
تعارف
محترمہ شمیم عارف ایک باوقار اور فعال ادبی شخصیت ہیں۔ آپ اردو زبان و ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں اور اب تک چار کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں بچوں کے ادب پر دو کتابیں اور حج کا ایک سفرنامہ شامل ہے۔
خاموشی سے، مگر مسلسل، ادب کی خدمت آپ کے تخلیقی سفر کا نمایاں وصف ہے۔ آج ان کے ادبی تجربات، فکر اور تصنیفی سفر سے آگاہ ہونے کا موقع حاصل ہوگا۔ آئیے، ان کے بارے میں جانتے ہیں
انٹرویو
اسلام علیکم، شمیم عارف صاحبہ کیسی ہیں؟
شمیم: وعلیکم السلام، میں بالکل ٹھیک ہوں الحمد للہ، بس چھوٹی موٹی تکلیفیں تو ذندگی کے ساتھ چلتی ہیں۔
سوال:کچھ اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں بتائیں؟
جواب: پیدائش اور ابتدائی تعلیم لاہور کی ہے ، والد سرکاری افیسر تھے اس لئے باقی تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی۔میٹرک تک خالص سائنسی مضامین پڑھے اس کے بعد آرٹس رکھ لی،اکنامکس کے ساتھ بی اے کیا، ایم اے اسلامیات میں کیا ہے۔
سوال: آپ کے ادبی سفر کا آغاز کیسے ہوا اور کس چیز نے آپ کو لکھنے کی طرف راغب کیا؟
طالب علمی کے زمانے سے ہی لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا، مضامین وغیرہ لکھ کر اخبارات اور رسالوں میں بھیجتی رہتی تھی، شاید میٹرک میں تھی جب پہلا مضمون 14 اگست کے حوالے سے لکھا تھا جو اخبار خواتین میں شائع ہوا تھا اور انعام میں کتاب ملی تھی جو میں نے بہت عرصہ سنبھال کے رکھی تھی۔ گھر میں والد اور بڑے بہن بھائی سب علم و ادب سے شغف رکھنے والے تھے لیکن انھوں نے صرف کتب بینی پر توجہ رکھی ان کا مطالعہ لامحدود ہے۔
سوال:اپنی شادی ،بچوں اور جاب کے بارے میں بتائیے کہ کب شروع کی؟
جواب: بی اے کا امتحان دیتے ہی شادی ہوگئی، شادی کے فورا بعد سسرال والوں کے کہنے پر جاب بھی کرلی اور تعلیم بھی مکمل کی، ایم اے کیا۔تین بیٹے ہیں ماشااللہ، پھر بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ دھیان دیا، جاب بھی جاری رہی۔ لکھنا لکھانا موقوف ہوا۔
سوال: پھر دوبارہ لکھنے کی فرصت کب ملی؟ کیا آپ کی کتب کو ایوارڈ بھی ملے؟
جواب: ان ہی مصروفیات کی وجہ سے ایک طویل عرصہ تک لکھنے لکھانے سے دور رہی، لیکن مطالعہ جاری رکھا، کبھی کبھار نظمیں بھی لکھ لیتی تھی۔جب بچے بڑے ہوگئے اور تعلیم کی غرض سے تینوں بیٹے باہر چلے گئے تو بہت تنہائی اور بے زاری محسوس ہونے لگی، ذہنی طور ہر اپ سیٹ رہنے لگی تھی۔ تب میری چھوٹی بہن نے میرا دھیان لکھنے کی طرف دلایا اور اصرار کیا کہ کچھ لکھوں۔ 2017 میں حج پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی تو سب سے پہلے بہن کے ہی کہنے پر حج کا سفرنامہ”عشق کی نگری” کے نام سے قلم بند کیا جو بہت پسند کیا گیا اور لوگ باقاعدہ اسے رہنمائی کے لئے حج کے سفر پر ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ایک شاعری کی کتاب مرتب کی جو "ہم ابھی راہ گزر میں ہیں”کے نام سے شائع ہوئی،یہ نظمیں اور غزلیں میں بیس پچیس سال پہلے لکھتی رہی تھی۔ پھر میں نے بچوں کا ایک ناول لکھا”ننھا سلطان” کے نام سے جو ایک ترک ماں بیٹے کی کہانی پر مشتمل تھا جسے 2025 میں ادب اطفال ایوارڈ بھی ملا 10 ہزار کیش کے ساتھ۔ اس کے بعد ننھے منے بچوں کے لیے کہانیوں کی ایک کتاب”جنگل کی ڈاک” کے نام سے شائع ہوئی، اسے بھی بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ اس پر 2026 کی ادب اطفال کانفرنس میں ملا 15 ہزار روپے کیش کے ساتھ۔ یہی ہے میرے ادبی سفر کی کہانی۔
سوال:آپ کی شخصیت کے کن پہلوؤں نے آپ کی تحریروں کو زیادہ متاثر کیا؟
جواب: مجھے تاریخ سے بہت دلچسپی ہے، اس کے بعد تاریخی مقامات دیکھنے اور ان کے بارے میں جاننے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ اسی لئے سب سے پہلے اپنا بیت اللہ کا سفر نامہ قلم بند کیا۔ لیکن ابھی تک کسی تاریخی مقام یا شخصیت کے بارے میں نہیں لکھ سکی تھی، اب سوچ رہی ہوں۔
سوال: آپ کی شاعری کی کتاب ہم ابھی راہ گزر میں ہیں کے پس منظر اور مرکزی خیال کے بارے میں بتائیے؟
جواب: یہ کسی ایک خیال کے تحت لکھی گئی کتاب نہیں تھی بلکہ میری زندگی کے پچیس سالوں پر مشتمل دور میں مختلف اوقات اور مختلف موڈ میں لکھی گئی نظموں پر مبنی تھی۔ ان ہی میں سے ایک نظم کا عنوان تھا”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں” کیونکہ وہ دور ہی ایسا تھا کہ زندگی کے ہنگامے اور روز مرہ کی مصروفیات اپنے عروج پر تھیں اور علم ہی نہیں تھا کہ کبھی اتنی فرصت بھی ملے گی کہ میں اپنی نظموں کی کتاب مرتب کروں گی۔
سوال: شاعری لکھتے وقت آپ کن موضوعات کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں؟
جواب: زیادہ نظمیں زندگی کی مصروفیات اور ہنگاموں پر ہیں۔ کچھ نظمیں بہت چھوڑی چھوٹی لیکن بہت اہم چیزوں پر ہیں ،جیسے دو نظمیں "گلاب” پر ہیں۔ کس قدر اہم ہے یہ انسان کے لئے کہ کبھی دلہن کی سیج کی زینت بھی بنتا ہے تو کبھی قبروں پر چڑھایا جاتا ہے۔ دوستوں کے حوالے سے بھی نظم ہے۔ایک پھول کی شوخی سے لے کر زمانے کی بےثباتی تک سبھی موضوعات پر نظمیں لکھی ہیں۔
سوال: بچوں کے لیے لکھنے کا تجربہ کیسا رہا، خاص طور پر جنگل کی ڈاک اور ننھا سلطان کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: عمدہ سوال کیا ہے آپ نے۔ بچوں کے لئے لکھنے کا اپنا الگ ہی مزہ کے، ہر انسان کے اندر ایک بچہ چھپا ہوتا ہے چاہے وہ خود اسی نوے سال کا ہی ہوجائے بس اگر وہ بچہ زندہ ہے تو آپ بچوں کی کہانیاں با آسانی لکھ سکتے ہیں۔
سوال: بچوں کا ادب تخلیق کرتے وقت کن باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری سمجھتی ہیں؟
جواب: بچوں کے لئے لکھتے وقت خود بچوں کی سطح تک آنا ضرورئ ہوتا ہے، ویسے میرے گھر والے کہتے ہیں کہ مجھ میں بھی بچپنا بہت ہے۔ اور اب تو میں خود دادی بن گئی ہوں تو میرے پوتا پوتی میرے سامنے ہوتے ہیں، میں محسوس کرسکتی ہوں کہ انھیں کس قسم کی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں، بس ان کو مد نظر رکھ کر لکھ لیتی ہوں جو سب کو پسند بھی آتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ بڑے بھی انجوائے کرتے ہیں۔ جنگل کی ڈاک کا تو ٹائٹل بھی میں نے خود ہی پبلشر کو سمجھایا تھا کہ ایسا ہونا چاہیے۔
سوال:آپ کے خیال میں بچوں کے ادب کی معاشرے میں کیا اہمیت ہے؟
جواب: کوئی بھی معاشرہ بچوں کے بغیر ادھورا ہوتا ہے ، بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اس لئے ان کی تربیت سب سے اہم ہوتی ہے، اچھی کہانیاں نہ صرف بچوں کی اخلاقی تربیت کے لئے اہم ہوتی ہیں بلکہ بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو بھی ابھارتی ہیں اور ان کے لئے ترقی کی منزلیں طے کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
سوال: اسلام آباد میں رہتے ہوئے ادبی سرگرمیوں میں آپ کی شمولیت کس حد تک ہے؟
جواب: یہاں سارے بڑے سرکاری ادارے ہیں جہاں ادبی تقریبات ہوتی رہتی ہیں اور میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہوں، عمدہ ادبی شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا رہتا ہے جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
سوال: ایک فعال شخصیت ہونے کے ناطے آپ اپنے وقت کو کیسے منظم کرتی ہیں؟
جواب:اب تو ہم دونوں ہی ریٹائرڈ ہیں اس لئے فرصت ہی فرصت ہوتی ہے،بہو گھر کے کام کاج دیکھتی ہے ،میرا بھی خیال رکھتی ہے اس لئے اب لکھنے پڑھنے اور ادبی تقریبات میں جانے کے لئے خاصا وقت مل جاتا ہے۔ لیکن کام کی عادت جاتی تو نہیں، گھر کے کاموں میں بہو کا ہاتھ بھی بٹاتی ہوں اکثر کھانا خود ہی بناتی ہوں کیونکہ اچھے اچھے کھانے بنانے کا بہت شوق ہے، دوستوں رشتہ داروں کی دعوتیں بھی کرتی رہتی ہوں۔
سوال: آپ کی نظر میں ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے کون سی خصوصیات ضروری ہیں؟
جواب: مطالعہ سب سے اہم ہے ،آپ کی اپنی تعلیمی قابلیت جتنی بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا، آپ کا مطالعہ جتنا زیادہ وسیع ہوگا، آپ نے عمدہ کتب جتنی زیادہ پڑھی ہونگی آپ اتنے اچھے لکھاری بن سکیں گے۔ مجھے بھی بچپن سے ہی مطالعہ کا بے حد شوق تھا جو ساری عمر یہ مشغلہ جاری رہا، تمام بڑے ادیبوں کو پڑھ رکھا ہے۔
سوال: موجودہ دور میں اردو ادب کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
جواب: بے شمار چیلنجز ہیں جن میں مطالعہ کی کمی سب سے زیادہ نقصان دہ ہے موجودہ دور میں۔ ہم کتاب سے دور ہوگئے ہیں۔ عمدہ ادب پڑھے بغیر آپ ایک اچھے انسان بھی نہیں بن سکتے۔ دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ معاشرے میں انگریزی تعلیم عام ہوگئی ہے اور لوگ اردو کو بھول گئے ہیں ورنہ ہم ادب کے حوالے سے اتنے مالا مال ہیں کہ اب مزید نہ بھی لکھا جائے تب بھی استفادے کے لئے بہت کچھ ہے۔
سوال: نئی نسل کو مطالعہ اور لکھنے کی طرف راغب کرنے کے لیے آپ کیا مشورہ دیں گی؟
جواب: دیکھیئے ادیب کا نمبر تو بعد میں آتا ہے اس وقت آتا جب کسی کے ہاتھ میں کتاب ہو۔۔۔اس سے پہلے تو والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری آتی ہے کہ وہ اپنے بچے کی اچھی تربیت کے لئے اسے کتاب سے محبت کرنا سکھاتے ہیں کہ نہیں۔
میرا مشورہ والدین کے لئے ہے کہ آپ بچپن سے ہی اپنے بچوں کی کتاب سے دوستی کرائیے پھر ساری عمر اس کی تربیت کی فکر کرنے ضرورت نہیں پڑے گی۔
سوال:آپ کی آئندہ ادبی منصوبہ بندی کیا ہے؟ کیا مزید کتب پر کام جاری ہے؟
جواب: جی ہاں ماضی کی بہادر مسلم خواتین پر ایک کتاب لکھنے کی تیاری کر رہی ہوں ،کچھ مضامین لکھے ہیں۔
سوال: آپ نے پاکستان کے دوست ملک چین کا سفر کیا وہاں کی کیا چیز سب سے اچھی لگی؟
جواب: جی ہاں 2016 میں چین جانے کا اتفاق ہوا کیونکہ ایک تو میرا چھوٹا بھائی وہاں ہوتا ہے ،بھابھی چینی ہیں، دوسرے میرے سب سے چھوٹے بیٹے کا وہاں انجنیئرنگ میں وہاں داخلہ ہوا تھا،بس اسی کو ملنے کے لئے چلی گئی تھی، وہاں تو سب ہی کچھ بہترین اور قابل تقلید ہے، لیکن میں نظام تعلیم کی تعریف کروں گی کیونکہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی تعلیم کا خیال رکھتے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کے نوجوانوں کو سکالر شپ بھی بہت دیتے ہیں۔
سوال: پاکستان کا کون سا شہر آپ کو بہت پسند ہے کہاں زیادہ وقت گزرا ؟
جواب: زندگی کا زیادہ وقت تو ڈیرہ غازی خان جیسے گرد آلود اور گرم علاقے میں گزرا کیونکہ شوہر کی وہاں سرکاری جاب تھی۔ لیکن میکہ لاہورمیں ہے اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام اباد شفٹ ہوگئے ہیں کیونکہ بچوں کی جاب یہاں ہیں، تو یہی دو شہر سب سے زیادہ پسند بھی ہیں۔
سوال: اپنے پڑھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
جواب: ان کے لئے بہت محبت کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گی کہ اچھی کتب کے مطالعہ کو عادت بنا لیں، اور سینیئرز کی عزت کریں۔



