غزل
غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی
غزل
گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں
بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں
ہمیں کسی نے ابھی تک نہیں کیا دریافت
ہم اپنے وقت کا گمنام برِاعظم ہیں
ہزار افق سے ہمیں دیکھو تو کُھلے تم پر
کہاں سے کتنے اجاگر ہیں کتنے مدھم ہیں
دُکھی ہیں موجۂ بیرنگ کے فراق میں ہم
دھنک پہ بہتے ہوئے پانیوں کا سنگم ہیں
کہیں ہے گلشنِ ناآفریدہ غالب کا
ہم اُس کی آب و ہوا ہیں، اُسی کا موسم ہیں
کسی کے واسطے اک الوداعی گیت ہیں ہم
کسی کے واسطے تقریبِ خیر مقدم ہیں
تمھاری بات ہے ساتوں سُروں کا مجموعہ
تمھارے شبد زمان و مکاں کا سرگم ہیں
مسافرانِ خطِ مستقیم سے کہیے
نئے سفر میں کئی موڑ ہیں، کئی خم ہیں
گنہ ثواب کے لکھنے کو ہیں فرشتے یہاں
وہ ہاتھ چُومیے، جو غم نگارِ آدم ہیں
جہاں نوردی کا نقشہ ہے سامنے شاہد
غبار اڑانے کو رستے کئی فراہم ہیں




