اُردو ادبافسانہ

وحشت دروں/ ارم رحمٰن، لاہور

جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان
ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراماں محو سفر تھا۔۔۔ اپنی اڑان پہ نازاں۔۔۔تیز ہوا کے دوش پہ تیرتا۔۔۔پروں کولہراتا ادائے بے نیازی سے اڑا جارہاتھا۔۔
کبھی تیزوتند لہروں کی طرح بہت اوپر اور کبھی بہت نیچے۔۔۔
کہ اچانک ایک زوردار جھٹکے سے کسی چیز سے ٹکرایا۔۔ہوش حواس کچھ بحال ہوئے تو خود کو ایک چمکتی ریسمان میں جکڑاپایا۔۔
بہت پھڑپھڑایا۔۔۔چیخا چلایا۔۔۔ پرنم آنکھوں سے ہر سو دیکھا ۔۔۔مگر کوئی نہ تھا اسکی آہ و بکا سننے والا۔۔۔ صیاد بازی جیت گیا تھا۔۔۔
اس جال سے لڑتے لڑتے تھک کے چور ہو گیا۔۔زخمی اور نڈھال۔۔۔ پیاسا ۔۔۔مایوس۔۔۔ تو وہیں ساکت ہوگیا۔۔۔
صیاد کو علم ہی نہ تھاکہ ایک نادر ونایاب طائر اسکی گرفت میں آچکا تھا۔۔صیاد نے نگاہ التفات ڈالی تو طائر کی خشمگیں نظر اسے بےچین کر گئ۔۔ اسکے نرم گرم اور زخمی وجود پہ اس نے ہاتھ پھیرا اور اس کے رستے زخموں پہ اپنے لمس کی شگفتگی سے مرہم لگایا۔۔
پھر جب یک لخت طائر کی طرف دیکھا تو طائر کی چشم تر طمانیت سے بھر گئی تھی۔۔۔
صیاد کے پیاروپچکار اور لمس لطیف کا اثر اتنا گہرا تھا کہ طائر کے لیے ۔۔۔صیاد طبیب حاذق ثابت ہوا۔۔۔۔۔
صیاد کے کچھ دن۔۔رات حیرت وتعذر میں گزرے۔۔۔۔
پھر جیسے ایک لمحہ تقدیس طائر کی زندگی میں آیا۔۔صیاد نے طائر کو پروانہء آزادی تھما دیا۔۔حالانکہ صیاد اور طائر میں تفاوت قلبی پایا جاتاہے۔۔اور دام صیاد میں پھنسنے والا،کبھی رہائی نہیں پاتا۔۔
لیکن طائر شاید صیاد کی دام الفت کا شکار ہو چکاتھا
بے باک اور بےپروا طائر کارواں رواں کانپ اٹھا۔۔۔وہ قشعریرہ ہو چکا تھا۔۔عجب فروتنی کاعالم تھا۔۔ وہی طائر جو آزادی کادیوانہ تھا۔۔ اس کا انداز مستانہ تھا ۔۔اب فریادی کاروپ دھار چکاتھا ۔نیل گگن میں تیرنے والا فروماندہ ہو چکاتھا۔۔۔اسے لگاکہ وہ راندہ درگاہ ہوگیا ۔۔
یہ تنقیہ ازل تھا۔ کہ عاشق آزادی کاطوق نہیں غلامی کا تمغہ ہی سینے پہ سجانا پسند کرتے ہیں
یہ استقرار حقیقت تھاکہ طائر اب صیاد کی قید کامتمنی تھا۔۔
اسنے غلامی کو رہائی پہ ترجیح دی۔۔ بےچین ہوکر صیاد کے قدموں میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
اسکے دو چمکتے گرم آنسو صیاد کے پیروں پہ گرے۔۔۔۔جیسے الوداعی بوسہ دے رہے ہوں۔۔ اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔۔۔
کیونکہ اسکے وجود کو صیاد کے لمس کی کمی گوارا نہ تھی۔۔ اسکی روح کابوجھ اسکے پروں سے کہیں زیادہ ہو گیاتھا۔۔
اب کے بازی پلٹ چکی تھی صیاد مائل بہ کرم تھا اور طائر اڑان بھرنے سے قاصر۔۔۔

طائر کو صیاد سے عشق ہو گیا تھا۔۔!!!

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x