غزل
غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان
غزل
بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ
ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ
اسی در پر پڑے پڑے مر جا
اب کوئی اور آستاں مت دیکھ
اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے
وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ
رائے جو بھی ہو تیری اپنی ہو
کون رکھتا ہے کیا گُماں مت دیکھ
اُڑ چکا ہے تو آسمان کو جا
ایسے مُڑ مُڑ کے آشیاں مت دیکھ
آسماں کو زمین پر دے مار
کون آتا ہے درمیاں مت دیکھ
اس طرح تُو مجھے گنوا دے گا
میں جہاں ہوں مجھے وہاں مت دیکھ




