غزل

غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

غزل 

سعید شارق 

دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی

کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی!

 

​کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے!

سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی

 

​گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ اُترتی ہی نہیں!

لاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹُوٹ گئی!

 

​قریہٴ جاں میں چلی تیز ہَوا، پَل بھر کو

یاد کی شاخ ہِلی اور کَلی ٹُوٹ گئی

 

​کھینچ پڑتی ہے تو آ جاتا ہوں واپس لیکن

کیا کروں گا! جو یہ زنجیر کبھی ٹُوٹ گئی!

 

​جوڑ بیٹھا تھا مَیں اِک روز، کوئی آئینہ

پھر مِرے ہاتھ کوئی شےبھی لگی،ٹُوٹ گئی

 

​بے خیالی میں اسے پھینک دیا تھا، شارِق

اور وہ کانچ کی گُڑیا ہی تو تھی، ٹُوٹ گئی!

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x