غزل
غزل | چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں | ذی شان مرتضی
غزل
چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں
میں ننگے پاؤں اترا اس کے دل میں
تصور میں بسی ہے ایک صورت
سمو جاتی ہے دنیا جس کے تل میں
جبھی ناسور بھرنے لگ گئے ہیں
نمک کم ہے ہمارے آب و گل میں
بشر اب اپنی من مانی کرے گا
خدا محبوس ہے پتھر کی سل میں
نہیں ہے خوف خونی بھیڑیوں کا
کسی معصوم پیغمبر کے دل میں
Author
URL Copied





بہت شکریہ اردو ورثہ ، بہت شکریہ توحید زیب