غزل
غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

غزل
کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں
لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں
دلاسے دے کے سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے
میں غم کا بوجھ اٹھا کر اکیلا بیٹھا ہوں
بچا نہیں کوئی حرفِ تسلی اپنے لیے
شریکِ غم کو سُلا کر اکیلا بیٹھا ہوں
کسی طرح تری موجودگی نہ بن پائی
زمیں کا چاک گھما کر اکیلا بیٹھا ہوں
میں بیٹھتا تھا کبھی اس کے پہلو میں حارث
اب اس کی قبر پہ آ کر اکیلا بیٹھا ہوں




