نظم

خوف | لیلیٰ ہاشمی

خوف

تمام شب

یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر

تمہیں سوچتی ہوں

دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر

شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے

شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں

میں چونک جاتی ہوں

خامشی کی قاتل، قدموں کی چاپ سے

میں ڈر جاتی ہوں

احساس کے پیڑ پر پتوں کے چٹخنے سے

اس الجھن کے عالم میں

یادوں کی کوئی کتاب

میں اس خوف سے نہیں کھولتی

کہ اس کتاب میں تیرے دیئے ہوۓ

آخری گلاب کے پھول کی سوکھی پتیاں

پھر مہکنے نہ لگ جائیں..!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x