نظم
وصال مکرر | ثمین بلوچ

وصال مکرر
روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے
وجود کی کائنات پہ گراں گزرنے لگیں
تو وفورِ محبت ظرف سے سوا ہو جاتا ہے
شفا کا واحد رستہ ’خروج‘ ہے
دھمال!
مٹی کی پیشانی پہ کیا گیا متحرک سجدہ ہے
منطق کی دم توڑتی سانسیں
رقص کو جنم دیتی ہیں
اور تھکن کے زہراب سے امرت کشید کرتے عارف
ہجر و وصال کے تکلفات میں نہیں پڑتے
گھنگھروؤں کی سسکیوں سے بلند ہوتی صدائے "ھُو”
صرف مٹی کو نصیب ہے
مٹی کے چرنوں میں میری شہ رگ ہے




