منتخب کالم

   خدا  نتھو کی حفاظت کرے / زیبا شہزاد



نتھو میراثی کے پاس پیسے ہوتے تو یہ بھی کسی گاؤں کا چوہدری ہوتا۔ نتھو میراثی لوگوں کی نفسیات سے واقف ہے۔ جانتا ہے لوگ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے وہ مختلف گروہ کے لوگوں کو مختلف طریقے سے ہینڈل کرتا ہے، اور واہ واہ سمیٹتا ہے۔ ہنسانے کے فن سے آشنا ہے تو رولانے اور ڈرانے کا فن بھی اسے خوب آتا ہے۔ موضوع کوئی بھی ہو گھنٹوں اس پر بات کر سکتا ہے۔ ذرا سے واقع کو بڑھا چڑھا کر جس طرح پیش کرتا ہے، چاہے تو کسی مسجد کا خطیب یا مجالس پڑھنے والا ذاکر بن جائے۔ لوگوں کو بیوقوف بنانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مذہب کے نام پر وہ بے تحاشا کمائی کر سکتا ہے لیکن کہتا ہے مذہب کے نام پر بیوقوف بنانا آسان اور ضمیر کو سلانا مشکل کام ہے۔ 

 گاؤں میں وہ ہر کسی کے قریب ہے سوائے گدی نشینوں کے۔ اس کا کہنا ہے خانقاہ میں دفن مرحوم بزرگوں کو تو شائد زندگی بھر کبھی خیال نہ آیا ہوگا۔  دنیاوی مال و دولت حاصل کرنے کا، لیکن ان کے وارثین کاروباری ذہن کے ہیں لہٰذا بزرگوں کے نام پر خوب کاروبار چمکا رہے۔ بقول اس کے عبادتیں ریاضتیں تو بزرگ مرحوم خود کر گئے اور نسل درنسل چلتے ان کے وارثین عبادت کی بجائے ان بزرگوں کے نام پر عیش کررہے ہیں۔ وہ اکثر سوال کرتا ہے کہ ان عیش میں ڈوبے لوگوں کو میں اپنا مرشد کیسے مان لوں۔ اصل پیر و مرشد تو ہمیشہ دیتا ہے جبکہ یہ سارے لینے والے ریڈی میڈ پیر ہیں، جو عقیدت مندوں سے نذرانے لے کر اپنے لئے زمینیں جائیدادیں بڑی بڑی گاڑیاں کوٹھیاں بنا رہے ہیں۔ عقیدت مندوں کے گھر روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں اور انہی کے دیئے نذرانوں کے پیسوں سے پیروں کے دستر خوان بھرے رہتے ہیں۔ پسینے سے شرابور عقیدت مند مزار کے باہر نیاز کے چاولوں پہ لڑتے مرتے ہیں اور پیر صاحب اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر انواع و اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عقیدت مند اپنا مال لگا کر پیروں کے آستانے آباد کرتے اوران کے رزق میں اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔ نتھو میراثی عجب خر دماغ ہے۔ کہتا ہے ہمیشہ مریدوں ہی کو یہ سعادت نصیب کیوں ہوتی ہے کہ وہ پیر کے لئے کھانے کا اہتمام کریں کوئی پیر کسی عام عقیدت مند کو اپنے دستر خوان پر بٹھانے کا شرف حاصل کیوں نہیں کرتا۔ 

 اس کا کہنا ہے یہ عقیدت مند ہی ہیں جن کے دم سے آستانوں، درباروں، امام بارگاہوں، خانقاہوں کے گدی نشینوں کی زندگیاں آسان ہیں۔ عقیدت مندوں کی وجہ سے پیروں کا کاروبار چلتا ہے۔ لوگ اپنی جیبیں خالی کرکے ان کے خزانے بھرتے ہیں، اور پیر زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ حالانکہ زندہ باد کا نعرہ تو پیر کا اپنے مریدوں کے لئے بنتا ہے، جو اپنے کٹھن حالات کے باوجود پیر کی جھولی بھرتے ہیں۔  اگر ان گدی نشینوں کے بزرگ زندہ ہوتے تو اپنے نام پر چندہ جمع کرنے والوں کو جلا کر یقیناً بھسم کر دیتے۔ 

نتھو میراثی کا کہنا ہے، پیروں کو بگاڑنے میں عقیدت مندوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ جس دن عقیدت مند عقلمند ہوگئے اسی دن پیروں کو روٹی کے لالے پڑجانے ہیں۔ اس کو عقیدت مند جہالت کا عملی نمونہ لگتے ہیں۔ فرماتا ہے اگر عقیدت مند پیروں کو توجہ دینا چھوڑ دیں تو کوئی شک نہیں کہ پیر بھی ان کے برابر آجائیں۔ نتھو میراثی کہتا ہے اپنے اپنے روحانی پیشواؤں کے پاس عقیدت مندوں کے دماغ گروی رکھے ہیں، کیا کروں ان جاہل عقیدت مندوں کا جو پیروں کے پیروں میں اپنا سر رکھتے ہیں۔ جب تک جاہل عقیدت مند زندہ ہیں یہ مذہبی شعبدہ باز عیش کرتے رہیں گے۔ ایسے حالات میں مذہب کے نام پر لٹنے والوں پر ترس ہی کھایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ میں ترس کھاتا ہوں لوگوں کا حق نہیں۔ 

نتھو میراثی پتہ نہیں کیا کیا سوچتا رہتا ہے۔ یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اس کو نہیں جانا چاہیئے۔ خدشہ ہے کہیں کسی جگہ یہ اپنے تاثرات سر عام بیان کر بیٹھا تو کسی کے ہاتھوں مارا نہ جائے۔ خدا نتھو میراثی کی حفاظت کرے، بیبا آدمی ہے حق فرماتا ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button