اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب : بادل/مسعود اختر خان : تبصرہ : محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

روز مرہ بات چیت کے دوران محاوروں اور ضرب الامثال کا استعمال بات چیت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ موسم کے حوالے سے متعدد محاورے اور کہاوتیں زبانِ زدِ عام ہیں۔ کبھی گرم مزاج تو کبھی سرد مہری، ہو بہو بدلتے موسموں کی طرح انسان کا مزاج بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ لہٰذا موسم کے حوالے سے زیادہ تر محاورے اور کہاوتیں، بدلتے موسموں کے ذریعے بدلتے ہوئے انسانی رویوں اور حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ موسمی تغیر میں بادلوں کا بہت عمل دخل ہے۔ کلائمیٹ چینج اور گلوبل وارمنگ جیسی اصطلاحات بادلوں کے ہونے یا نہ ہونے کی مرہونِ منت ہیں۔ انہیں بادلوں کے متعلق تحقیقاتی ادارے قائم کیے گئے، جنہیں محکمہ موسمیات کا نام دیا گیا اور انہیں بادلوں پر کتابیں بھی لکھیں گئیں۔ لیکن اردو زبان میں بادلوں پر کوئی ایک بھی سیر حاصل کتاب دستیاب نہ تھی۔

؏ لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
(پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی)

بالآخر مسعود اختر خان صاحب نے اُردو زبان میں بادلوں پر سیر حاصل کتاب "بادل” لکھی۔ کتاب "بادل” شائع ہونے کی کہانی کچھ ایسی ہے کہ اس پر الگ سے ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ بہر کیف کتاب "بادل” نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ستمبر ۲۰۲۵ء میں شائع کی، یہ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے۔ کتاب میں متعدد، بلکہ ہر صفحے پر ہی رنگین تصاویر شامل ہیں۔ کتاب کی افادیت، انفرادیت اور رنگین تصاویر مد نظر رکھتے ہوئے، چاہیے تو یہ تھا کہ کتاب چکنے کاغذ یعنی آرٹ پیپر پر شائع کی جاتی۔ لیکن CMYK آفسیٹ طرز کی پرنٹنگ عام سادہ کاغذ پر کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے کتاب کی قیمت بہت زیادہ یعنی آرٹ پیپر کی مناسبت سے رکھی گئی ہے۔ گو کہ یہ ادارہ سستی اور معیاری کتابوں کے لیے مشہور ہے۔

مسعود اختر خان صاحب کا قلمی نام اختر شہاب ہے۔ قلمی نام سے آپ کے افسانوی مجموعے، جنگی روئداد اور سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ مسعود اختر خان صاحب سال 2015ء میں محکمہ موسمیات سے بحیثیت پرنسپل میٹرولوجسٹ (ڈائریکٹر) ریٹائر ہوئے ہیں۔ سائنس کے میدان میں، اردو زبان میں بادلوں کے متعلق طبع شدہ کتاب "بادل” کے علاوہ آپ کی مزید دو کتابیں فیس بک پر آپ کے پیج "Meteorology by Masood Khan”
پر دستیاب ہیں۔ اسی پیج پر متعدد انگریزی کتابوں میں آپ کا لکھا تالیف شدہ مواد بھی دستیاب ہے۔

کتاب "بادل” بادلوں سے متعلق تکنیکی معلومات کے لیے اردو زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی منفرد کتاب ہے۔ ہم روز مرہ زندگی میں بادل دیکھ کر پیش گوئیاں کرتے ہیں کہ بارش ہو گی کہ یا پھر نہیں ہو گی۔ زیر نظر کتاب اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ یہ کتاب بادلوں کی مدد سے موسمی پیش گوئیاں کرنے میں مددگار ثابت ہو گی جبکہ عام قارئین کے لیے بھی اس کتاب میں بہترین معلوماتی مواد شامل ہے۔ یہ کتاب ایک سو پچپن صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب میں تہ در تہ اکیس باب شامل ہیں۔ تہ در تہ باب اس لیے کیونکہ ہر باب کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے مزید باب بنائے گئے ہیں، تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے۔ سائنسی تحقیق کا پیش لفظ افسانہ نگار اختر شہاب صاحب کے مخصوص اسلوب میں لکھا نظر آ رہا ہے۔ کتاب کی افادیت سمجھنے کے لیے کتاب پڑھنے سے پہلے کتاب کا مقدمہ اور "بادل خواستہ” پڑھنا ضروری ہے۔ کُل ملا کر یہ کہ جب سائنس دان ادیب بھی ہو تب سائنسی تحقیق دلچسپ اسلوب میں پڑھنے کو ملتی ہے، جیسا کہ کتاب "بادل۔”

کچی پکی جماعت میں ہم سبھی نے پڑھا ہے کہ بادل کیسے بنتے ہیں۔ ابھی تک بادل بننے کی وہی ترکیب ہمارے اذہان میں محفوظ ہے۔ کیونکہ اس سے آگے ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ہے۔ ایک آبی بخارے سے لے کر ایک بارش کا قطرہ بننے تک اور پھر ایک بارش کے قطرے سے بادل بننے کی ترکیب ہمیں اس کتاب میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہزاروں ٹن پانی ہوا میں کیسے معلق رہتا ہے۔ نصابی کتب میں صرف یہ پڑھایا گیا کہ گرمی سے بادل اوپر کی جانب اٹھتے ہیں۔ کتاب "بادل” ہمیں بتاتی ہے کہ حرارت کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح سے بادل اوپر کی جانب اٹھتے ہیں۔ کتاب "بادل” کی وساطت سے ہمارے علم میں یہ بھی آتا ہے کہ سن ۱۸۰۳ء میں بادلوں کے نام رکھے گئے اور بادلوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا جبکہ بادلوں کے ناموں کے لحاظ سے بادلوں کو دس اقسام میں تقسیم کیا گیا۔ ان دس اقسام کی تفصیلات کتاب "بادل” میں درج ہیں۔ ہوائی جہاز کے اڑنے سے جو سفید لکیر بنتی ہے، دھواں نہیں بلکہ بادل ہے۔ اس کے علاوہ دھویں کے بادل، آتش فشاں پھٹنے سے بننے والے بادل، ایٹم بم کے پھٹنے سے بننے والے بادل، تیز حرارت والے بادل، خصوصی بادل جو سرپرائز دیتے ہیں۔ بادلوں کے رنگ الگ الگ کیوں ہیں، بادلوں میں گھن گرج کیوں ہوتی ہے، بادلوں میں بجلی کیوں چمکتی ہے۔ جب چاند موجود ہو اور جب اماوس کی رات ہو، رات کو بادل پہچاننے کا طریقہ کار کیا ہے۔ بادلوں کی ترتیبات اور آسمان کی ۲۷ حالتیں۔ نچلی پرواز والے بادل، درمیانی پرواز والے بادل اور اونچی پرواز والے بادل۔ اس کے علاوہ بھی مثلاً پائلٹ غبارہ کیا ہے، بادلوں کی شناخت کا عمل اور دیگر سیر حاصل معلومات ہمیں ۱۷ویں باب تک رنگین تصاویر کے ساتھ پڑھنے کو ملتی ہیں۔

باب ۱۸ میں تعلیم دی گئی ہے اور تفصیلاً سمجھایا گیا ہے کہ مشاہدے کی بنیاد پر بادلوں کی مدد سے موسمی پیش گوئی کیسے کی جاتی ہے۔ اسی باب کے دوسرے حصے میں بادلوں کے متعلق دلچسپ حقائق بیان کیے گئے ہیں اور اردو ادب میں لفظ بادل کا استعمال بتایا گیا ہے۔ یہاں پر مسعود اختر خان صاحب کا اُردو ادب سے شغف عیاں ہوتا ہے۔ آپ نے سائنسی تحقیقات کو دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب کا پہلا حصہ ہے جو ۲۰ باب پر مشتمل ہے۔

یہاں سے اکیسواں باب اور کتاب کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اس حصے کا نام Cloud Practical یعنی بادلوں کو زمزیہ شکل میں ریپورٹ کرنا ہے۔ یہ میٹ آفس کی کوڈنگ ڈی کوڈنگ ہے۔ قارئین کتاب کی مدد سے یہ کوڈنگ ڈی کوڈنک سیکھ سکتے ہیں۔ یہ پندرہ صفحات کا مکمل کورس ہے۔ جس کی مدد سے موسمیاتی ریپورٹ پڑھی جا سکتی ہے اور موسمی ریپورٹ تشکیل دی جا سکتی ہے۔ کتاب "بادل” کا مطالعہ مکمل ہونے پر یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ یہ کتاب، محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ مسعود اختر خان صاحب کے تجربات کا اور آپ کی زندگی کا نچوڑ ہے۔ جو آپ نے ملک و قوم کے لیے ایک پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیا ہے۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ:
نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد
فون: 92519261125+

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
Rana Sarfraz
Rana Sarfraz
1 hour ago

اور ہم آج تک ہوائی جہاز کے دھویں کو محض دھواں ہی سمجھتے رہے۔۔۔ انشاء اللہ اردو کا دامن ایسے سائنسی موضوعات پر لکھی گئی کتب سے لبریز ہو جاۓ گا۔

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x