نظم

سفر زادے | مہرو ندا احمد

سفر زادے

سفر زادے!  

میسر آ

در و دیوار پر کائی جمی ہے 

 تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے ہیں 

دل برباد روتا ہے 

تجھے دنیا کی خوشبو ساتھ لے کر پھر رہی ہے 

اور تو تاخیر پر تاخیر کرتا جا رہا ہے 

یہاں پتھر ہوئی جاتی ہیں آنکھیں 

اور سینے کا روپہلا زخم ادھڑتا جا رہا ہے 

لوٹ آ 

میرے سفر زادے 

ترے پیروں کے چکر نے کسی بےبخت کو اک دائرے میں قید کر رکھا ہے 

اور اس دائرے کی سبز کائی سے اٹی دیوار در دیوار 

پر اگنے لگے ہیں سانپ نیولے

تری بے بخت کو ڈس لیں گے خوش بختا!

مہاریں موڑ 

پِیڑیں* بڑھ رہیں ہیں 

وے طبیبا!

وگرنہ یوں نہ ہو پیارے سفر زادے! 

تو لوٹے تو

جنہیں آباد چھوڑا تھا 

تجھے برباد بھی نہ مل سکیں پیارے سفر زادے

مہاریں موڑ

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x