خبریں

بہاولپور: شیر کے پنجرے سے لاش برآمد


بہاولپور کے چڑیا گھر میں عملے کو بدھ کی صبح معمول کی صفائی کے دوران شیر کے پنجرے سے ایک شخص کی گھنٹوں پرانی لاش ملی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’شیرباغ‘ نامی اس چڑیا گھر میں عملے کو ایک نامعلوم لاش کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب انہوں  نے ایک شیر کے منہ میں جوتا دیکھا۔

بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر ظہیر انور نے میڈیا کو بتایا: ’جب عملے نے چڑیا گھر اور پنجروں کی صفائی شروع کی تو انہوں نے (شیر) کو منہ میں جوتا پکڑے ہوئے دیکھا۔‘

انہوں نے کہا کہ عملے کو پہلے شک ہوا اور پھر انہیں پنجرے کے اندر سے ایک لاش ملی۔

بہاولپور کے اس چڑیا گھر میں شیر اورچیتے دونوں ہی رکھے گئے ہیں۔

ظہیر انور نے کہا: ’اب تک ہمارا اندازہ یہ ہے کہ یہ ایک شخص تھا جس کی ذہنی حالت ٹھیک معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایک سمجھدار آدمی شیر کے پنجرے میں نہیں کودتا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پنجرے کتنے محفوظ ہیں۔ ان کے پیچھے سیڑھیاں ہیں، شاید اس (شخص) نے وہاں سے چھلانگ لگا دی ہو۔‘

ڈپٹی کمشنر نے بتایا: ’مردہ شخص عملے کا رکن نہیں ہے کیوں کہ عملے کی تعداد پوری ہے۔‘

بہاولپور میں ریسکیو سروس 1122 کے ایک اہلکار ظفر اللہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرہ شخص کی ٹانگوں پر بہت زیادہ زخموں کے نشانات تھے۔

انہوں نے کہا: ’ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ شخص کون ہے اور وہاں کیسے پہنچا۔ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ لاش کئی گھنٹے پرانی لگ رہی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فرانزک ماہرین لاش کا معائنہ کر رہے ہیں۔

چڑیا گھر کی ویب سائٹ کے مطابق اس مرکز کو پنجاب کا محکمہ جنگلی حیات چلاتا ہے جہاں داخلے کی ٹکٹ 50 روپے ہے۔

پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے چڑیا گھروں پر اکثر جانوروں کی دیکھ بھال کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button