نظم

منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

منحرف پرچموں کے پھریرے

قسم دروازے کی

جو اولین دیوار کا دیباچہ بنا

امر ہونے کی تمنا میں

جسے دیوتاؤں کے معبد کو ہدیہ کیا گیا

قسم دروازے کی جو خداوند کے نام سے منسوب ہوا

 

قسم دروازے کی

جو مقدس ترین مکان کا چہرہ ہے

ثروت مندوں پہ جس کا طواف واجب ہے

شہنشاہ جس کی چوکھٹ کے دربان ہیں

جسے چھونے کی تمنا

ان گنت پیشانیوں میں رینگتی ہے

قسم دروازے کی

جس کا غلاف 

نابینا آنکھوں کے لیے روشنی ہے

 

قسم دروازے کی

جس کی اوٹ 

آفتابی چہروں کے لیے مطلعِ ہے

اس کے گرد امید وار نظروں کا ہجوم ہے

وہ اپنی جانب اٹھنے والی آنکھوں میں دکھ کاشت کرتا ہے

قسم دروازے کی

جس کے پہلو میں آبِ گریہ بہتا ہے

 

قسم دروازے کی

جسے کھٹکھٹانے والے ہاتھ دستک کا ہنر بھول گئے

جس کے نواح میں

گمنام عاشقوں کے دل مدفن ہیں

اس کی چوکھٹ پہ فراق کی کائی اُگ رہی ہے

قسم دروازے کی

جو محبوب ہاتھوں کی دستک کو 

پہچانتا ہے

 

قسم دروازے کی

جو انمول خزانوں کی گزر گاہ ہے

جس کے نگہبان ضمیر کے سوداگر ہیں

اس کی سنہری چابیاں فاتحین کو ہدیہ کی گئیں

قسم دروازے کی

جو شہرِ علم کی طرف کھلتا ہے

 

قسم دروازے کی

جسے تہذیبوں کے سنگم پہ نصب کیا گیا

جس کے روبرو

منحرف پرچموں کے پھریرے لہراتے ہیں

جو بُریدہ سروں کا استقبال کرتا ہے

قسم دروازے کی

چراغ جس کی حفاظت پہ مامور ہے 

 

قسم دروازے کی

آسمان کی اوٹ میں بیٹھی سیاہ رات

اس صبح کو کات رہی ہے

جس کا سورج

شمال سے طلوع ہو گا

جب چپٹی ناک والے خواب گاہوں سے نکل کر 

تمہاری عورتوں کی کوکھ تک آ پہنچیں گے

تمہارے پہاڑ

اچانک سونا اُگلنے لگیں گے

اور تمہارے خون کا درجہ حرارت گر جائے گا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x