غزل | راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے | شاہد ذکی
غزل
راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے
میں نہ چاہوں بھی تو جلنا ہی مری زندگی ہے
چار موسم مرے چہرے ہیں، زمانہ ہوں مَیں
وقت پر رنگ بدلنا ہی مری زندگی ہے
آپ مجھ مہر کو پابند نہیں کر سکتے
اپنی مرضی سے نکلنا ہی مری زندگی ہے
شب سے بچ بھی رہوں تو دھوپ لپک لے گی مجھے
شمع- تربت ہوں پگھلنا ہی مری زندگی ہے
بدگماں! زاویہء دید بدل کر مجھے دیکھ
پھر بھی کھَلتا ہوں تو کھَلنا ہی مری زندگی ہے
کیوں مجھے رشتے بھی اشیا کی طرح ملتے ہیں
کیا کھلونوں سے بہلنا ہی مری زندگی ہے
خاک ہوتا ہوں تو پھر خاک سے اُگ آتا ہوں
دھول سے پھول میں ڈھلنا ہی. مری زندگی ہے
میں بڑھاپے میں بھی بچپن سے کہاں نکلا ہوں
یعنی گر گر کے سنبھلنا ہی مری زندگی ہے
خواہشوں سے نہیں سانپوں سے بھرا آدمی ہوں
اور یہ سانپ کچلنا ہی مری زندگی ہے
گورکن کہیے مجھے ، سچ کی طرح سہیے مجھے
موت پر پھولنا پھلنا ہی مری زندگی ہے
لفظ ڈستے ہیں تو میں زہر سے بھر جاتا ہوں
اور یہ زہر اُگلنا ہی مری زندگی ہے
وقت ہوں اور مرا رُکنا ہے تباہی شاہد
پس میں چلتا ہوں کہ چلنا ہی مری زندگی ہے




