پی ٹی آئی کےشاہ محمود قریشی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ، اسد عمر’گرفتار‘

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم ان کی جماعت نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہفتے (19 اگست) کو گرفتار کیے گئے شاہ محمود قریشی کو اتوار کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا، جہاں ڈیوٹی جج احتشام عالم نے اِن کیمرہ سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی۔
سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو جب عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے کیس کے حساس نوعیت کے ہونے کی وجہ سے میڈیا کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا کہہ دیا جبکہ ایف آئی اے کے غیر متعلق افراد کو بھی کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت نے کہا کہ سماعت ان کیمرہ ہو گی اور جن وکلا کے صرف وکالت نامے ہیں، وہ کمرہ عدالت میں رہیں گے۔
شاہ محمود قریشی پر سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچانے کا الزام ہے۔ سابق وزیر خارجہ کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی۔
دوسری جانب سرکاری حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو اسد عمر کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہیں ریمانڈ کے لیے بروز سوموار مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے تاحال اسد عمر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسد عمر کی اسلام آباد سے گرفتاری کی خبر نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے گذشتہ روز اس بیان کے بعد آئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سائفر کیس میں نامزد تمام افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
میڈیا پر گردش ہونے والی ایک ایف آئی آر کی کاپی سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ مقدمہ 15 اگست، 2023 کو سیکریٹری وزارت داخلہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ریاستی مفادات کو خطرے میں ڈالا۔
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ میں رجسٹر ایک انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے دیگر ساتھی ایک خفیہ دستاویز (سائفر ٹیلی گرام) کو عام کرنے میں ملوث پائے گئے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے ذاتی فائدے اور اپنے مفادات کی خاطر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جو ریاستی سکیورٹی کے مفادات میں نہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ان لوگوں نے بنی گالہ میں بیٹھ کر سائفر کے متن کو غلط طور استعمال کرنے کی سازی رچی اور یہ کہ سائفر ٹیلی گرام اب بھی عمران خان کے قبضے میں ہے۔



