
تین دن کی مسلسل کاروباری مصروفیات ، تھکا دینے والی میل ملاقاتوں اور دماغ کو چکرا دینے والے حساب کتاب کے بعد بالاخر میں دِن ڈھلے انطالیہ سے اپنے شہر الاشہرکی جانب روانہ ہوا۔ترکی کے خوبصورت شہر انطالیہ میں سیاحوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر میں نے اپنے بزنس پارٹنرمصطفے کے ساتھ مل کر چند ماہ بیشتر ہی یہاں مختلف مقامات پر اپنے ہوٹل کی تین شاخیں کھولی تھیں۔ میں انہی کے معاملات کا جائزہ لینے آیا تھا۔یہاں آ کر یہ اطمینان ہوا کہ سب کچھ خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا تھا۔بچوں کے امتحانات کے باعث میں اہل خانہ کو ساتھ لے کر نہیں آ سکا جبکہ مصطفے کا میری غیر موجودگی میں الاشہر میں رہنا ضروری تھا۔ مجھے ڈرائیو کرتے ہوئے تین گھنٹے گذر چکے تھے اور ابھی مزید دوگھنٹوں سے کچھ زیادہ سفر باقی تھا کیونکہ راستے میں میں دو جگہ سستانے کے لیے کچھ دیررکا بھی تھا۔ میرا جسم بری طرح تھکن کا شکار تھا مگر مجھے رات گہری ہونے سے پہلے گھر پہنچنے کی بھی جلدی تھی۔
اچانک گاڑی کو ایک زوردار جھٹکا لگا، انجن سے ایک آواز بلند ہوئی اور گاڑی ہچکولے کھاتی ہوئی کسی اڑیل جانور کی طرح رک گئی۔ وہ تو شکر ہوا اس جگہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ میں اس افتاد کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھا۔ میں نے اتر کر گاڑی کا بونٹ کھولا اور وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کیونکہ میں گاڑی چلانے کی حد تک ہی ماہر تھا۔ دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی جو بالکل بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ میں نے مایوسی کے عالم میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی مگر سیدھی سڑک کے آخری سرے پر سورج بھی مجھے الوداع کہہ چکا تھا۔ ہوامیں موسمِ سرما کے ابتدائی دنوں کی خنکی کی آمیزش تھی۔ حدِ نظر تک کسی آبادی کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے اس پر مستزاد موبائل فون کے سگنل بھی داغ مفارقت دے چکے تھے۔
گاڑی کو بمشکل گھسیٹ کر ایک طرف کھڑا کر کے لاک کیا۔اپنا سفری بیگ اٹھایا اور پیدل چل پڑا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایک گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد ایک چھوٹا سا قصبہ نظرآیا تو میری جان میں جان آئی اگرچہ میرا تھکن سے مزید برا حال ہو گیا تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ صبح سے پہلے کوئی مکینک نہیں مل سکتا جبکہ رات گذارنے کے لیے قریب کوئی ہوٹل بھی نہیں تھا۔ اپنی سوچوں میں غلطاں چلا جا رہا تھا کہ اچانک گلی میں بائیں طرف واقع ایک پرانے اور بوسیدہ حال گھر کا دروازہ کھلا اور ایک عمر رسیدہ خاتون نے باہر جھانکا۔مجھ پر نظر پڑتے ہی جیسے وہ پتھر کی ہو گئی۔ چند ثانیے اسی عالم میں رہنے کے بعد اچانک وہ پیچھے مڑی اور اپنی کانپتی آواز میں چلائی، "یوسف، یوسف۔۔۔۔” اور جواب کا انتظارکیے بغیر میری طرف بانہیں کھول کر لپکی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو گلی سنسان پڑی تھی اور میرے علاوہ کوئی نہیں تھا جس سے وہ خاتون مخاطب ہو۔۔۔۔۔۔”کمال آ گیا، میرا بیٹا آگیا۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا وہ خاتون پوری طرح مجھ سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔ بار بار میری پیشانی اور گالوں پر بوسے دینے لگی۔ اتنے میں ایک بوڑھا شخص بھی لاٹھی ٹیکتا گھر سے برآمد ہوا اور مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔وہ بھی بے اختیار میری طرف لپکا اور خاتون کے ساتھ ہی مجھے سے لپٹ کر رونے لگا۔۔۔ میں سٹپٹا کر رہ گیا اور مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ دونوں کب مجھے پکڑ کر گھر کے اندر لے آئے، بوڑھے نے زبردستی مجھ سے بیگ لے لیا۔ "فاطمہ ۔۔۔ہمارا انتظار رنگ لے آیا، دیکھو ہمارا کمال واپس آگیا”۔۔۔ بوڑھاجس کو خاتون یوسف کے نام سے پکار رہی تھی، بار بار میرے جسم کو ٹٹولتے ہوئے کہہ رہا تھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ میں واقعی جیتا جاگتا انسان ہوں۔ مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے صحن سے گذار کر مجھے ایک بڑے کمرے میں لے کر آگئے۔ "معاف کیجیے۔۔۔ مگر۔۔۔” میری بات پوری ہونے سے قبل ہی خاتون نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے۔۔۔”تم تھک چکے ہو گے۔۔ ہمیں بہت سی باتیں کرنی ہیں۔۔۔آو پہلے تم کچھ کھا لو۔۔۔تھوڑا آرام کر لو "۔۔۔ فاطمہ نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا۔ یوسف کم گو تھا یا اس وقت جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بول نہیں پا رہا تھا،۔ وہ بس ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا جا رہا تھا۔ آخر میں نے رات گذارنے کے لیے ایک محفوظ اور آرام دہ پناہ گاہ ملنے کی وجہ سے فی الحال چپ رہنے کی ٹھان لی۔۔۔اس اثناء میں کافی وقت گذر گیا اور رات مزید گہری ہوگئی۔دونوں نے میری خاطر داری کی اور مجھے بھنا ہوا گوشت گرم گرم روٹی کے ساتھ بنا کر دیا۔ بھوک کی شدت کے سبب میں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ فاطمہ اور یوسف کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مجھے نوالے توڑ کر اپنے ہاتھ سے کھلایں۔ ان کی باتوں سے مجھے پتا چلا کہ میں یعنی ان کا اکلوتا بیٹا کمال بیس سال قبل بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکا جا کر وہیں کا ہو گیا اور کچھ عرصہ رابطے کے بعد اس کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ یہ بیچارے اس کی واپسی کے منتظر تھے۔ کمال کے بچپن سے اس کی جوانی تک کے نہ ختم ہونے والے واقعات تھے جو وہ مجھے ایسے سنا رہے تھے جیسے مجھے یاد دہانی کرا رہے ہوں کہ کس موقع پر کیا ہوا تھا، میں سکول میں کیسا طالب علم تھا، میری کس کے ساتھ گہری دوستی تھی، جب پہلی دفعہ مجھے سائیکل لے کر دی گئی تو میں کتنا خوش تھا، وغیرہ وغیرہ۔ وہ خود ہی مجھ سے سوال کرتے ، خود ہی میری طرف سے جواب دے دیتے۔اُن کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔
مجھے رات سونے کے لیے جو کمرہ دیا گیا وہ سیڑھیاں چڑھ کر ایک کونے میں واقع تھا۔ کمرے میں ایک اور شدید حیران کن منظر میرامنتظر تھا۔ قرینے سے لگے سنگل بیڈ کے داہنی دیوار پر آویزاں ایک لڑکے کی بچپن ، لڑکپن اور جوانی تصاویر آویزاں تھیں جن کو دیکھ کر یہ محسوس ہو تا تھا جیسے یہ میرے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی تصاویر ہیں۔ اس وقت مجھ پر منکشف ہوا کہ اسی مشابہت کی وجہ سے دونوں بزرگوں کو گمان ہوا کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔ نرم و گداز بستر اور تھکاوٹ کے باوجود رات میں نے کشمکش میں گذاری۔ اپنی اہلیہ سے رابطہ نہ ہونے کی پریشانی تو تھی لیکن یہ زیادہ پریشان کن بات اس لیے نہیں تھی کہ روانگی سے قبل ہی میری اس سے بات ہوئی تھی اور سرپرائز دینے کے چکر میں میں نے اسے اپنی روانگی کی اطلاع نہیں دی تھی لہذا وہ میری منتظر نہیں تھی۔ قلق مجھے اس بات کا تھا کہ صبح جب میں فاطمہ اور یوسف کو حقیقت بتاوں گا تو ان کے ارمان چکنا چور ہو جائیں گے، ان کی امید ٹوٹ جائے گی۔ آخر میں نے ایک فیصلہ کیا اورفجر سے کچھ دیر پہلے اٹھا۔ گھر میں مہیب سناٹا تھا، صاف محسوس ہو رہا تھا کہ دونوں میاں بیوی ایک لمبے عرصے کے بعد گہری اور پرسکون نیند سوئے ہیں۔ میں اپنا سامان اٹھائے آہستگی سے دروازہ کھول کر گھر سے دبے قدموں نکل آیا۔
نماز ادا کرنے کے بعد ایک چھوٹے سے ہوٹل میں برائے نام ناشتہ کیا۔ ہوٹل کے مالک نے میری درخواست پر مکینک کو بلانے کے لیے ایک لڑکے کو دوڑا دیا۔ مکینک ایک ادھیڑ عمر باتونی شخص تھا جس نے مجھے اپنی کھٹارا گاڑی میں بٹھایا اور میری خراب گاڑی کی طرف چل پڑے۔مکینک کی بے سروپا باتوں کی طرف میرا قطعاً دھیان نہیں تھا۔ میں خود کو فاطمہ اور یوسف کے سامنے مجرم محسوس کررہا تھا۔ احساس ندامت کو کم کرنے کے لیے میرے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ میں اس مکینک کے ذریعے ان بزرگوں کو معذرت کا پیغام بھجوا دوں اور حقیقت سے آگاہ کر دوں۔ "یہاں جو فاطمہ اور یوسف۔۔۔” میں نے مکینک کو مخاطب کر کے بات شروع کی مگر اس نے میری بات کاٹ ڈالی اور تاسف بھرے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔”بیچارے۔۔۔بہت ظلم کیا ان کے بیٹے نے ان کے ساتھ۔۔۔کوئی اپنوں کے ساتھ ایسے کرتا ہے بھلا؟”۔۔۔ مجھے اس کو بیچ میں ٹوکنا پڑا۔۔۔”اُن کو میرا ایک پیغام دے سکتے ہو؟”۔۔۔مکینک نے شک بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔۔”کیوں مذاق کرتے ہو۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟”۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔ "کیوں؟ کیوں نہیں ہو سکتا؟؟” میں نے استفسار کیا۔۔۔۔مکینک کے جواب نے میرے وجود میں ایک یخ بستہ لہر دوڑا دی۔۔۔
"اپنے ناہنجار بیٹے کی راہ تکتے تکتے وہ دونوں تو پانچ سال پہلے یکے بعد دیگرے انتقال کر گئے”۔




