غزل
غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری
غزل
کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے
دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے
عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں
کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے
میں ترے شہر تحیر سے کبھی گزرا تھا
لوگ تکتے ہیں مجھے آج بھی حیرانی سے
کیا عجب بھوک ہے بڑھتی ہے تجھے دیکھنے سے
کچھ عجب پیاس ہے مٹتی ہی نہیں پانی سے
اس کو پا لینے میں اک عمر کا پچھتاوا تھا
میں بچا لایا ہوں اس دل کو پشیمانی سے
شوق ہجرت میں مرے شہر پہ یہ وقت آیا
دل بھی ویران ہوئے شہر کی ویرانی سے
دم گھٹا جاتا تھا افراطِ محبت سے جواز
بھاگ نکلا میں محبت کی فراوانی سے




