غزل
غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام
غزل
ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں
کوئی بھی روپ مجھے زندگی کا راس نہیں
اندھیرے جیسا اجالا ہے بے اثر مجھ پر
وہ آئینہ ہوں جسے تابِ انعکاس نہیں
ہر ایک زخم ہے عریاں ہر ایک سچ ہے کُھلا
مرے بدن پہ کوئی خوش نما لباس نہیں
تمہارے بعد مرے گاؤں کے سبھی دہقاں
زمیں پہ ہجر اُگاتے ہیں اب ، کپاس نہیں
کہیں یہ ترکِ محبت کی ابتدا ہی نہ ہو
ترے بغیر بھی اب میرا دل اداس نہیں
Author
URL Copied




