خبریں

‘مینسن فیملی’ کی قاتل رکن کی رہائی اور ہالی وڈ –


یہ اگست 1969 کا واقعہ ہے جب لاس اینجلس کے دو شہریوں کے وحشیانہ قتل کی خبر اخبارات میں‌ شایع ہوئی۔ انھیں خنجر کے وار کرکے بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ پھر اس میں ملوث ایک 19 سالہ لڑکی لیسلی وان ہوٹن کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس سے چند روز قبل ہی ہالی وڈ کی ایک اداکارہ، اسکرپٹ رائٹر سمیت دو آرٹسٹ اور ایک نوجوان لڑکے کو خنجر کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔ پانچ افراد کے قتل کی یہ واردات شہ سرخیوں میں‌ تھی۔

لیسلی وان ہوٹن اب 73 برس کی ہیں اور منگل کو انھیں جیل سے رہائی ملی ہے جن کی رہائی کے ساتھ ہی فلم اور فیشن انڈسٹری کے اُن مقتول آرٹسٹوں‌ کی یاد تازہ ہوگئی ہے جنھیں‌ رات کی تاریکی میں موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ ان میں اداکارہ شیرون ٹیٹ کے علاوہ مشہور شخصیات کے ہیئر اسٹائلسٹ جے سیبرنگ، اسکرین رائٹر فریکو وسکی اور سوشلسٹ ایبیگیل اینے اور 18 سالہ ایک نوجوان شامل تھا۔

لیسلی وان ہوٹن 50 سال عمر قید سے زیادہ بھگت چکی ہیں۔ ان کی وکیل کے مطابق کیلیفورنیا میں خواتین کی جیل سے رہائی کے بعد وہ ممکنہ طور پر تین سال کے لیے ‘آزاد’ رہیں گی۔ ہوٹن کیلیفورنیا میں ایک دکان دار لینو لابیانکا اور ان کی اہلیہ روز میری کے قتل میں ملوث تھیں۔

اس زمانے میں پولیس تفتیش سے سامنے آیا یہ قتل ’مینسن‘ کے اکسانے پر کیے گئے ہیں جو ایک قسم کے فرقہ کا بانی ہے۔

نوخیز اداکارہ شیرون ٹیٹ اور اس کے ساتھیوں کے قتل نے فلمی ستاروں کا مسکن سمجھے جانے والے شہر لاس اینجلس میں‌ خوف کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ اداکارہ بیورلی ہلز کے شمال میں واقع مینشن سیلو ڈرائیو کے رہائشی ڈائریکٹر رومن پولانسکی کی بیوی تھی۔ قتل کے وقت وہ آٹھ ماہ کی حاملہ بھی تھی اور اس کا شوہر ایک فلم کی شوٹنگ کی غرض سے لندن گیا ہوا تھا۔

پانچ افراد کے قتل کی اس ہولناک واردات کی اگلی ہی رات سیلو ڈرائیو سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع ویورلی ڈرائیو کے رہائشی دکان اور اس کی اہلیہ کو بھی خنجر کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا، لیکن پھر یہ سلسلہ وہیں رک گیا۔

قتل کے محرکات اور ان وارداتوں کے درمیان تعلق تو بعد میں سامنے آیا، لیکن پولیس نے یہ اندازہ ضرور لگا لیا تھاکہ قاتلوں کا نشانہ مشہور شخصیات ہیں‌ یا پھر امیر لوگ۔

چارلس مینسن ان وارداتوں کا اصل ذمہ دار تھا۔ وہ محرمیوں کا شکار ایک آوارہ نوجوان تھا جس کی جوانی کا ایک بڑا حصّہ جیلوں میں گزرا۔ کہتے ہیں‌ کہ وہ اپنی باتوں‌ سے لوگوں کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ماں باپ سے محروم ہوجانے کے بعد اس نے سوسائٹی میں اپنی جگہ بنانے کا یہ طریقہ نکالا تھا۔ وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں‌ کام یاب رہا اور اس کی باتیں ایسی تھیں کہ نوجوان اور ہر عمر کے لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ وہ انھیں اپنا فرماں‌ بردار بنا کر کام نکلواتا۔ جرائم پیشہ اور شاطر مینسن نے اپنی طاقت کو صحیح اور غلط کا فرق جانے بغیر استعمال کیا۔ اسے جیل میں ایک خطرناک اور ناقابلِ بھروسہ شخص قرار دیا گیا تھا۔ 1955 میں مینسن نے شادی کی، لیکن بیوی اسے چھوڑ گئی اور وہ جرائم پیشہ زندگی میں‌ مگن ہوگیا۔ وہ مختلف جرائم کی پاداش میں سنہ 1958 سے لے کر سنہ 1967 تک جیلوں‌ میں‌ رہا۔ اسی دوران اسے موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوا۔ اس نے گٹار بجانا سیکھا اور خود کو موسیقار سمجھنے لگا۔ وہ اس وقت کے مشہور میوزیکل بینڈ ‘دی بیٹلز’ سے خاصا متأثر تھا اور اس کے ایک گیت کو مینسن نے وہ معنیٰ دیے اور اس کا وہ مفہوم نکالا جو شاید اس کے ذہن میں‌ پنپتے ہوئے کسی خیال اور جنونی فکر کی تکمیل کرسکتا تھا۔

1967 میں 32 سال کی عمر میں جیل سے رہائی کے بعد اس نے اپنی اثر انگیز باتوں‌ اور خاص قسم کی فکر کا پرچار کر کے کئی عقیدت مند اکٹھے کر لیے اور انہی کی مدد سے 35 افراد کا قاتل بنا۔ چارلس مینسن نے جیل سے رہا ہونے کے بعد ہپی طرزِ زندگی اپنا لیا تھا۔ اس نے منشیات سے بھی لوگوں‌ کو اپنا مطیع کیا۔ یہ لوگ اسے ایک برگزیدہ ہستی کا درجہ دینے لگے اور یوں اس کے کئی پیروکار بنے جن میں اکثریت کم عمر لڑکیوں کی تھی۔ حال ہی میں رہا ہونے والی وان ہوٹن بھی انہی میں‌ شامل تھی۔ مینسن نے نوجوانوں کی سوچ تبدیل کرنا شروع کر دی اور ان کو اپنی تقریر سے اپنی جانب متوجہ کیے رکھا۔ اس کے پیروکار دراصل وہ نوجوان تھے جو پہلے ہی گمراہ تھے اور وہ غیر روایتی طرزِ زندگی کی تلاش میں چارلس مینسن کے قریب ہوگئے۔ وہ ان سے انوکھے انداز میں بات کرتا اور عجیب و غریب خیالات کا اظہار کرتا رہتا۔ وہ حق و باطل پر سوال اٹھاتا اور پھر خود ہی اس کی وہ تفہیم کرتا جو دراصل اس کے دل کی مراد ہوتی۔ چارلس مینسن کے یہ عقیدت مند ‘مینسن فیملی’ مشہور ہوگئے تھے اور لگ بھگ سو افراد پر مشتمل یہ ایک فرقہ یا جماعت بن گئی تھی۔

چارلس مینسن کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہے اور جب وہ خاصے ارات مند اکٹھے کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے منشیات، موسیقی اور مذہبی عقائد کی مدد سے نوجوانوں کو اپنے کسی مقصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ سب لوگ مینسن کو ایک باپ اور بڑے بھائی کا درجہ دیتے تھے اور اسے گرُو بھی مانتے تھے۔ یہاں‌ تک کہ مینسن نے خود کو پیغمبر سمجھنا شروع کردیا اور مینسن فیملی بھی اسی طرح سوچنے لگی۔

چارلس مینسن کے پسندیدہ ‘دی بیٹلز’ کا 1968 میں ایک البم ریلیز ہوا جس کے گیتوں ‘ہیلٹر سکیلٹر’ بھی شامل تھا اور اسی کی تشریح چارلس مینسن نے اپنے طریقے سے کی جس کے مطابق بہت جلد ایک عالم گیر معرکہ شروع ہونے والا تھا جس میں تمام سیاہ فام، گوروں کے خلاف بغاوت کرکے ان سب کو ختم کر دیں گے۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو یہ یقین دلایا کہ اس نسلی جنگ سے مینسن فیملی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ ایک محفوظ مقام پر رہیں‌ گے لیکن بعد میں‌ مینسن فیملی اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل کر سیاہ فاموں کو اپنا مطیع بنا لے گی اور پھر پوری دنیا پر انہی کا راج ہوگا۔ لیکن جس معرکے کا مینسن کے مطابق سنہ 1969 کی گرمیوں سے آغاز ہونا تھا، وہ نہ ہوا تو مینسن فیملی میں بے چینی بڑھنے لگی۔ اس پر چارلس مینسن نے انھیں‌ کہا کہ سیاہ فام کبھی کوئی کام خود نہیں کرسکتے، انہیں سکھانا پڑتا ہے۔ اور اب مینسن فیملی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاہ فاموں کو بغاوت کے لیے اکسائیں۔ اس کی تکمیل کے لیے چارلس مینسن نے سیلو ڈرائیو کا انتخاب کیا۔ لیکن یہ کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں تھا۔ بلکہ چارلس مینسن جو کبھی ایک بڑا موسیقار بننے کا خواب دیکھ رہا تھا، اور اس کے لیے کوشش بھی کی تھی، لیکن نامراد رہا تھا اور اسی لیے وہ فن کاروں‌ اور موسیقاروں سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ اپنی محرومی اور اس سے متعلق تلخی کا بدلہ لینے کے لیے اس نے اپنے پیروکاروں کو استعمال کیا۔ فن کاروں کا قتل اور اس کے بعد ایک دکان دار اور اہلیہ کی جان لینے کے پیچھے چارلس مینسن اور اس کی یہی خواہش کارفرما تھی۔ وہ نسلی جنگ تو شروع نہ ہوسکی لیکن چارلس مینسن اور اس کے پیروکار گرفتار ضرور ہوگئے۔

شاید یہ قتل ہمیشہ راز رہتے، لیکن ایک معمولی جرم کی پاداش میں مینسن فیملی کی ایک رکن اور ان تمام جرائم میں پیش پیش سوسن ایٹکنز نے جیل میں‌ اپنی ساتھی قیدیوں کے سامنے ان وارداتوں کا اقرار کرلیا اور بات پھیل گئی۔ بعد میں‌ تفتیش کے دوران سوسن نے بتایا کہ کس طرح سیلو ڈرائیو کے رہائشیوں کا قتل کیا گیا اور ان کی سب سے آخری شکار شیرون ٹیٹ اور اس کے ساتھی تھے۔ سوسن کے مطابق وہ کئی مشہور شخصیات کو قتل کرنا چاہتے تھے اور یہ سب کرنے کا ایک مقصد دنیا کو حیرت زدہ کردینا بھی تھا۔

یکم دسمبر 1969 کو شاطر اور جنونی چارلس مینسن سمیت مینسن فیملی کے کئی اراکین کو گرفتار کرلیا گیا اور دنیا نے ان کا اصل روپ دیکھا۔ تاہم اس دوران اس گروہ کے اراکین اپنے گرُو کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور چارلس مینسن نے بھی پولیس کو باتیں‌ بناکر اور ہنسی ٹھٹھا کر کے حقائق سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

امریکہ کی تاریخ کے اس مقدمے کے دوران بھی ہلاکتوں کا سلسلہ چلتا رہا اور عدالت میں بھی نوجوان لڑکیوں نے اپنے گرُو کو بچانے کے لیے پینترے بدلے اور کبھی وہ لاطینی زبان میں کچھ پڑھتی بھی دکھائی دیں۔

15 جنوری 1971 کو اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ چارلس مینسن اور اس کے ساتھیوں کو موت کی سزا سنائی گئی جو 1972 میں تاحیات قید میں تبدیل ہوگئی، جب امریکی سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا۔

چارلس مینسن سلاخوں کے پیچھے تو چلا گیا لیکن وہاں بھی اس نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ جیل کر اندر وہ منشیات کی ترسیل کا کام کرتا رہا۔ میڈیا پر کوریج نے چارلس مینسن کو گویا شہرت دے دی اور اس پر کتابیں لکھی گئیں، ڈرامے اور موویز بنائیں گئیں۔ وہ 2017ء میں جیل میں چل بسا۔ چارلس مینسن کو شیطان کی ‘شبیہ’ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے کئی بے گناہوں کی جان لی اور اس کے لیے کم عمر لڑکے لڑکیوں کو استعمال کیا۔

اب وان ہوٹن کی بات کریں تو انھیں انٹرنیٹ استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ یہ بھی کہ نقدی کے بغیر کیسے چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اتنے برس جیل میں رہی ہیں اور دنیا بدل چکی ہے۔

وان ہوٹن جیل میں اور سماعت کے دوران قتل میں اپنے کردار اور مینسن کے ساتھ ملوث ہونے پر افسوس کا اظہار کرتی رہی ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ انھوں نے چارلس مینسن کو اپنی ’انفرادی سوچ‘ پر حاوی ہونے دیا تھا۔

Comments





Source link

Author

Related Articles

Back to top button