خبریں

کم عمر گھریلو ملازمین رکھنا جرم قرار دیا جائے: ایچ آر سی پی


پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے پیر کو مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر گھریلو ملازمین کی ملازمت کو جرم قرار دیا جائے۔

 پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن حنا جیلانی نے 13 سالہ رضوانہ بی بی کے کیس کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر گھریلو ملازمین کی ملازمت کو جرم قرار دیا جائے۔ 

ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ضیا احمد اعوان کا اس حوالے سے موقف ہے کہ ’حالیہ گھریلو ملازمہ تشدد کیس چائلڈ لیبر نہیں بلکہ سلیوری ہے، پاکستان میں اینٹی سلیوری لا اور انٹرنیشنل کنونشن پر دستخط ہو چکے ہیں، اسے چائلڈ لیبر کا نام دے کر اسے بڑھاوا دیا جاتا ہے تاکہ یہ کام چلتا رہے، پاکستان کے آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘

سندھ کمیشن آن دی سٹیٹس آف دی وومین کی چیئر پرسن نزہت شریں کے مطابق ’قومی اسمبلی میں بیٹھے قانون سازوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مزدور بچوں کے حقوق کے لیے موثر قانون سازی کریں۔ جو بھی قانون سازی ہو وہ آئی ایل او کے کنونشنز کے مطابق ہونی چاہیے۔ 2020 میں وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گھروں میں کام کاج کے لیے بچوں کو ملازم رکھنا چلڈرن ایمپلائمنٹ ایکٹ 1991 کے تحت غیر قانونی قرار دے دیا تھا، جس کے بعد ہر صوبے کو قراردار کے ذریعے اسے اپنے صوبے میں نافذ کرنا تھا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کم عمر بچیوں کو گھریلو ملازمہ رکھنے کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد میں اثر ورسوخ رکھنے والی جج کی بیوی نے بطور مالکن جلاد جیسا برتاؤ کیا جس کے بعد انسانیت ختم ہوتی دکھائی دی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم مذکورہ مسئلے کی وجوہات کا جائزہ لیں تو سب سے پہلی وجہ طبقاتی فرق ہے جو غرور اور تکبر کو جنم دیتا ہے۔ ملازمین بچوں اور ان کے مالکان کے طبقے اور تعلق میں انتہا درجے کا عدم توازن ہوتا ہے جس سے مالکان میں حاکمانہ قسم کا احساس برتری پیدا ہو جاتا ہے جبکہ ملازمین میں عدم تحفط اور بے بسی کے احساسات جنم لیتے ہیں۔ طاقت کا یہی عدم توازن ہے جس میں سارا اختیار اور طاقت ایک طرف اور دوسری جانب مکمل بے بسی ہوتی ہے۔‘

عورت فاؤنڈیشن کی سربراہ مہناز رحمان کا اس حوالے سے موقف تھا کہ ’چائلڈ لیبر بشمول کم سن بچوں کی گھروں میں ملازمتوں کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ غربت ہے، انسان جانتا ہے کہ بھوکا پیٹ ہر ظلم سہنے کو تیار ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ چاہے کھلونوں جیسا سلوک کرو اور پیسے دے کر چپ کروا لو، کوئی کچھ نہیں بولے گا۔‘

’اسی طرح کم سن گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی میں والدین بھی برابر کے شریک ہیں اور جب بچوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ جائیں تب بھی چپ سادھ لیتے ہیں، ان کیسز کو رپورٹ نہیں کیا جاتا، جبکہ یہ کیسز رپورٹ ہو جائیں اور ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو یقیناً یہ ناسور کم ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔‘





Source link

Author

Related Articles

Back to top button