نظم

پڑتال | فرخ یار

پڑتال

سخن زاد 

میرے جنم کو 

بہت دیر تک التوا میں نہ رکھو 

 

تواتر کے دھاگوں سے الجھی ہوئی بےقراری 

ازل اور ابد کے سروں پر لٹکتے ہوئے فیصلے

جو کتابوں صحیفوں میں مذکور ہیں

واہمہ ہیں فقط واہمہ 

ان سے نکلو

مجھے بھی نکالو

 

میانِ من و تو

مناسب یہی ہے کہ اب کے

مجھے تم کسی بیل بوٹے کی صورت جنم دو

وہی بیل بوٹا زمیں جس کو سینچے 

ہوا اور بارش سے جس کی نمو ہو

پرندے جسے دور دیسوں کے قصے سنائیں

یہ بیل اور بوٹا جو پتوں پھلوں اور پھولوں کے رستے

فقط اپنے ہونے کی کھیتی اٹھائے

جسے اپنی نیندیں کہیں 

رہن رکھنے کی نوبت نہ آئے

 

سخن زاد مجھ کو عدم کی اسیری سے باہر نکالو

بہت دیر تک التوا میں نہ رکھو

مجھے اب تعطل کی وحشت روی سے گھٹن ہو رہی ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x