افسانہ

ہرےدادا/ روبینہ یوسف

پتہ نہیں کیا بات تھی کہ لان میں بہت سارے درختوں کے ساتھ لگا ایک درخت سوکھتا جا رہا تھا جبکہ باقی سرسبز و شاداب تھے۔ اجالا پہلے کی طرح باغ کی دیکھ بھال کرتی۔آغا جان کا تو شوق ہی باغبانی تھا۔
اظہر کو کاروبار کے بکھیڑوں سے ہی فرصت نہ تھی ۔رہ گیا آغا عدن ، فیضان عالم کا واحد پوتا، وہ تتلیوں کے پیچھے بھاگتا، موتیا اور چمبیلی کے پھول توڑتا۔
کبھی آغا جان کے ساتھ مل کر پودوں کو پانی دیتا اور پھر دیر تک کوئل کی کُو کُو سنتا یعنی دیکھا جائے تو اظہر کے سوا سب اپنے چھوٹے سے باغ کو حتی المقدور وقت دیتے ۔
سچ ہے کہ انسانی زندگی کی مثال باغ جیسی ہی ہے۔ عدن آغا جان کی باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنا کرتا ۔
اجالا کی تربیت اور آغا جان کی شفقت کا کمال تھا کہ وہ موبائل کی آلائشوں سے بچا ہوا تھا۔
چھوٹا سا تھا جب اپنے دادا کے ساتھ مختلف نرسریوں میں گھومتا، پودے اکٹھے کرتا، گھرآ کر ان کو پوری توجہ سے سنوارتا، نکھارتا۔ یہی نفاست اس کی زندگی میں بھی رچ بس گئی تھی۔
صرف نو سال کی عمر میں بے مثال ذہانت کا مالک تھا۔
اظہر اگرچہ کاروبار کے بکھیڑوں میں گھر کو سوائے ہفتہ واری چھٹی کے وقت نہ دے پاتا مگر اپنےآغا جان کی دور اندیشی، اجالا کی توجہ اور نگہداشت کی بدولت ایک سکون خوشیوں بھرے گہوارے کا مالک ہونے پر خوشی سے پھولا نہ سماتا۔ عدن پیپل کے درخت کے پاس متفکر سا کھڑا تھا ۔
وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ درخت کچھ دنوں سے پتے بہت گرانے لگا تھا حالانکہ بہار کا موسم تھا۔آغا جان کچھ فاصلے پر پودوں کی تراش خراش میں مصروف تھے۔ اجالا شام کی چائے تیار کر رہی تھی۔ دادا جان آج بہت تیز ہوا بھی نہیں تھی مگر دیکھیں یہ درخت اِدھر اُدھر لہرا رہا ہے۔ لگتا ہے اس کی جڑیں کمزور ہو گئی ہیں۔ عدن معصوم سے تدبّر میں ڈوبے سوالات کر رہا تھا۔
آغا جان مسکرا رہے تھے ۔اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے انہوں نے عدن کو دیکھا جو اپنے جواب کا منتظر تھا۔ دادا کی جان قدرت کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔اب دیکھو اس دنیا میں ہم سے پہلے بہت سارے لوگ رہتے تھے ۔جب تک ان کا رہنا نصیب میں تھا، انہوں نے زمین کو آباد کیے رکھا پھر جب ان کا وقت پورا ہو گیا تو وہ چلے گئے۔ یہی حال ان درختوں بلکہ کائنات کی ہر شے کا ہے۔
اور آج صبح تو غضب ہو گیا۔ رات گرج چمک کے ساتھ بادل خوب کھل کر برسا۔
عدن اسکول جانے کے لیے اظہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اس کی نظر جا بجا بکھرے ٹوٹے پتوں اور اسی سوکھے درخت پر پڑی جو زمین بوس ہو کر ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔ عدن سسکیاں لے لے کر رونے لگا۔ آغا جان کے پچکارنے اور اظہر کے دلاسے نے اسے قدرے پرسکون تو کر دیا مگر وہ اداس نظروں سے پلٹ پلٹ کر درخت کو دیکھتا رہا۔ شام کو دونوں دادا پوتے نے خشک اور مضبوط جھاڑیوں کی باڑھ بنا کر اور کچھ پتھروں کا سہارا دے کر درخت کو کھڑا تو کر دیا مگر عدن کا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا۔
کڑکتی دھوپ نکلی تھی بارش کے بعد ۔
اجالا عدن کو ڈھونڈ رہی تھی تاکہ اسے ہوم ورک کروا دے ۔
سارا گھر دیکھ لیا مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔
آغا جان اپنی چھوٹی سی لائبریری میں تھے جو کہ باغبانی کی کتابوں سے سجی ہوئی تھی ۔وہ سمجھ گئے کہ عدن اس وقت کہاں ہو سکتا ہے اور ان کا خیال درست نکلا ۔عدن سوکھے درخت کے پاس تھا مگر تعجب سے ان دونوں کا منہ کھلا رہ گیا ۔ایک حیرت ناک منظر ان کا منتظر تھا۔ عدن پوری تندہی سے اپنے قریب آغا جان کی شوگر اور بلڈ پریشر کی اور اجالا کے ملٹی وٹامنز کء سپلیمنٹس اور کیلشیم کی گولیوں کا ڈھیر رکھ کے درخت کی بے جان جڑوں میں انڈیل رہا تھا ۔
اجالا نے اپنا سر پکڑ لیا جبکہ آغا جان کا ایک قہقہہ عدن کو چونکنے پر مجبور کر گیا۔ اس کی دانست میں درخت کو اچھی خوراک اور طاقت کی دواؤں کی ضرورت تھی ۔
عدن کی لگن کو دیکھتے ہوئےآغا جان نے ایک انوکھا حل نکالا۔
وہ اسے ساتھ ملا کر تن من دھن سے مردہ درخت کو زندگی کے نغموں سے جگانے میں لگ گئے۔ اس کے لیے انہوں نے بازار سے بہت سارے رنگین ربنز خریدے ۔
ہر رنگ کے چمکدار کاغذ سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے پتھر ،اجالا اپنے پرانے دوپٹوں کے کنارے لگی لیس کو کاٹ کر لے آئی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کائنات کروٹ لے رہی ہو۔ سارا گھر ایکا ایکی روشنیوں سے منوّر ہو گیا گویا کسی زندگی کی حرارتوں سے محروم وجود کو مجسم کرنا خوشیوں کا استعارہ ہے۔
دو دن کی محنتِ شاقہ کے بعد درخت جی اٹھا۔ عدن نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ان پھولوں میں رنگ بھرا جنہیں اجالا نے تراشا تھا۔
پھر گوند اور ٹیپ کی مدد سے انہیں درخت پر چپکایا گیا۔ درخت گلستان بن گیا جس میں صرف رنگ اور پھول ہی نہیں بلکہ تنوّع کی خوبصورتی بھی تھی جو کہ رشتوں کا حسن ہوتی ہے ۔
آغا جان نے ایک کام اور کیا۔ مختلف سائز کے چھوٹے چھوٹے کارڈز لے آئے ۔
ایک پر لکھا "جیسے پودوں کو پانی, دھوپ اور کھاد کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی رشتوں کو وقت, محبت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے”. دوسرے پر لکھا "پودوں کی شاخیں کاٹنا پڑتی ہیں تاکہ وہ بہتر انداز میں بڑھ سکیں. انسانی رشتوں کی پائیداری کے لیے بھی چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کی تراش خراش ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ پنپ سکیں”. اسی طرح کے خوبصورت اور سبق آموز الفاظ سے مزیّن کارڈز درخت کی شاخوں سے بندھے لہرا رہے تھے ۔
عدن ایک مغرور مور بن کر باغ میں خوشی سے لہراتا پھر رہا تھا ۔درخت کے پاس مختلف سٹائلز کی سیلفیاں لے کر فیس بک پر ڈالی گئیں۔ خوشیوں اور امیدوں کی رنگارنگی سے بھرپور کمنٹس آئے۔ اظہر نے بھی بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔
عدن کے دوستوں کو درخت کی رونمائی کی خوشی میں شاندار سی دعوت دے ڈالی۔
آغا فیضان عالم کافی مہینوں کے بعد کھل کر قہقہے لگا رہے تھے۔ تعریفیں سمیٹتے رہے۔ اندرونی تسکین ان کے چہرے پر خوشی بن کر دوڑتی رہی۔
چار دن سے انہوں نے اپنی دوائیں نہیں کھائی تھیں۔ شادابی کی لہر نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔
اب جب بھی سیاہ بادل آتے عدن انہیں انگوٹھا دکھا کر چڑاتا کہ اب درخت مضبوط اور خوبصورت ہو گیا ہے اب وہ نہیں گر سکتا ۔
پھر چند دنوں کے بعد زبردست طوفان آیا۔ درخت تو سلامت رہا مگر عدن اظہر کے ساتھ آغا جان کی قبر پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ درخت تو سوکھا تھا مگر اصل میں دادا جان ہرے تھے۔

روبینہ یوسف

Author

Related Articles

Back to top button