نظم
کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے | زاہد خان
کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے
کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے
یہاں تک کہ سب سُننے والے
پرانے زمانے کی سب چاہتوں کا مزہ چکھ کے
جب سونے لگتے ہیں تب تک
کہانی نئے موڑ سے آنے والے زمانے کا رنگ اوڑھ لیتی ہے
اور یہ حقیقت ہے سب
ایک کوّا جو پیاسا تھا
اب اُس کو کنکر اٹھانے کا یارا نہیں ہے
وہ جو چیخا تھا جنگل میں
شیر آیا شیر آیا
اب گاؤں والوں کو اُس پر یقیں ہے
قناعت بھری داستاں
شیخ سعدی کی ہم سُنتے آئے ہیں
اب وہ کہاں ہے؟
نجانے کہاں ہے؟
کہانی اگر ہم سے روٹھی ہوئی ہے
کہانی اگر ہم سے بیزار ہے تو
اُسے اب منانا پڑے گا
کہانی کے ہمراہ چلنا پڑے گا
ہمیں دیر تک ساتھ جَگنا پڑے گا




