
وسیع رقبے پر پھیلے سکول کی چہارم کلاس میں کھڑکیوں سے چھن کر آنے والی نرم مہربان دھوپ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے ماحول کو گرما رہی تھی۔سورج کی کرنیں محض روشنی نہیں بلکہ کمرے میں بکھری سنہری جادوئی لہریں معلوم ہو رہی تھیں جو معصوم بچیوں کے روشن چہروں اور اجلے یونیفارم سے منعکس ہو کر جماعت کے منظر کو ملکوتی بنا رہی ہوں۔مس مریم کے سراپے سے شفقت ٹپک رہی تھی اور خوشگوار دھیمے رنگ اُن کے شخصیت کے گرد ہالا کیے دکھائی دیتے تھے۔ چہرے پرگرم جوش مسکراہٹ سجائے سفید ریشمی لباس میں ملبوس پینتیس سالہ مس مریم کے انداز میں کسی پرسکون جھیل کی مانند ٹھہراو تھا۔اُن کے ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ اور ضیا پاش نظریں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ آج وہ اپنی طالبات کو تخیل کے ایک ایسے سفر پر لے جانا چاہ رہی ہیں جہاں خواب اور حقیقت ایک دوسرے میں باہم پیوست ہو جائیں۔ "آج ہم اپنا خوابوں کا باغ سجائیں گے” انہوں نے رسیلی آواز میں طالبات کو اپنی طرف متوجہ کیا۔” یاد رہے کہ یہ باغ مصنوعی نہیں ہو گا بلکہ ہم سب کی روح کا عکس ہو گا ” انہیں معلوم تھا کہ یہ الفاظ ان معصوم بچیوں کو سمجھ نہیں آئیں گے لیکن وہ عملی مشق سے ان الفاظ کو طالبات کے اذہان میں راسخ کرنا جانتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مس مریم کی بات سنتے ہی چہارم کلاس کے اس سیکشن بی کی یہ دس کلیاں یوں چہک اٹھیں جیسے کسی طلسمی چمن میں پرندے جاگ اٹھے ہوں۔مس مریم نے طالبات کو کلاس کے درمیان میں رکھی بڑی میز کے گرد جمع کر کے مطلوبہ سامان سب میں بانٹ کر ہر کسی کو اُس کے حصے کا کام سمجھا دیا۔
سرگرمی کا آغاز ہوا تو پریسا نظری کے دلکش دل نما معصوم چہرے کی مومی ناک کے تِل چمک اٹھے۔ اُس نے انہماک کے ساتھ چمکدار گلابی چارٹ سے پرندے بنانے کے لیے ننھے ننھے پر کاٹنا شروع کیے۔ وہ اپنے تخیل کی آنکھوں سے اردگرد تتلیاں اُڑتی اور خود کو ان کے درمیان ہمکتا دیکھ رہی تھی۔اُس نے باغ کے درختوں پر بیٹھے پرندوں کے پَر بنانے کا کام مکمل کیا تو یوں لگا جیسے پورا باغ پَر پھڑپھڑا رہا ہو اور کسی بھی لمحے اڑان بھرنے کو تیار ہو۔ اُدھر رویا منصوری اپنی لمبی پلکیں جھکائے نہایت نفاست سے سفید روئی کے گالوں کو نیلے آسمان کے کینوس پر یوں احتیاط سے رکھ رہی تھی جیسے کوئی درد سے چور جسم پر مرہم کے سکون بخش پھاہے رکھتا ہے۔ایک عمیق سکون کے ساتھ اُس نے مناسب فاصلوں سے کینوس پر روئی کے ایسے بادل ٹکا دیئے جن کو چھو کر مخملی احساسات جاگ اٹھیں اور جو سورج کی تیز و تند شعاعوں کے آگے ڈھال بن کر اہل زمین کو حرارت بخش فرحت پہنچا رہے ہوں۔
شہد جیسی مسکراہٹ والی شیریں احمدی اپنے گول مٹول چہرے اور بائیں گال پر گہرے ڈمپل کے ساتھ بڑی میز پر ایک ایک طالبہ کے پاس مٹکتی ہوئی جا رہی تھی۔ جیسے ہی کوئی رنگ طلب کرنے کے لیے اُس کو اشارہ کرتا یا مدہم آواز میں اُس کا نام پکارتا وہ طالبات میں رنگ بانٹنے کے دوران اُن کے کان میں سرگوشی کر کے کوئی ایسی پیاری بات کہہ جاتی کہ اُن کا چہرہ کِھل اُٹھتا۔ وہ اُس وقت ایک ایسے مالی کا کردار نبھا رہی تھی جو اپنی محنت سے پودوں کو سینچتا اور محبت سے پروان چڑھاتا ہے۔ ستارہ فرخ اپنی ہیرے جیسی آنکھوں سے مکمل خاموشی کے ساتھ تمام پراجیکٹ کے نقشے کا بغور مطالعہ کر رہی تھی۔ اُس نے گہرے نیلے رنگ کے کاغذ سے ستارے کاٹ کر باغ کے راستے پر خوبصورتی سے بچھا دیئے۔ یہ کام کرنے کے دوران اُس کا چہرہ بے حد سنجیدہ اور توجہ نہایت مرکوز تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ حقیقت میں آسمان سے ستارے توڑ کر لارہی ہو۔
میز کے ایک طرف بہتے پانی کی روانی جیسی متحرک اور ہرنی کی آنکھوں والی دریا ترابی کی پرشوق نگاہیں اپنے ہاتھوں سے بنائے نیلگوں پانی کے چشمے پر مرتکز تھیں۔اُس نے باریک چمکدار ریت اور آبی رنگوں کے دھاگوں سے ایک ایسی ندی بنائی جو باغ کے بیچوں بیچ بہتی محسوس ہوتی تھی۔ دریا ترابی کے پُرسکون ماتھے پر ایک دانشمندانہ لکیر موجود تھی جس سے اِس بات کا اظہار ہوتا تھا کہ جیسے اُسے معلوم ہے یہ ندی بہتی ہوئی کہاں جائے گی۔ ہر چیز کو اپنی ترتیب میں رکھنے کے خبط میں مبتلا نازنین زاد کی گندمی رنگت اِس وقت سرشاری سے دمک رہی تھی۔وہ سب کے کام کو گویا ایک لڑی میں پرو کر اُن میں نظم و ضبط لا رہی تھی۔ وہ اس بات کا کامیابی سے اندازہ لگانے کی کوشش میں مشغول تھی کہ تمام طالبات کے کام میں توازن ہو اور کہیں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔ اُس کے عنابی ہونٹوں پر ایک معصومانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی جیسے اُسے اپنے ساتھ ساتھ سب کے اخلاص اورلگن پر بھی مکمل یقین ہو۔
چہرے کی قدرے ابھری ہڈیوں اور آنکھوں میں ذہانت کی چمک لیے رکسانہ وحیدی کا دل اس وقت بلیوں اچھلنے لگا جب اُس کو باغ میں لائٹس بناتے دیکھ کر مس مریم نے بھرپور شاباش دی کیونکہ اِس کام کے لیے کسی کو نہیں کہا گیا تھا یہ خالصتاً رکسانہ وحیدی کے معصوم ذہن کی اختراع تھی۔اُس نے سنہرے جھلملاتے کاغذ کی پنکھڑیاں بنا کر ایسی جگہ لگائیں جہاں سے سورج کی روشنی براہِ راست ٹکرا کر پورے پراجیکٹ کو روشن کر رہی تھی۔ مس مریم کے توصیفی کلمات سُن کر دیگر طالبات لحظہ بھر کے لیے اپنے ہاتھ روک کر رکسانہ کو ستائشی نظروں سے دیکھنے لگیں۔ اُن کے دل بھی ایسے ہی کسی کام کے لیے مچلنے لگے جس کو دیکھ کر مس مرہم اُن کی تعریف کریں اور یوں سب تندہی سے کام میں پھر سے مشغول ہو گئے۔اُجلی سُرخ و سپید رنگت اور تنے ہوئے ابرو والی بہار سلطانی نے گویا میز پر رنگوں کا دھماکہ کر دیا شکر ہوا کہ اس سے پراجیکٹ کو کوئی گزند نہ پہنچی۔ وہ ایسے پھول بنانے کے لیے کوشاں تھی جس کی پنکھڑیاں پنکھے کی ہوا کی مدد سے اصل پھولوں کی طرح لہرا رہی ہوں۔ اُس کی توانائی نے پوری جماعت کو ایک نئی زندگی دے دی تھی۔
اُٹھتی ہوئی تھوڑی اور پرعزم چہرے والی آرزو کریمی کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ کچھ بڑا کرنے کا سوچ رہی ہے۔ وہ کام کرنے کے دوران اپنے دائیں بائیں طالبات کو سرگوشیوں میں بتا رہی تھی کہ دیکھنا ہمارا باغ بالکل اصل معلوم ہو گا۔ دوسری طرف لالہ نیک نام اپنی لمبی گردن جھکائے انتہائی باریک بینی سے کاغذ سے لالہ کے پھول تیار کر رہی تھی۔اِس کے نازک ہاتھ بے حد صفائی کے ساتھ چل رہے تھے۔اُس نے ان پھولوں کو باغ کی باڑ کے ساتھ یوں لگایا جیسے وہ باغ کے گرد ایک خوبصورت حفاظتی باڑ کا کام دے رہے ہوں جس میں کوئی دخل انداز نہ ہو سکے۔
دوگھنٹوں کی مسلسل محنت کے بعد کام مکمل ہوتے ہی کمرے میں ایک غیر مرئی مہک پھیل گئی۔طالبات نے مس مریم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ کھڑکیوں سے در آنے والی ہوا جب اس پراجیکٹ پر سے سرسراتی ہوئی گزری تو کاغذ کے پھول جھوم کر رہ گئے اور پرندے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہوئے محسوس ہوئے، ایسا لگا جیسے پورا کمرہ سانس لے رہا ہو۔ مس مریم کی گدگداتی آواز ابھری۔۔” شاباش میری بچیوں، تم سب نے ایک بھرپور کارنامہ سرانجام دیا ہے” سب طالبات کے چہرے خوشی سے کھلکھلا اُٹھے جیسے وہ خود اس جادوئی باغ کی سب سے خوبصورت کلیاں ہوں۔
اس سے پہلے کہ مس مریم مزید کچھ کہتیں یوں لگا جیسے آسمان کو گھٹا ٹوپ بادلوں نے ڈھانپ لیا ہو اور گھن گرج کی کان پھاڑ دینے والی آوازیں آنے لگیں۔ مس مریم نے بے اخیتار پاس کھڑی طالبات کو اپنے بازووں میں بھینچ لیا۔ طالبات میں سراسمیگی پھیل گئی۔ زوردار دھماکوں نے زمین کی کوکھ ہلا کر رکھ دی۔ ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ جادوئی باغ آن واحد میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہوا میں بکھر گیا۔ وہ کمرہ جو ایک لمحہ پہلے قہقہوں، رنگوں اور خوابوں سے مہک رہا تھا ایک پل میں کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگا۔ پریسا کے من موہنے پنکھ خون میں لت پت تھے، رویا کے مخملی بادل کالی راکھ میں بدل گئے، شیریں کے خون آلود ہاتھ ساکت ہو چکے تھے،،ستارہ کی آنکھوں کے ہیرے بے نور ہو گئے، دریا کی روانی سلب ہو گئی، نازنین کی بنائی تمام تر ترتیب کا شیرازہ بکھر گیا، رکسانہ کا روشن دل بجھ گیا، بہار پر خزاں غالب آ گئی، آرزو کی تمنا دم توڑ گئی، لالہ کے پھول انگارے بن گئے۔۔۔۔۔ مس مریم کا سفید ریشمی لباس تار تار کفن بن چکا تھا۔ میزائلوں کی تباہ کُن بارش نے چہارم کلاس کو قبرستان میں بدل ڈالا۔
مس مریم نے بند ہوتی خون آلودہ آنکھوں سے آخری دفعہ دیکھا کہ تمام تر تباہی کے سامنے صرف ایک کونپل اپنے پورے وجود کے ساتھ خم ٹھونک کر کھڑی تھی۔



