
خوف
تمام شب
یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر
تمہیں سوچتی ہوں
دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر
شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے
شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں
میں چونک جاتی ہوں
خامشی کی قاتل، قدموں کی چاپ سے
میں ڈر جاتی ہوں
احساس کے پیڑ پر پتوں کے چٹخنے سے
اس الجھن کے عالم میں
یادوں کی کوئی کتاب
میں اس خوف سے نہیں کھولتی
کہ اس کتاب میں تیرے دیئے ہوۓ
آخری گلاب کے پھول کی سوکھی پتیاں
پھر مہکنے نہ لگ جائیں..!
Author
URL Copied




