اُردو ادبتبصرہ کتب

افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس اور اس کے چھن جانے کے خوف، شعور کی بیداری کا خوف، صنفی عدم مساوات، مرد و عورت کے درمیان طاقت کے حصول کی خواہش، محلاتی سازشوں کی طاقت اور طاقتوروں کے ہاتھوں کمزور کے استحصال، علمیت اور بادشاہت کے درمیان فرق اور علم کی بالادستی کے اظہار جیسے متنوع اور فلسفیانہ مسائل کے گرد گھومتا ہے۔ ریاست اور ریاستی معاملات جس مشینی اور غیر شعوری اطاعت و تابع فرمانی کا تقاضہ کرتے ہیں انسان اور اس کا شعور اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا تھا کہ ہم اللّٰہ کی تقسیم پر راضی ہیں جس نے ہمیں علم اور دوسروں کو دولت و حکومت عطا فرما دی۔ بیشک طاقت و ریاست کبھی بھی شعور کی بیداری کو برداشت نہیں کر سکتے چاہے شعور پھیلانے والی ایک شہزادی ہی کیوں نہ ہو۔ افسانہ اسی تصادم کا ادبی اظہار ہے۔

‎کردار نگاری کو دیکھیں تو شہزادی نوجوان نسل کی نمائندہ ذہین، فطین، بیدار مغز اور اپنی سماجی و صنفی حدود سے آگاہ ہے اور علم و تحقیق کو اپنی اصل شناخت سمجھتی ہے۔ بادشاہ کے سامنے ادب و احترام کے باوجود دلیل کے ساتھ بات کرتی ہے۔ ’’پدر محترم! خدا جانبدار نہیں‘‘ — اس جملے میں اس کی فکری آزادی اور روحانی اجتہاد دونوں جھلکتے ہیں۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہے، مگر ’عورت‘ ہونے کی وجہ سے اس کی ذہانت تخت و شاہ دونوں کیلئے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

‎بادشاہ رعشہ زدہ جسم اور لرزتی شخصیت اقتدار کے زوال کی علامت ہے۔ بڑھاپے کے باوجود کنیزوں کے لمس سے سرور پانا اقتدار اور جنسی خواہشات کے ملاپ سے طاقت کے ساتھ در آنے والے اخلاقی معائب کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ شہزادی سے علمی سوال تو کرتا ہے، مگر اس کے جواب سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ’’مرد جہاں دیدہ و زیرک طبع کم یاب ہوگئے؟‘‘ اس فقرے میں مردانہ خوف اور عورت کو حقیر سمجھنے کی جھلک پائی جاتی ہے اس طرح بادشاہ دراصل مردانہ نظامِ اقتدار کا نمائندہ ہے۔



‎ملکہ اور شہزادہ دونوں بظاہر خاموش تماشائی نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنے باپ کی سلطنت کو شہزادی کی صورت میں درپیش خطرے کو بھانپ رہے ہیں۔ ملکہ کی پھیلی ہوئی آنکھیں اور شہزادے کا پہلو بدلنا گویا درباری سیاست کی خاموش سفّاکی کی علامت ہے۔


‎کنیزیں بادشاہ کی خوشامد کرتی ہیں، مگر درحقیقت یہ خوشامد ان کی زندہ رہنے کی جنگ کا ایک ہتھیار ہے۔ ان کے بے آواز قدم شاہی محل کے جبر و استبداد کا ایک خاموش استعارہ ہیں۔

‎دایہ امبو افسانے کی سب سے مضبوط علامتی شخصیت ہے۔ یہ کردار عورت کے تجربے، نسلوں کی دانش اور صبر کی روایت کی نمائیندگی کرتا ہے۔ دایہ کا مکالمہ پورے افسانے کا فلسفیانہ مرکزی خیال ہے۔ "کیا مرد نے کبھی عورت کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے آپ کو اس کے جیسا انسان کہے؟” اس کا یہ ڈائیلاگ کہ "سچے موتی اچھال اچھال کر تماشا دکھانے کے لیے نہیں ہوتے” نہایت حقیقت پسندانہ تجربے کے قیمتی جواہر ہیں۔ مجموعی طور پر دایہ کی گفتگو عورت کے صدیوں پر محیط جبر اور قربانیوں کا نچوڑ ہے۔


‎اب اگر علامت نگاری کی طرف آئیں تو صبحِ کاذب ایک  جھوٹی روشنی، جھوٹے نظام کا استعارہ معلوم ہوتی ہے۔ افسانے کا عنوان پوری کہانی کی فلسفیانہ بنیاد ہے:
‎ایک جھوٹی روشنی جسے صبح سمجھ لیا جائے مگر وہ صبح نہ ہو۔۔۔ یہی محل کی زندگی ہے۔ظاہری شوکت، اندر سے ظلم۔ بقول اقبال، "چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر۔۔۔

‎خرگوش، مور، چکور محل کی زندگی میں خوف و قید کی علامات ہیں۔ خرگوش کا جھانک کر بھاگ جانا گویا طاقت کے سامنے کمزور کا فطری ردِعمل محسوس ہوتا ہے۔ مور و چکور کا آہستہ چلنا تھکن زدہ زندگی کی  علامت محسوس ہوتی ہے۔
‎بادشاہ کے ہاتھ کانپنا جسمانی بیماری نہیں، اخلاقی و سیاسی زوال کی علامت ہے۔
‎آم کے بور کی مہک کا شہزادی کی کمرے میں داخل ہونا شہزادی کی فطرتی خوبصورتی معصومیت اور تخلیقی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔
‎دریچے، ریشمی کپڑا، سنہری تاریں عورت کی شناخت اور محنت کا استعارہ ہیں۔ یہ چیزیں عورت کی ثقافتی وراثت، نزاکت اور ہنر کی نمائندہ ہیں مگر یہ ہنر بھی بادشاہت کے مقابلے میں بے بس نظر آتا ہے۔

‎اسلوب اور ٹیکنیک کی بات کریں تو جملے تصویری منظر کشی کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ افسانے کی نثر رنگوں، خوشبوؤں اور لمس سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔

‎ہر منظر کے پیچھے ایک استعارات کی دنیا ہے محل کی سجاوٹ، جبر، کنیزیں، کمزور عورت، شراب، حلوہ، رس، لذت و جبر کی ملاوٹ وغیرہ۔

‎افسانے میں بظاہر تو بادشاہ کا ہاتھ رعشہ کے باعث کانپتا ہے تاہم دراصل شہزادی کے شعور کی بیداری کے باعث اس کا اقتدار کانپ رہا ہے۔ جیسے آمروں کا اقتدار کانپتا ہے۔

‎اور سب سے آخر پر "صبح کاذب ہے صبح صادق نہیں۔۔۔”
‎ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
‎میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا.

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x