اُردو ادبافسانہ

شششش / رانا سرفراز احمد

آج اس نے صرف دو پھول توڑے تھے ورنہ اس سے پہلے وہ ساری بہار روزانہ صرف ایک ہی پھول توڑتی اور وہ پھول سارا دن ہاتھ میں سنبھال کر رکھتی اسے ایسا لگتا تھا کہ جیسے اس نے پھول نہیں اپنے بابا کو ہاتھ میں پکڑ رکھا ہو اور وہ ایک لمحہ بھی انہیں کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن آج کے دن دو پھول توڑنے کی وجہ اس کے ننھے سے ذہن میں موجود یہ خواہش تھی کہ آج کے دن وہ اپنی سالگرہ پر خود کو اور اپنے پیارے بابا کو ساتھ ساتھ رکھنا چاہتی تھی۔۔۔ سکول سے واپسی پر اس کو باغ میں ایک بڑے سے آم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھنا اور کام کرنا پسند تھا۔ اس درخت پر اس نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ٹیڑھی میڑھی لائنیں کھینچ کر اپنے بابا کا نام لکھ رکھا تھا۔ اس کی ماں اسے روزانہ یہ کہنا نہ بھولتی کہ کمرے میں بیٹھ کر کام کرو حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا۔
ان پھولوں اور باغ اور درخت کے علاوہ اس کی زندگی میں ایک اور چیز بھی تھی اور یہ تھا ایک میلا سا پرانا سا ربن جو دو سال قبل چھٹی پر آۓ ہوۓ اس کے بابا نے اسے کندھوں پر اٹھا کر لے جا کر دلایا تھا۔ ہر روز سوتے وقت وہ ربن کو دروازے کے قریب لٹکا دیتی اور اسے یہ کہنا کبھی نہ بھولتی کہ اگر میرے سوتے ہوۓ میرے بابا آئیں تو انہیں کہنا کہ میں یہیں دروازے کے پاس کھڑی ہو کر ان کا انتظار کر رہی تھی لیکن رات ہو گئی۔۔۔

آج جب وہ سکول سے واپس آئی تو گاؤں میں بہت شور تھا لوگ ناچ رہے تھے اس نے سکول بیگ رکھا اور اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے باہر کی طرف بھاگی لیکن اس کی ماں نے اسے پکڑ لیا اور باہر جانے سے روک دیا اس نے بہت شور کیا روئی اور بازو چھڑاۓ لیکن اس کی ماں نے اسے جھڑکا اور پھر اسے کچھ بتاۓ بغیر گھر کے اندر لے گئی۔ اس نے اپنا ربن پکڑا، تازہ پھول پکڑا اور گھر کے کھلے حصے میں اگے باغ میں لگے درخت کے نیچے جا بیٹھی اسے اپنی ماں پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ آج اس نے فون پر اپنی پیاری سی نرم و نازک آواز میں بکھرے ہوۓ لفظوں میں ڈھیر ساری شکایتیں کر ڈالیں لیکن فون سے اس کے بابا کی آواز نہ ابھری وہ گویا چپ چاپ سنتے رہے حتیٰ کہ اس کی ماں نے وہ کھلونا فون اس کی ننھے ننھے ہاتھوں سے چھڑایا اور سوئی ہوئی ننھی سی ناعمہ کو اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیا۔

اسے اس بات کا بہت دکھ ہوتا کہ پوسٹ مین انکل ہمیشہ سب کے خطوط لاتے لیکن اس کے بابا کا کوئی خط کیوں نہیں لاتے۔ اس نے اپنی ماں سے پوچھا لیکن اس کے اگلے ہی دن پوسٹ میں اکٹھے کافی سارے خطوط دے گیا۔ اس کی ماں نے اسے تمام خطوط پڑھ کر سناۓ لیکن وہ سن کر مزید اداس ہو گئی۔ ماں کے پاس اس اداسی کا کوئی حل نہ تھا۔ وہ خاموش ہو جاتی اور دیر تک کھوئی کھوئی منتظر نگاہوں سے دروازے کو تکتی رہتی۔ اس وقت اسے اپنا بچپن اور اپنی ماں بہت یاد آتی جب وہ روز شام کو اپنی ماں سے پوچھتی کہ ابا کب آئیں گے اور وہ روز شام کو آ جایا کرتے تھے۔ اسے ننھی ناعمہ پہ اور بھی زیادہ ترس آتا اور وہ اسے ساتھ لپٹا لیتی۔
آج صبح جب ناعمہ اٹھی تو اس کے ہاتھ میں سرخ گلاب کی جگہ کپڑے کا زرد پھول تھا وہ حیران ہو کر باہر دروازے کی طرف دوڑی اس نے دیکھا کہ وہاں اس کا ربن بھی نہیں تھا۔ اس نے بھاگ کر ماں سے پوچھا ماما کیا رات کو بابا آۓ تھے ؟؟؟ ماں نے اسے بتایا کہ ہاں وہ تھوڑی دیر کیلئے آۓ تھے اور تمہیں جگاۓ بغیر پیسر کرتے رہے اور پھر چلے گئے انہیں جلدی تھی۔ ناعمہ کیلئے وہ دن عید بن گیا اس نے اگلے دو ہفتے گھر میں چیخ چیخ کر شور مچا مچا کر گزارے حتیٰ کہ وہ درخت کے پاس بھی نہ بیٹھی نہ ہی اسے ربن یاد آیا۔

اسے کچھ کچھ پڑھنا آ گیا تھا۔ اس نے ایک ہی ماہ میں محنت کر کے اپنی ٹیچر سے سارے خطوط پڑھ کر یاد کر لئے تھے۔
پھر ایک دن اسے پتہ چلا کہ پوسٹ مین انکل اس کے بابا سے ملنے گئے ہیں وہ بہت دن منتظر رہی کہ اس کے بابا اس کیلئے کیا بھیجتے ہیں لیکن پوسٹ مین انکل کبھی واپس نہ لوٹے حتیٰ کہ اس دفعہ بہار میں بھی اس کے بابا کے خطوط نہ پہنچے بہار البتہ پھر سے آئی۔

آج اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ اسے بابا کا ایک خط ملا ہے جو کافی پرانا لگتا ہے۔۔۔ ماں نے گھبرا کر جلدی سے خط اس کے ہاتھ سے لیا اور اسے کہا کہ شام کو مل۔کر پڑھیں گے۔ اسے آج شام کا بہت انتظار تھا۔۔۔
اگلی صبح وہ بیدار ہوئی تو اس کے سرہانے اس کا ربن اور ایک پیلا پھول رکھا ہوا تھا۔ اس نے جا کر درخت کے نیچے ایک پیارا سا مٹی کا گھر بنایا اس کے ارد گرد کبھی نہ مرجھانے والے کپڑے کے سرخ، نیلے اور پیلے پھول لگاۓ۔ اس نے ارد گرد دیکھا اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر "شششش…” کیا۔ گویا ایک لمحے کیلئے سب کچھ ٹھہر گیا ہو۔ اس نے ایک کاغذ وہاں پر تنکے کی مدد سے گاڑ دیا جس پر اس کی ناپختہ لکھائی میں لکھا تھا، "شور مت کرنا۔۔۔ یہاں بابا رہتے ہیں۔۔۔”.
اچانک اس کا ربن ہلکے سے ہلا۔۔۔ گویا کسی نے اسے چھوا ہو۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

3 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
عارفین یوسف
عارفین یوسف
3 days ago

رانا سرفراز صاحب کے افسانہ کے عنوان شششش سے یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے وہ کسی شور مچاتی کلاس کو ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کرا کے کسی بہت ہی اہم بات کے لیے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوں۔ قارئین کے لیے ان کا یہ اشارہ بھی ہے کہ سب کام چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہو کر ان کی بات جو کہ افسانہ کی صورت میں ہے سنیں۔
موضوع نہایت دل گداز اور کردار سازی کمال کی ہے۔ بچوں کے ذہن سے خیال کا اظہار کرنا ایک دشوار امر ہے جو سرفراز صاحب نے کمال خوبصورتی سے نبھایا۔ واقعی کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جن کا ابلاغ بچوں کے معصوم اذہان کے لیے سوہان روح بن سکتا ہے اسی کشمکش سے ناعمہ کی ماں دوچار تھی اور اس بات کا اظہار بھی ماں کی بجائے ناعمہ کے کردار سے کیا گیا۔افسانہ کا اختتام بے بسی کی وہ آخری منزل تھی جس کا ناعمہ کو سامنا تھا اور اس معصوم نے جس طرح اس تلخ حقیقت کو قبول کیا اس کا بیانیہ دل خراش ہے۔ یہی انجام اس افسانے کی جان ہے۔ بہت خوبصورت اور انتہائی اداس کر دینے والا افسانہ۔۔

محمد شاہد محمود
محمد شاہد محمود
2 days ago

باریک فونٹ اور کنجسٹڈ ہونے کے باعث ویب سائٹ پر پڑھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ جو دو سینٹی میٹر کی جگہ ہے وہ بھی اشتہارات نے پر کر دی ہے۔

Related Articles

Back to top button
3
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x