نظم

گُل فروش | ثمرین اعجاز

گُل فروش

کبھی جو گزروں کسی خاموش،

 نم آلود گلی سے  

جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں  

وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے  

جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک رکھا ہو  

پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے  

پھولوں کی خوشبو جیسے سانسوں میں،

 ماضی کی نرم لوریاں گنگنائے  

چھوٹا سا بورڈ جھولتا ہو ہوا کے ساتھ،  

جس پر دھندلی سی تحریر ہو ؛

"گُل فروش: یادوں کا سوداگر”

دکان میں داخل ہوتے ہی؛  

گلابوں کی سرخ خاموشی،  

چنبیلی کی معصوم خوشبو،

بے ساختہ استقبال کرے  

لیونڈر کی اداس نرمی،  

اور موتیا کی چپ سی مسکان،  

دِل کو ایک لمحے میں قید کرے

گلِ داؤدی کی خفیف مسکراہٹ،

وقت کو ٹھہرا دے

اور کنول کی ٹھنڈی سانس  

دل کی دھڑکنوں کو خوابیدہ کرے

کاسنی سوسن کی نگاہوں جیسی گہرائی، 

روح کو چھو جائے 

جبکہ گیندے کی زرد چمک،  

دھوپ جیسے پھیل جائے

نرگس کی تنہائی بھری خوشبو،  

یادوں کی گلیوں میں لے جائے  

اور سفید للی کا تقدس،  

فضا کو عبادت سا بنا دے

  دھوپ کی دھاری چھن چھن کے،

کھڑکی کے شیشے پر پڑتی ہو  

پھولوں کے بیچ بیٹھا ایک بوڑھا 

جھریوں میں چھپی روشن آنکھیں لیے،

اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے

ہر پھول کو ایسے چھوتا ہے،  

جیسے کسی خواب کو سنوار رہا ہو

کسی خوشنما یاد کو پکار رہا ہو 

میں پوچھوں اُس سے  

"کیا یہ سب صرف بیچنے کو ہے؟”  

وہ مسکرا کر، آہستگی سے جواب دے  

"نہیں،کچھ پھول صرف یادوں کے ہوتے ہیں”  

پھر وہ دکھائے اک گلدستہ  

جس پر مٹیالے کاغذ پر لکھا ہو 

"ناقابلِ فروحت”

اور آہستہ سے کہے؛  

"یہ اُس کی آخری پسند تھی  

جسے میں آج بھی ہر صبح پانی دیتا ہوں،

کہیں وہ خوشبو کم نہ ہو جائے”  

اور باہر گلی میں  

دھوپ، جیسے اس اداسی کو چپ چاپ لپیٹنے لگے  

اور میں وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے  

اپنے اندر کچھ نرم پنکھڑیاں محسوس کروں

معلوم ہے؟

کچھ کہانیاں فقط الفاظ نہیں

خوشبو سناتی ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x