نظم
نظم: مصحفِ عشق
اَے شاہِ حُبّ
جب ہِجر مجھے دو لَخت کر دیتا ہے
تو مَن کرتا ہے
کہ روز تمہیں ایک مَحبّت نامہ بھیجوں
رَنج سے لَبریز ایسا نوحہ
جو دوسری جنگِ عظیم کے پہلے ایٹم بَم سا ہو
تمہاری رُوح
ہیروشیما کی طرح ڈھے جائے
تابکاری کے اثرات
نَسلوں تک میرے کَرب کی گواہی دیتے رہیں
ایسے الفاظ
جو قِرطاس پر نہ ٹھہریں
بلکہ زمین و آسمان کی وُسعت کو ڈبو دیں
ایک ایسا خَط
جو مُصحفِ عُثمانؓی کی طرح پائیدار ہو
وہی توپ قاپی کا نُسخہ
جو چمڑے پر صدیوں پہلے ثبت ہوا
جسے وقت بھی مِٹا نہ سکا۔
یہ گُل مکتوب—
نِصابِ عاشِقان میں
تاحیات ایک لازم باب ٹھہرے
میرے بدن سے کھال نوچ کر
لہو کی روشَنائی سے لکھا جائے
ایسا کہ اس کا ہر حَرف
تم پر لَرزہ طاری کر دے
اگر وہ خَط کسی ساحِر کے ہاتھ لگے
تو اَمرتا کی ساری چِٹھّیاں
راکھ ہو جائیں—
اور سوہنی، ہیر، لیلیٰ، شیریں
اسے مَحبّت کا تعویذ بنا لیں
بطورِ سَندِ عشق
عجائب خانوں میں سجا دیا جائے۔
یہ محض خَط نہ ہو—
مُناجات ہو، فُسوں ہو، عمل ہو
ایک ایسا جادو
کہ جسے پڑھتے ہی تم
تمام فاصلے توڑ کر لوٹ آؤ
مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹو
اور آہستہ سے کہو۔۔۔
چلو گُلونے—
انہی پہاڑوں کے پار چلتے ہیں
جہاں کسی گڈریے نے
دعاؤں کے بدلے بھیڑیں دینے کا وعدہ کیا تھا—
ہمیں کچھ نہیں چاہیے
بس زندگی کی آخری ساعتیں
اِکٹھے گزارنی ہیں۔
کہ مُعجزے اب بھی زندہ ہیں
جب یونس مچھلی کے پیٹ سے نکل آئے
زُلیخا کو یُوسف مل گئے
تو فِکر کیسی؟
بس ایک صدا درکار
کُن فَیَکُون… مولا کُن فَیَکُون



