مٹی کی خوشبو | اعجازالحق

مٹی کی خوشبو
ہوائیں جب اچانک رخ بدل کر
گنگناتی ہیں
پرانے منظروں کی دھول میں لپٹے ہوئے لمحے
کسی بھولی ہوئی تصویر کے مانند
جب آنکھوں میں اترتے ہیں
تو پچھلے سال کی وہ ڈائری خود ہی
کسی بھی یاد کے پنے پہ جا کر کھل سی جاتی ہے
عجب اک خواب کی صورت
تمہارے ہاتھ کی وہ پوریں مجھ کو یاد آتی ہیں
جنہیں چھونے کی خواہش میں
کئی موسم مرے آنگن سے ہو کر گزرتے ہیں
مگر اب کے جو بارش کی یہ بوندیں
بام و در پر دستکیں دے کر
مجھے گھر سے بلاتی ہیں
تو دل میں ایک کسک سی جاگ اٹھتی ہے
کہیں یہ ابر کا ٹکڑا
تمہارے شہر کی خوشبو چرا لایا نہ ہو مجھ تک
کہیں یادوں کے اس بے انت جنگل میں
میں پھر سے کھو نہ جاؤں
یہ بادل، یہ ہری شاخیں، یہ نیلے پھول سب مل کر
مرے رستے میں یادوں کے نئے خیمے لگاتے ہیں
مجھے ڈر ہے
کہ رت کی یہ فسوں کاری
کسی نادیدہ رستے پر مجھے پھر سے نہ لے جائے
جہاں تنہائی کی بارش میں بھیگے خواب بستے ہیں
یہ بادل اور یہ بیتے ہوئے دن اب کے پھر مل کر
مری آنکھوں کی دہلیزوں پہ آ کر بیٹھ جاتے ہیں
اور اس خالی دریچے کی اداسی میں
تمہاری یاد کی خوشبو بکھرتی ہے
تو یہ محسوس ہوتا ہے
کہ اب کے بار بھی یہ سرد رت، یادیں اور یہ منظر
مجھے مٹی کی خوشبو میں تڑپتا چھوڑ جائیں گے



