نظم
آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی
آنے والے خوبصورت کل کے نام
تمھارے بالوں کی قسم!
جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں
تم اس وقت کی مانند سچی ہو
جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں
میرا دل تمھاری سلطنت ہے!
اس میں بے پناہ کشادگی کے باوجود
ان عورتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں
جنہوں نے مجھ پر روح کی بجائے جسم کے در وا کئے
میرے سر سے بدبختی کے بادل چھٹ گئے ہیں
اور اچھے دنوں کے سورج کی کرنیں
بنتِ شہابل* کے آنگن میں
میرے باپ کے قدموں کی طرح داخل ہوتی ہیں
وہ دن دور نہیں
جب میرے گاؤں کی عورتیں
کپاس چُنتے وقت ہمارے بارے میں باتیں کریں گی
اور ہمارے گھر کے دروازے پر
شرینہہ کے پتے لٹک رہے ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ شہابل* میری ماں




