مکالمے کی ایک نئی فضا عطا کی ہے۔ مختلف سطحوں پر ایم فل اور دیگر تحقیقی مقالات لکھے جا رہے ہیں، اور ادب کے سنجیدہ حلقوں میں ان پر مسلسل گفتگو جاری ہے۔

میرے نزدیک کسی بھی تخلیق کار کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی شاید اور کوئی نہیں کہ اس کے لفظ کتاب کے صفحات سے نکل کر علمی اداروں، قاری کے شعور اور تحقیقی مباحث کا حصہ بن جائیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تخلیق محض ذاتی اظہار نہیں رہتی بلکہ اجتماعی شعور کی دستاویز بن جاتی ہے۔

سوال نمبر 10: درس و تدریس کے ساتھ اتنا علمی و ادبی کام کیسے ممکن ہو پاتا ہے؟

جواب:آپ نے استفسار فرمایا کہ درس و تدریس کی ہمہ گیر ذمہ داریوں کے ساتھ اس قدر علمی و ادبی انہماک کس طور ممکن ہو پاتا ہے، تو میں یہ عرض کروں گی کہ جب انسان کا ضمیر خوابِ غفلت سے بیدار ہو، جب باطن کی عدالت ہر ناروا امر پر احتساب کرے، جب کردار ریا، فریب، بددیانتی اور نفاق کی آلائشوں سے منزّہ ہو، اور جب ظاہر و باطن میں کوئی دوئی باقی نہ رہے، تب انسان کے اندر ایک عجب قوّتِ محرکہ جنم لیتی ہے

پھر صداقت اس کی زبان کا زیور بن جاتی ہے؛ وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے، اور جب کسی مقصد کو عزمِ مصمّم کے ساتھ اختیار کر لیتا ہے تو گویا کائنات کی مخفی قوّتیں بھی اس کے ارادوں کی تائید پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کسی شعوری منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ قدرت کے ایک خاموش فیضان کی صورت ہے۔ میں نے کبھی یہ احساس نہیں کیا کہ میں نے کوئی غیر معمولی کارنامہ سرانجام دیا ہے یا علم و ادب کے افق پر کوئی نمایاں نقش ثبت کیا ہے۔ جب آپ جیسے اہلِ ذوق و نظر محبت و تحسین کے پیرایے میں میری کاوشوں کا ذکر کرتے ہیں تو میں خود حیرت میں ڈوب جاتی ہوں کہ آیا واقعی میری یہ ادنیٰ سی سعی اس قدر وقعت کی حامل ہے؟ کیونکہ میری نگاہ میں تو یہ سب ابھی محض ایک طالبِ علم کی ابتدائی ثقاہتیں، جستجوئیں اور خامہ فرسائیاں ہیں؛ علم کے بحرِ بیکراں کے کنارے بیٹھے ایک متلاشی ذہن کی خاموش ریاضتیں۔

سوال نمبر 11: شاعری میں میلانِ طبع زیادہ نظم کی جانب ہے یا غزل کی جانب؟

جواب:آپ نے دریافت فرمایا کہ شاعری کی سمت میرا میلان زیادہ نظم کی طرف رہا یا غزل کی جانب، تو حقیقت یہ ہے کہ میں آج تک اس معمّے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکی کہ آخر حرف سے میرا رشتہ کس ساعتِ اسرار میں استوار ہوا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ میرے وجدان کی اقلیم پر جملے کی حکمرانی زیادہ ہے یا مصرعے کی؛ میرا قلب شعر کی رمزیت سے زیادہ وابستہ ہے یا نثر کی وسعتوں سے؛ تنقید کی ژرف نگاہی مجھے زیادہ اپنی جانب کھینچتی ہے یا تحقیق کی متانت و ثقاہت۔ غزل کے نازک آہنگ میرے مزاج سے قریب تر ہیں یا نظم کی بے کراں داخلی وسعتیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ خود میری روح کے دریچوں پر دستک دیتے ہیں اور میں محض ایک وسیلہ بن جاتی ہوں۔ جو خیال میرے باطن میں ارتعاش پیدا کرتا ہے، جو احساس میری روح کو مضطرب کرتا ہے، جو منظر میرے وجدان پر نقش ہو جاتا ہے، میں اُسے صفحۂ قرطاس کے سپرد کر دیتی ہوں—خواہ وہ ایک بے ساختہ جملے کی صورت میں ہو، کسی مصرعِ تر کی شکل میں، یا کسی فکری تحریر کے قالب میں۔ پھر یہ فیصلہ میرے قارئین پر موقوف رہتا ہے کہ وہ میرے لفظوں کو کس جہت سے قرأت کرتے ہیں اور کن معنوی زاویوں میں دریافت کرتے ہیں۔

میں نے زندگی کو ہمیشہ ایک آزاد اور خود مختار تجربے کے طور پر برتا ہے۔ میں نے محرومیوں اور ملال کی سلگتی راکھ کو اپنے مزاج پر غالب نہیں آنے دیا۔ میرا دل جس شے کی طرف مائل ہوا، میں نے اُسے اختیار کیا؛ جس ذائقے کو روح نے قبول کیا، اُسے چکھا؛ اور جس چیز سے طبیعت نے انکار کیا، اُسے بے تکلفی سے رد کر دیا۔ خواہ معاملہ لباس کا ہو، طرزِ زیست کا، مطالعے کا، تحریر کا یا تخلیق کا—میں نے ہمیشہ اپنی داخلی آواز کو خارجی ضابطوں پر ترجیح دی ہے۔شاید اسی لیے آج بھی میں کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ پائی کہ میرا اصل میلان نثر کی وسعتوں میں مضمر ہے یا شاعری کی لطیف فضاؤں میں؛ نظم کے آزاد آہنگ میں ہے یا غزل کے مقفّٰی اسرار میں۔ میں خود کو کسی ایک صنف کے حصار میں مقید نہیں کر پاتی، کیونکہ میرے نزدیک تخلیق ایک رواں سیّال کیفیت ہے، جو کبھی نثر کے قالب میں ڈھلتی ہے اور کبھی شعر کے آہنگ میں اپنی بازگشت سناتی ہے۔

سوال نمبر 12: آپ اپنی شناخت ایک نظم گو کے طور پر زیادہ پسند کرتی ہیں یا غزل گو کے طور پر؟

جواب:سچ تو یہ ہے کہ آج تک میں خود بھی اس راز کو منکشف نہیں کر سکی کہ میرے باطن کا میلان آخر کس سمت زیادہ ہے۔ میں یہ تعین کرنے سے قاصر ہوں کہ میرے وجدان کی سلطنت پر نظم کی حکمرانی ہے یا غزل کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ دونوں اصنافِ سخن میرے گرد کسی لطیف کشمکش میں مصروف رہتی ہیں۔

جب نظم مجھے اپنی وسعتِ معنی، اپنے آزاد آہنگ اور اپنے بے کنار داخلی ارتعاش کے ساتھ پکارتی ہے تو میں بے اختیار اُس کی سمت کھنچی چلی جاتی ہوں؛ اور جب غزل اپنے رمزآلود لہجے، اپنی نازک جمالیات اور اپنے مترنّم اسرار کے ساتھ میری روح کے دریچوں پر دستک دیتی ہے تو میں اُس کے سحر میں گرفتار ہو جاتی ہوں۔

یوں لگتا ہے جیسے اختیار میرا نہیں بلکہ نظم اور غزل کا ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہیں کہ کس لمحے مجھے اپنی آغوش میں لینا ہے۔ میں تو محض ایک مسافرِ حیرت ہوں جو کبھی نظم کے دشتِ بے کراں میں بھٹکنے لگتی ہے اور کبھی غزل کے چراغاں کدے میں اُتر جاتی ہے۔ اس ادبی مسابقت، اس تخلیقی کشاکش اور اس خاموش استقابل میں آخر کون پہلے میری انگلی تھام لیتا ہے، کون مجھے اپنی جانب زیادہ شدّت سے کھینچتا ہے، میں آج تک یہ عقدہ نہیں کھول سکی۔

میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ جو صنف اُس لمحے میری روح پر اپنا تسلّط قائم کر لیتی ہے، میں اُسی کے ہمراہ چل پڑتی ہوں، گویا میری تخلیق کا مقدّر میرے اختیار سے زیادہ اُن لفظوں کے اختیار میں ہے جو مجھے آواز دیتے ہیں۔

 

سوال نمبر 13: عورت کے درد اور احساسات کو شاعری میں قلم بند کرنا کتنا مشکل ہے؟

جواب:سچی بات تو یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو عورت یا مرد کے خانے میں رکھتی ہی نہیں ہوں کہ میں شاعرہ ہوں یا شاعر۔ میں ایک تخلیق کار ہوں، اور تخلیق کاری ایک انسان کے روپ میں دوسروں کے درد، کرب اور خوشیوں کو دیکھتی ہے۔ میں مرد اور عورت کے خانوں سے باہر نکل کر ایک طرف کھڑی ہو جاتی ہوں، اور پھر میرے سامنے ایک زندہ وجود ہوتا ہے جو تکلیف میں مر رہا ہوتا ہے یا خوشیوں میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔

سو میری پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ میں اُس کے کرب، احساس اور غم کو اپنا احساس اور اپنا غم سمجھ کر بیان کروں، پھر میرے لیے یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ ظاہر ہے، ایک خاتون رائٹر ہونے کے ناتے میں عورت کا کرب زیادہ شدت سے سمجھ سکتی ہوں، لیکن میں اسے دھڑلے سے، دبنگ اور جرأت مندانہ انداز سے بیان کرتی ہوں، کیونکہ اگر میں یہ سوچتی رہوں کہ میں عورت ہوں اور مجھے عورت کے درد یا کچھ مخفی باتوں کو چھپا کر بیان کرنا ہے، تو پھر شاید دل کا اصل احساس اور دھڑکن بیان نہ کر سکوں۔

سوال نمبر 14: ترقی پسند ادب سے آپ کی وابستگی کس حد تک ہے؟

جواب:ترقی پسندی سے وابستگی کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ ترقی پسندی سے مراد کیا ہے۔ اگر اس کا مطلب حدود سے بڑھی ہوئی آزادی یا فحاشی ہے تو میں اس کی حامی نہیں ہوں۔ البتہ تخلیقی اور فکری سطح پر ہر شاعر اور ادیب کو نئے زمانے، نئی سوچ اور نئے سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس کے لفظوں میں جدت، تازگی اور روشن خیالی ہونی چاہیے، مگر ساتھ ہی رشتوں اور اقدار کا احترام بھی برقرار رہنا چاہیے۔ میرے نزدیک یہی حقیقی ترقی پسند سوچ ہے۔

باقی جو ادبی دھڑے بندیاں اور گروہی تقسیمات ہیں، میں ان میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

سوال نمبر 15: موجودہ اردو ادب، شاعری یا فکشن میں آپ کو سب سے بڑا فکری بحران کیا نظر آتا ہے؟

جواب:
میرے نزدیک موجودہ اردو ادب، شاعری اور فکشن کا سب سے بڑا فکری بحران اخلاصِ تخلیق کا زوال اور ادب کی تجارتی و نمائشی تعبیر ہے۔ ادب، جو کبھی احساس، شعور اور تہذیبی وقار کا امین تھا، آج بڑی حد تک شہرت، مفاد اور سطحی سوشلائزیشن کی نذر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

سوشل میڈیا اور تیز رفتار عہد نے فکر کی گہرائی، مطالعے کی سنجیدگی اور تخلیقی ریاضت کو شدید متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً ادب میں وہ فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور انسانی کرب کم ہوتا جا رہا ہے جو کسی بھی عظیم تخلیق کی اساس ہوتے ہیں۔

تاہم سچا ادیب اب بھی موجود ہے؛ وہ ہجوم، اشتہار اور وقتی پذیرائی سے بے نیاز ہو کر اپنے عہد کی اذیت کو لفظوں میں ڈھالنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

سوال نمبر 16: شاعری اور ناول نگاری میں کون سی صنف زیادہ دشوار محسوس ہوتی ہے؟

جواب:شاعری اور ناول نگاری دونوں ہی نہایت دشوار اور ریاضت طلب اصناف ہیں، تاہم فنی و فکری اعتبار سے ناول زیادہ صبر آزما صنف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ناول ایک وسیع تہذیبی و سماجی کینوس کا متقاضی ہوتا ہے، جہاں متعدد کردار، متوازی کہانیاں، متنوع زاویۂ ہائے فکر اور مختلف سطحوں کے مسائل ایک مربوط وحدت میں سمونے پڑتے ہیں۔

شاعری میں اگرچہ ایک شعر میں جہانِ معنی سمو دیا جاتا ہے، تاہم وہاں موضوعی انتقال کی گنجائش موجود رہتی ہے، جبکہ ناول نگار اپنے منتخب موضوع، فضا اور فکری محور سے انحراف کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ناول محض تخلیق نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری، نفسیاتی اور تہذیبی ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔

سوال نمبر 17: بیرونِ ملک اسفار کے حوالے سے بتائیے؟

جواب:میں بیرونِ ملک دوروں پر نہیں جا سکی۔ کئی بار آفرز آئیں۔ فخر زمان صاحب کے ساتھ انڈیا جانے والے گروپس میں بھی شامل ہونے کی دعوت ملی، مگر اُس وقت یونیورسٹی میں نئی نئی جاب ملی تھی، اس لیے جاب کی وجہ سے انکار کرنا پڑا۔

پھر امریکہ سے ایک گروپ نے پاکستان سے ہوتے ہوئے انڈیا جانا تھا۔ اُن کی سب سے بڑی ویب سائٹ “سفیر نامہ” پنجابی اور اردو کی ویب سائٹ ہے، جس پر میری کتابیں بھی موجود ہیں اور میں نے اُن کے لیے کالم بھی لکھے تھے۔ وہ بھی مجھے ساتھ لے کر جانا چاہتے تھے، مگر تب بھی میں نہیں جا سکی۔

بس، میں بین الصوبائی دوروں پر بھی زیادہ نہیں جا سکی۔ جاب اور لکھنے سے فراغت ہی نہیں ملی۔ سو یہیں رہ کر لکھ رہی ہوں اور اپنے سخن کا شغل پورا کر رہی ہوں۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x