غزل
غزل | جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں | امیر حمزہ سلفی
غزل
جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں
بھاڑ میں جائیں خزانے اور دولت خاک میں
خوبصورت چہرے لے جاتی ہے قسمت خاک میں
اور مل جاتی ہے کیسی کیسی صورت خاک میں
کانپ اٹھتا ہوں میاں انجام اپنا سوچتے
جب کبھی ملتی ہے یاروں کی محبت خاک میں
زندگی بھر بوجھ اِس کا میں اٹھاؤں بھی اگر
مل ہی جائے گی کسی دن میری وحشت خاک میں
دوست! آ بھی جاؤ اب تیمار داری کے لئے
یا کہ کرنے آؤ گے تم بھی عیادت خاک میں
اتنے کاموں میں خیالِ بندگی بھی کب رہا؟
عین ممکن ہے ملے گی تجھ کو فرصت خاک میں
اس جہاں میں مل لیا کر دوستوں سے تو کبھی
کون ملنے کی کرے گا تجھ سے زحمت خاک میں
نوچ کھائے گا تمہیں بھی وقتِ آخر حاکمو
مل ہی جائے گی تمہاری بھی رعونت خاک میں
رب نے مرنے پر بھی حمزہ اک ٹھکانہ دے دیا
اور ہمارے واسطے رکھی سہولت خاک میں




