ترجمہ شاعرینظم

مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

زرد پتوں کی گھنی دنیا میں

وہ جو رستے الگ ہوئے تھے،

میں، جو راہروِ سفر تھا رک کر تنہا

بہت دیر تلک محو رہا،

کس سمت جاؤں،میں کس کو اپناؤں،

تاحدِ نظر دیکھا تو فطرت کے خارزاروں میں 

بن کی زلفیں مسافتوں کو نگل رہی تھیں، 

پھر نئی  راہ پہ جادہء پیمان ہوا،

ان چھوئی راہ،

سبزے میں لپٹی ہوئی،

گہری خامشی میں سمٹی ہوئی

کسی کی چاہ کی منتظر،

انجانی گزرگاہ،

پھر جو دیکھا تو،

دونوں رستے ہی ایک جیسے تھے،

جن کی مٹی میں ساعتوں کا

کوئی سراغ تک نہ باقی تھا 

اس صبح،

پتوں کی کہر میں لپٹے ہوئے دونوں رستے

کسی انجان سی دستک کی طرح ساکت تھے،

میں نے سوچا کہ،

یہ پہلا رستہ کبھی اور سہی،

شاید کبھی اور!

میں جو واقف تھا

کہ یہ دونوں رستے،

ہم آغوش سمت میں نہیں پلٹیں گے

وقت کی بے ربط روانی کے تسلسل میں

کاسۂ سفر کبھی رکتا ہی نہیں 

جب کسی دور کے لمحے میں،

کہیں ماضی کی مہک،

سانس لے گی تو میں کہوں گا۔۔۔

وہ جو رستے الگ ہوئے تھے،

تو میں نے فراموش گزرگاہ چنی تھی

اور اسی راہ نے۔۔۔

میری تقدیر بدل دی تھی

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x