خبریں

مساوی تنخواہوں کا مطالبہ، بی بی سی قاہرہ کے عملے کی تین روزہ ہڑتال


قاہرہ میں بی بی سی کے عملے نے پیر کو مشرق وسطیٰ میں موجود دوسرے ممالک کے ہم کاروں کے برابر تنخواہ کے مطالبے پر تین روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے۔

مصر کا معاشی بحران مزید سنگین ہونے کے بعد یہ مطالبہ سامنے آیا۔

ہڑتال کنندگان کے ترجمان اور مصر کی جرنلزم یونین کے سربراہ خالد البلشي کے مطابق قاہرہ بیورو کا 75 رکنی عملہ بیروت اور استنبول سمیت خطے کے دیگر شہروں میں موجود بی بی سی ملازمین کی طرح ڈالر میں ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

یہ ہڑتال بدھ کے روز ختم ہو گی۔

گزشتہ سال کے دوران مصری کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ قدر کھو چکی ہے۔ جون میں سالانہ افراط زر 36.8 فیصد تک پہنچا جو مئی میں 33.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خالد البلشي نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ مصر میں بی بی سی کا عملہ تنخواہ کے اس فرق کو ’منظم بے ضابطگی‘ کی ایک شکل سمجھتا ہے۔

قبل ازیں مصری پاؤنڈ کی قدر میں کمی کے بعد مصری عملے نے اپنی تنخواہوں کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا اور بعد میں ایک معمولی اضافے کی پیشکش کی گئی۔

بی بی سی کا موقف ہے کہ وہ مصر کی معاشی صورتحال سے آگاہ ہیں اور انہوں نے یہاں مہنگائی کی بلند سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے امسال مارچ اور جولائی کے درمیان تنخواہوں میں 27 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

بی بی سی کے بیان میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

خالد البلشي نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہڑتال کنندگان قانونی کارروائی پر غور کر سکتے ہیں اور مطالبات پورے نہ ہوئے تو ہڑتال میں توسیع بھی ممکن ہے۔

گزشتہ ماہ، بی بی سی قاہرہ کے عملے نے غیر مساوی تنخواہ پر ایک روزہ ہڑتال کی تھی۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button